SHAWORDS
Sarvat Husain

Sarvat Husain

Sarvat Husain

Sarvat Husain

poet
44Shayari
65Ghazal

Popular Shayari

44 total

Ghazalغزل

See all 65
غزل · Ghazal

اسی زمین پر ایک ختن ہے جس میں اک آہو رہتا ہے جس کے ہونٹھ پہ تل ہے ثروتؔ آنکھوں میں جادو رہتا ہے پھر وہ لڑکا ان آنکھوں کی گہرائی میں ڈوب گیا تھا بیس برس کی حیرانی میں کب دل پر قابو رہتا ہے اس کے ہجر میں مر سکتا ہوں اس کو قتل بھی کر سکتا ہوں میری ہر چاہت میں شامل نفرت کا پہلو رہتا ہے باغ سے باہر ریگستان اور گرم ہواؤں کے لشکر ہیں باغ کی دیواروں کے اندر موسم ابر و سبو رہتا ہے وہ بھی دن تھے اس کی خاطر جمع کئے تھے پھول اور آنسو اب تو ان ہاتھوں میں ثروتؔ کھلا ہوا چاقو رہتا ہے

isi zamin par ek khutan hai jis mein ik aahu rahtaa hai

غزل · Ghazal

کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیں کسی نگر کسی بن میں قیام اپنا نہیں ہوا کے ساتھ ہوا بارشوں میں بارش ہیں کسی شجر کسی پتے پہ نام اپنا نہیں تلاش دل کو بیابان شام ہجراں کی کہ ان ہواؤں میں خواب و خرام اپنا نہیں کبھی کبھی کوئی بادل گزر ہی جاتا ہے نہیں کہ سلسلۂ صبح و شام اپنا نہیں بہت سے لوگ ہیں آشفتہ کار و خاک بسر جہاں تلک ہے یہ صحرا تمام اپنا نہیں

koi nishaan sar-e-divaar-o-baam apnaa nahin

غزل · Ghazal

تیز چلنے لگی ہوا مجھ میں کوئی پتے گرا رہا مجھ میں اے مرے اندروں بتا کچھ تو کیا خداوند ہے چھپا مجھ میں میں دھنک اوڑھ کر نکلتا ہوں پھول ہے ایک خوش نما مجھ میں دوستو اب نہیں رہا باقی حوصلہ امتحان کا مجھ میں یہ طلوع و غروب کے منظر ابتدا مجھ میں انتہا مجھ میں

tez chalne lagi havaa mujh mein

غزل · Ghazal

پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر دیکھوں کبھی موجود و میسر سے نکل کر آئے کوئی طوفان گزر جائے کوئی سیل اک شعلۂ بے تاب ہوں پتھر سے نکل کر آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر تا دیر رہا ذائقۂ مرگ لبوں پر اک نیند کے ٹوٹے ہوئے منظر سے نکل کر ہر رنگ میں اثبات سفر چاہئے ثروتؔ مٹی پہ دھرو پاؤں سمندر سے نکل کر

pahnaae-bar-o-bahr ke mahshar se nikal kar

غزل · Ghazal

سحر ہوگی تارے چلے جائیں گے یہ ساتھی ہمارے چلے جائیں گے کسی اجنبی سرزمیں کی طرف کنارے کنارے چلے جائیں گے سنو شب گئے بھیڑ چھٹ جائے گی یہ عشاق سارے چلے جائیں گے ترستی رہے گی زمیں دھوپ میں سبھی ابر پارے چلے جائیں گے وہ آئے نہ آئے مگر دوستو اسے ہم پکارے چلے جائیں گے تو کیا ان اندھیرے مکانوں میں ہم یوںہی دن گزارے چلے جائیں گے

sahar hogi taare chale jaaeinge

غزل · Ghazal

ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا گھوڑے کی باگیں تھامے ہوئے شہزادہ سوچ رہا ہو گا دو رویہ گلاب کے پودوں پر رنگوں کی بہار سجی ہوگی پتھر کی کالی سیڑھیوں پر اک دیا ابھی جلتا ہو گا مٹی کے منقش پیالوں پر صدیوں کی گرد جمی ہوگی اڑ جانے والے پرندے کا پنجرا کیسا لگتا ہو گا اڑتے بالوں کی اوٹ کئے ہاتھوں میں زرد چراغ لئے اسی ٹھنڈے فرش کے صحرا پر کوئی ننگے پیر چلا ہو گا خاموش چراگاہوں کے لئے کوئی بادل ایسا گیت لکھوں انہی دھوپ بھرے میدانوں میں کہیں بھیڑوں کا غلہ ہو گا

in unchi surkh fasilon kaa darvaaza kis par vaa hogaa

Similar Poets