SHAWORDS
Shaukat Wasti

Shaukat Wasti

Shaukat Wasti

Shaukat Wasti

poet
5Sher
5Shayari
15Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

masti hai kaifiyat hai nasha hai sharaab hai

مستی ہے کیفیت ہے نشہ ہے شراب ہے تیری نگاہ بادہ کدوں کا جواب ہے تیری نظر کا کیف شرابوں کی آرزو تیرے لبوں کا رنگ گلابوں کا خواب ہے اے دوست آج مل کہ ہے دل سخت گرمجوش اے دوست آج آ کہ نظر پر شباب ہے واجب سہی تلاوت جام و نگار و گل دل کو بھی پڑھ کہ یہ بھی مقدس کتاب ہے آیا حدیث دل میں تری ذات کا بیان اس کو سنا یہاں سے یہ دلچسپ باب ہے ہر چیز پر جو آج مسلط ہے بے حسی شوکتؔ زمانہ منتظر انقلاب ہے

غزل · Ghazal

khud-shanaasi ho to har moajiza imkaan mein hai

خود شناسی ہو تو ہر معجزہ امکان میں ہے ایک چھوٹی سی خدائی ہر اک انسان میں ہے تو اگر بعد خدا خود کو نہ سمجھے برحق پھر سمجھ لے کہ خلل کچھ ترے ایمان میں ہے ہے مری جاں میں ترے جسم کی کیفیت لمس گو مرے پاس ہے تو اور نہ مرے دھیان میں ہے فصل گل آئی تو ہم نذر کریں گے اب کے وہ جو اک تار ابھی اپنے گریبان میں ہے داستاں گو کو ترے ذکر سے فرصت تو ملے نام میرا بھی اس افسانے کے عنوان میں ہے دل نے رکھا نہ قدم شہر بدن سے باہر ذات اس کے سبب آوارہ بیابان میں ہے کوئی سمجھائے تو شوکتؔ مرے چارہ گر کو یہ بدن دیکھتا ہے اور خلش جان میں ہے

غزل · Ghazal

jo log apni zaat mein gumraah ho gae

جو لوگ اپنی ذات میں گمراہ ہو گئے واعظ بنے فقیہ ہوئے شاہ ہو گئے بڑھتی گئی ہے آپ سے نا واقفی مزید ہم جس قدر مزاج سے آگاہ ہو گئے طرہ بڑھا کے آئے جو قامت پہ کچھ بزرگ دراصل قد میں اور بھی کوتاہ ہو گئے جب حوصلہ ہوا تو بنے کوہ یار لوگ کم ہمتی ہوئی تو پر کاہ ہو گئے شوکتؔ اہم بھی خاص کہاں تھے معاملے جو خواہ طے ہوئے ہی نہیں خواہ ہو گئے

غزل · Ghazal

bikhre to phir baham mire ajzaa nahin hue

بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے جرم شکست جام بھی بے جا نہیں ہوئے ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ہوئے انساں ہیں اب تو مدتوں ہم دیوتا رہے شکلیں نہیں بنیں جو ہیولیٰ نہیں ہوئے ٹھہرو ابھی یہ کھیل مکمل نہیں ہوا جی بھر کے ہم تمہارا تماشا نہیں ہوئے ہر سر سے آسمان کی چھت اٹھ نہیں گئی کب تجربے میں شہر یہ صحرا نہیں ہوئے شوکتؔ دیار شوق کی رونق انہی سے ہے جو اپنی ذات میں کبھی تنہا نہیں ہوئے

غزل · Ghazal

junun sukun khirad iztiraab chaahti hai

جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے طبیعت آج نیا انقلاب چاہتی ہے نہ آج تیری نظر سے برس رہا ہے نشہ نہ میری تشنہ لبی ہی شراب چاہتی ہے نہیں سرور مسلسل نباہ پر موقوف مدام آنکھ کہاں لطف خواب چاہتی ہے سنا رہا ہوں فسانہ تری محبت کا یہ کائنات عمل کا حساب چاہتی ہے وہ عزم ہائے سفر لا زوال ہوتے ہیں حیات موت کو جب ہم رکاب چاہتی ہے جھلس رہا ہے بدن دھوپ میں جوانی کی یہ آگ زلف کا گہرا سحاب چاہتی ہے حریف حسن و محبت ہو دیر تک شوکتؔ نگار عمر وہ عہد شباب چاہتی ہے

غزل · Ghazal

ham aziiz is qadar ab ji kaa ziyaan rakhte hain

ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں دوست بھی رکھتے ہیں تو دشمن جاں رکھتے ہیں ہاں وہی لوگ جو دل دادۂ فصل گل تھے ہیں وہ بیزار کے ارمان خزاں رکھتے ہیں ذہن افسردہ ہوا ایسا کہ اعصاب ہیں شل ورنہ ہم نام خدا قلب جواں رکھتے ہیں سائے سے کرتے ہیں ہم اپنے کڑی دھوپ میں اوٹ آنکھ کی تیرگی میں نور فشاں رکھتے ہیں لب محبوب ہو پیمانۂ صافی ہو کہ زہر جسم جل اٹھتا ہے ہم ہونٹ جہاں رکھتے ہیں ہم سفر کوئی جہاں چھوڑ کے چل دیتا ہے اسی منزل کا لقب سنگ گراں رکھتے ہیں جس جگہ دل تھا وہاں حسرت دل باقی ہے جس جگہ زخم تھا اب صرف نشاں رکھتے ہیں لڑکھڑا جاتے ہیں مے خانہ ہو جیسے دنیا لاکھ ہم پاؤں سنبھل کر بھی یہاں رکھتے ہیں ان کی دزدیدہ نگاہوں کو دعا دو شوکتؔ ورنہ معلوم جو ہم طبع رواں رکھتے ہیں

Similar Poets