"'shaukat' hamare saath baDa hadisa hua ham rah ga.e hamara zamana chala gaya"

Shaukat Wasti
Shaukat Wasti
Shaukat Wasti
Sherشعر
'shaukat' hamare saath baDa hadisa hua
شوکتؔ ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا
baDe vasuq se duniya fareb deti rahi
بڑے وثوق سے دنیا فریب دیتی رہی بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے رہے
ajiib baat hai din bhar ke ehtimam ke ba.ad
عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد چراغ ایک بھی روشن ہوا نہ شام کے بعد
ravish ravish pe chaman ke bujhe bujhe manzar
روش روش پہ چمن کے بجھے بجھے منظر یہ کہہ رہے ہیں یہاں سے بہار گزری ہے
mujhe to ranj qaba-ha-e-tar-tar ka hai
مجھے تو رنج قبا ہائے تار تار کا ہے خزاں سے بڑھ کے گلوں پر ستم بہار کا ہے
Popular Sher & Shayari
10 total"baDe vasuq se duniya fareb deti rahi baDe khulus se ham e'tibar karte rahe"
"ajiib baat hai din bhar ke ehtimam ke ba.ad charagh ek bhi raushan hua na shaam ke ba.ad"
"ravish ravish pe chaman ke bujhe bujhe manzar ye kah rahe hain yahan se bahar guzri hai"
"mujhe to ranj qaba-ha-e-tar-tar ka hai khizan se baDh ke gulon par sitam bahar ka hai"
'shaukat' hamaare saath baDaa haadisa huaa
ham rah gae hamaaraa zamaana chalaa gayaa
baDe vasuq se duniyaa fareb deti rahi
baDe khulus se ham e'tibaar karte rahe
ajiib baat hai din bhar ke ehtimaam ke baad
charaagh ek bhi raushan huaa na shaam ke baad
ravish ravish pe chaman ke bujhe bujhe manzar
ye kah rahe hain yahaan se bahaar guzri hai
mujhe to ranj qabaa-haa-e-taar-taar kaa hai
khizaan se baDh ke gulon par sitam bahaar kaa hai
Ghazalغزل
masti hai kaifiyat hai nasha hai sharaab hai
مستی ہے کیفیت ہے نشہ ہے شراب ہے تیری نگاہ بادہ کدوں کا جواب ہے تیری نظر کا کیف شرابوں کی آرزو تیرے لبوں کا رنگ گلابوں کا خواب ہے اے دوست آج مل کہ ہے دل سخت گرمجوش اے دوست آج آ کہ نظر پر شباب ہے واجب سہی تلاوت جام و نگار و گل دل کو بھی پڑھ کہ یہ بھی مقدس کتاب ہے آیا حدیث دل میں تری ذات کا بیان اس کو سنا یہاں سے یہ دلچسپ باب ہے ہر چیز پر جو آج مسلط ہے بے حسی شوکتؔ زمانہ منتظر انقلاب ہے
khud-shanaasi ho to har moajiza imkaan mein hai
خود شناسی ہو تو ہر معجزہ امکان میں ہے ایک چھوٹی سی خدائی ہر اک انسان میں ہے تو اگر بعد خدا خود کو نہ سمجھے برحق پھر سمجھ لے کہ خلل کچھ ترے ایمان میں ہے ہے مری جاں میں ترے جسم کی کیفیت لمس گو مرے پاس ہے تو اور نہ مرے دھیان میں ہے فصل گل آئی تو ہم نذر کریں گے اب کے وہ جو اک تار ابھی اپنے گریبان میں ہے داستاں گو کو ترے ذکر سے فرصت تو ملے نام میرا بھی اس افسانے کے عنوان میں ہے دل نے رکھا نہ قدم شہر بدن سے باہر ذات اس کے سبب آوارہ بیابان میں ہے کوئی سمجھائے تو شوکتؔ مرے چارہ گر کو یہ بدن دیکھتا ہے اور خلش جان میں ہے
jo log apni zaat mein gumraah ho gae
جو لوگ اپنی ذات میں گمراہ ہو گئے واعظ بنے فقیہ ہوئے شاہ ہو گئے بڑھتی گئی ہے آپ سے نا واقفی مزید ہم جس قدر مزاج سے آگاہ ہو گئے طرہ بڑھا کے آئے جو قامت پہ کچھ بزرگ دراصل قد میں اور بھی کوتاہ ہو گئے جب حوصلہ ہوا تو بنے کوہ یار لوگ کم ہمتی ہوئی تو پر کاہ ہو گئے شوکتؔ اہم بھی خاص کہاں تھے معاملے جو خواہ طے ہوئے ہی نہیں خواہ ہو گئے
bikhre to phir baham mire ajzaa nahin hue
بکھرے تو پھر بہم مرے اجزا نہیں ہوئے سرزد اگرچہ معجزے کیا کیا نہیں ہوئے جو راستے میں کھیت نہ سیراب کر سکے کیوں جذب دشت ہی میں وہ دریا نہیں ہوئے انسان ہے تو پاؤں میں لغزش ضرور ہے جرم شکست جام بھی بے جا نہیں ہوئے ہم زندگی کی جنگ میں ہارے ضرور ہیں لیکن کسی محاذ سے پسپا نہیں ہوئے انساں ہیں اب تو مدتوں ہم دیوتا رہے شکلیں نہیں بنیں جو ہیولیٰ نہیں ہوئے ٹھہرو ابھی یہ کھیل مکمل نہیں ہوا جی بھر کے ہم تمہارا تماشا نہیں ہوئے ہر سر سے آسمان کی چھت اٹھ نہیں گئی کب تجربے میں شہر یہ صحرا نہیں ہوئے شوکتؔ دیار شوق کی رونق انہی سے ہے جو اپنی ذات میں کبھی تنہا نہیں ہوئے
junun sukun khirad iztiraab chaahti hai
جنوں سکون خرد اضطراب چاہتی ہے طبیعت آج نیا انقلاب چاہتی ہے نہ آج تیری نظر سے برس رہا ہے نشہ نہ میری تشنہ لبی ہی شراب چاہتی ہے نہیں سرور مسلسل نباہ پر موقوف مدام آنکھ کہاں لطف خواب چاہتی ہے سنا رہا ہوں فسانہ تری محبت کا یہ کائنات عمل کا حساب چاہتی ہے وہ عزم ہائے سفر لا زوال ہوتے ہیں حیات موت کو جب ہم رکاب چاہتی ہے جھلس رہا ہے بدن دھوپ میں جوانی کی یہ آگ زلف کا گہرا سحاب چاہتی ہے حریف حسن و محبت ہو دیر تک شوکتؔ نگار عمر وہ عہد شباب چاہتی ہے
ham aziiz is qadar ab ji kaa ziyaan rakhte hain
ہم عزیز اس قدر اب جی کا زیاں رکھتے ہیں دوست بھی رکھتے ہیں تو دشمن جاں رکھتے ہیں ہاں وہی لوگ جو دل دادۂ فصل گل تھے ہیں وہ بیزار کے ارمان خزاں رکھتے ہیں ذہن افسردہ ہوا ایسا کہ اعصاب ہیں شل ورنہ ہم نام خدا قلب جواں رکھتے ہیں سائے سے کرتے ہیں ہم اپنے کڑی دھوپ میں اوٹ آنکھ کی تیرگی میں نور فشاں رکھتے ہیں لب محبوب ہو پیمانۂ صافی ہو کہ زہر جسم جل اٹھتا ہے ہم ہونٹ جہاں رکھتے ہیں ہم سفر کوئی جہاں چھوڑ کے چل دیتا ہے اسی منزل کا لقب سنگ گراں رکھتے ہیں جس جگہ دل تھا وہاں حسرت دل باقی ہے جس جگہ زخم تھا اب صرف نشاں رکھتے ہیں لڑکھڑا جاتے ہیں مے خانہ ہو جیسے دنیا لاکھ ہم پاؤں سنبھل کر بھی یہاں رکھتے ہیں ان کی دزدیدہ نگاہوں کو دعا دو شوکتؔ ورنہ معلوم جو ہم طبع رواں رکھتے ہیں





