jise dekho ghazal pahne hue hai
bahut sastaa ye zevar gayaa hai

Vikas Sharma Raaz
Vikas Sharma Raaz
Vikas Sharma Raaz
Popular Shayari
40 totalasar hai ye hamaari dastakon kaa
jahaan divaar thi dar ho gayaa hai
kaun tahlil huaa hai mujh mein
muntashir kyuun hain anaasir mere
yahaan tak kar liyaa masruf khud ko
akeli ho gai tanhaai meri
tanhaa hotaa huun to mar jaataa huun main
mere andar tu zinda ho jaataa hai
meri koshish to yahi hai ki ye maasum rahe
aur dil hai ki samajhdaar huaa jaataa hai
rafta rafta qubul honge use
raushni ke liye nae hain ham
tu bhi naaraaz bahut hai mujh se
zindagi tujh se khafaa huun main bhi
hamaare darmiyaan jo uTh rahi thi
vo ik divaar puuri ho gai hai
mujh ko aksar udaas karti hai
ek tasvir muskuraati hui
ek baras aur biit gayaa
kab tak khaak uDaani hai
aisi pyaas aur aisaa sabr
dariyaa paani paani hai
Ghazalغزل
دشت تنہائی سے گزرنے کا تجربہ لکھ رہا ہوں ڈرنے کا اس کی رفتار سے تو لگتا ہے وہ کہیں بھی نہیں ٹھہرنے کا نیند ٹوٹی تو مجھ کو چین پڑا خواب دیکھا تھا اپنے مرنے کا چکھ لیا ہے مجھے اداسی نے زخم شیریں نہیں یہ بھرنے کا تن سے پتھر بندھے ہوئے ہیں مرے میں نہیں سطح پر ابھرنے کا
dasht-e-tanhaai se guzarne kaa
سارے دکھ اس دکھ میں ضم کرتے رہتے ہیں اپنے ہونے کا ماتم کرتے رہتے ہیں آنے والی رت کی پذیرائی کے بدلے جانے والی رت کا غم کرتے رہتے ہیں یکجا ہو جائیں تو وحشت گھٹ جاتی ہے سو خود کو درہم برہم کرتے رہتے ہیں کام بڑے ہوتے ہیں ہم کو تنہائی میں کھدر لفظوں کو ریشم کرتے رہتے ہیں مہلک ہوتے ہیں یہ چھوٹے موٹے غم بھی جیون کی لو کو مدھم کرتے رہتے ہیں پلکیں موند کے پہلے دشت بناتے ہیں ہم اور پھر بیٹھے بیٹھے رم کرتے رہتے ہیں
saare dukh is dukh mein zam karte rahte hain
فصیل شب پہ تاروں نے لکھا کیا میں محو خواب تھا تم نے پڑھا کیا فضا میں گھل گئے ہیں رنگ کتنے ذرا سی دھوپ سے بادل کھلا کیا ہواؤں کو الجھنے سے ہے مطلب مری زنجیر کیا تیری ردا کیا بدن میں قید ہو کر رہ گئی ہے ہماری روح کا تھا مدعا کیا شجر کی بے لباسی پوچھتی ہے ہر اک پتا گرا تھا بے صدا کیا جسے بھی دیکھیے وہ نیند میں ہے ہمارے شہر کو آخر ہوا کیا چراغ اک دوسرے سے پوچھتے ہیں سبھی ہو جائیں گے رزق ہوا کیا ابھی تو راکھ ہونا ہے بہت کچھ ابھی سے رازؔ چھاتی پیٹنا کیا
fasil-e-shab pe taaron ne likhaa kyaa
برگ ریزوں سے رفاقت ہے مری کتنی آسان وضاحت ہے مری کیا وہی گھر جہاں لکھا ہے عشق کیا اسی گھر میں سکونت ہے مری حرف تھا اور سخن تک پہنچا قابل رشک مسافت ہے مری دشت زادوں کو نہیں بھاتی ہے کچھ الگ طرح کی وحشت ہے مری ایک تم ہی نہیں عاری مجھ سے ان دنوں مجھ کو بھی قلت ہے مری اب کے وہ رنج بہت دکھ دے گا اب کے جس رنج میں شرکت ہے مری
barg-rezon se rifaaqat hai miri
رت کے لبوں پر کوئی دعا بھی نہیں ہے اور درختوں کو کچھ گلہ بھی نہیں ہے ذکر کریں اور بار بار کریں ہم ہجر کوئی ایسا واقعہ بھی نہیں ہے خیر خبر کیا ہو مجھ کو شام طرب کی میرا تو اس سے مکالمہ بھی نہیں ہے لوٹ رہا ہوں اسی کی سمت بہر حال شہر جو مجھ کو پکارتا بھی نہیں ہے میری طرح کون بے سخن ہے یہاں رازؔ میری طرح کوئی لب کشا بھی نہیں ہے
rut ke labon par koi du'aa bhi nahin hai
درد آلود ساز کی آواز یہ خزاں اور یہ ہری آواز ایک نقطے پہ جب ہوا مرکوز مجھ کو آنے لگی مری آواز اس لیے تو خلا میں آیا ہوں مجھ کو سننی ہے لفظ کی آواز دیکھ محراب شب چمک اٹھی نور نقاش ہے مری آواز تجربہ خامشی پہ تھا میرا اور ایجاد ہو گئی آواز شور بازار سے بھی گزرا ہوں ڈھونڈھنے اپنے کام کی آواز اس قدر نقص ہے سماعت میں صبح سنتا ہوں شام کی آواز اب مکمل ہوا ہے سناٹا اب نہیں آ رہی کوئی آواز
dard-aalud saaz ki aavaaz





