SHAWORDS
Zaheer Dehlvi

Zaheer Dehlvi

Zaheer Dehlvi

Zaheer Dehlvi

poet
38Shayari
30Ghazal

Popular Shayari

38 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

دل گیا دل کا نشاں باقی رہا دل کی جا درد نہاں باقی رہا کون زیر آسماں باقی رہا نیک ناموں کا نشاں باقی رہا ہو لیے دنیا کے پورے کاروبار اور اک خواب گراں باقی رہا رفتہ رفتہ چل بسے دل کے مکیں اب فقط خالی مکاں باقی رہا چل دیے سب چھوڑ کر اہل جہاں اور رہنے کو جہاں باقی رہا کارواں منزل پہ پہنچا عمر کا اب غبار کارواں باقی رہا مل گئے مٹی میں کیا کیا مہ جبیں سب کو کھا کر آسماں باقی رہا مٹ گئے بن بن کے کیا قصر و محل نام کو اک لا مکاں باقی رہا آرزو ہی آرزو میں مٹ گئے اور شوق آستاں باقی رہا عیش و عشرت چل بسے دل سے ظہیرؔ درد و غم بہر نشاں باقی رہا

dil gayaa dil kaa nishaan baaqi rahaa

غزل · Ghazal

بتوں سے بچ کے چلنے پر بھی آفت آ ہی جاتی ہے یہ کافر وہ قیامت ہیں طبیعت آ ہی جاتی ہے یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہم ان کو چھوڑ بیٹھیں ہیں جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے وہ اپنی شوخیوں سے کوئی اب تک بعض آتے ہیں ہمیشہ کچھ نہ کچھ دل میں شرارت آ ہی جاتی ہے ہمیشہ عہد ہوتے ہیں نہیں ملنے کے اب ان سے وہ جب آ کر لپٹتے ہیں محبت آ ہی جاتی ہے کہیں آرام سے دو دن فلک رہنے نہیں دیتا ہمیشہ اک نہ اک سر پر مصیبت آ ہی جاتی ہے محبت دل میں دشمن کی بھی اپنا رنگ لاتی ہے وہ کتنے بے مروت ہوں مروت آ ہی جاتی ہے ظہیرؔ خستہ جاں شب سو رہا کچھ کھا کے سنتے ہیں تعجب کیا ہے انساں کو حمیت آ ہی جاتی ہے

buton se bach ke chalne par bhi aafat aa hi jaati hai

غزل · Ghazal

کچھ شکوے گلے ہوتے کچھ طیش سوا ہوتا قسمت میں نہ ملنا تھا ملتے بھی تو کیا ہوتا جاتے تو قلق ہوتا آتے تو خفا ہوتے ہم جاتے تو کیا ہوتا وہ آتے تو کیا ہوتا شکوؤں کا گلا کیا ہے انصاف تو کر ظالم کیا کچھ نہ کیا ہوتا گر تو میری جا ہوتا گر صلح ٹھہر جاتی سو فتنے اٹھے ہوتے اچھا ہے نہ ملنا ہی ملتے تو برا ہوتا سوچو تو ظہیرؔ آخر وہ جور تو کرتا ہے میں اس سے گلا کر کے محروم جفا ہوتا

kuchh shikve-gile hote kuchh taish sivaa hotaa

غزل · Ghazal

نو گرفتار قفس ہوں مجھے کچھ یاد نہیں لب پہ شیون نہیں نالہ نہیں فریاد نہیں نازنیں کوئی نئی بات تو پیدا ہو کبھی ظلم میں لطف ہی کیا ہے اگر ایجاد نہیں میں بشر ہوں مرے ملنے میں برائی کیا ہے آپ کچھ حور نہیں آپ پری زاد نہیں وائے تقدیر کہ جب خوگر آزار ہوئے وہ یہ فرماتے ہیں ہم مائل بیداد نہیں

nau-giraftaar-e-qafas huun mujhe kuchh yaad nahin

غزل · Ghazal

مرادیں کوئی پاتا ہے کسی کی جان جاتی ہے ہزاروں دیکھنے والے تری چتون کے بیٹھے ہیں عدو عاشق سہی مانا اسی پر منحصر کیا ہے ابھی تو چاہنے والے بہت بچپن کے بیٹھے ہیں صبا کیا خاک اڑائے گی عدو کیا قہر ڈھائیں گے وہ خود پامال کرنے کو مرے مدفن کے بیٹھے ہیں سراغ نقش پائے غیر شاید اپنا رہبر ہو سر راہ طلب ہم منتظر رہزن کے بیٹھے ہیں

muraadein koi paataa hai kisi ki jaan jaati hai

غزل · Ghazal

دل کو آزار لگا وہ کہ چھپا بھی نہ سکوں پردہ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں مدعا سامنے ان کے نہیں آتا لب تک بات بھی کیا غم دل ہے کہ سنا بھی نہ سکوں بے جگہ آنکھ لڑی دیکھیے کیا ہوتا ہے آپ جا بھی نہ سکوں ان کو بلا بھی نہ سکوں وہ دم نزع مرے بہر عیادت آئے حال کب پوچھتے ہیں جب کہ سنا بھی نہ سکوں زندگی بھی شب ہجراں ہے کہ کٹتی ہی نہیں موت ہے کیا ترا آنا کہ بلا بھی نہ سکوں دم ہے آنکھوں میں اسے جان میں لاؤں کیونکر کب وہ آئے کہ انہیں ہاتھ لگا بھی نہ سکوں شرم عصیاں نے جھکایا مری گردن کو ظہیرؔ بوجھ وہ آ کے پڑا ہے کہ اٹھا بھی نہ سکوں

dil ko aazaar lagaa vo ki chhupaa bhi na sakun

Similar Poets