SHAWORDS
Zain

Zain

Zain

Zain

poet
16Shayari
28Ghazal

Popular Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 28
غزل · Ghazal

ہم کو اس شوخ نے کل در تلک آنے نہ دیا در و دیوار کو بھی حال سنانے نہ دیا پردۂ چشم میں ہر دم تو چھپائے آنسو بے قراری نے مجھے راز چھپانے نہ دیا مجھ کو آلودہ رکھا اس مری گمراہی نے عرق شرم گنہ بھی تو بہانے نہ دیا تیرے کہنے سے میں اب لاؤں کہاں سے ناصح صبر جب اس دل مضطر کو خدا نے نہ دیا منع ہے بس کہ خور و خواب ہمیں غم میں تیرے مر کے سونے نہ دیا زہر بھی کھانے نہ دیا ہوں ستم گر میں جفاؤں سے تری شرمندہ ناتوانی نے مجھے سر بھی اٹھانے نہ دیا دم کا آنا تو بڑی بات ہے لب پر عارفؔ ضعف نے حرف شکایت کبھی آنے نہ دیا

ham ko us shokh ne kal dar talak aane na diyaa

غزل · Ghazal

عاشق ہوئے تھے جو کہیں رسوا نہیں ہوں میں میں مر گیا ہوں آپ پہ زندہ نہیں ہوں میں کیا بے خودی میں خدمت‌ مے خانہ ہو سکے پیر مغاں سے طالب صہبا نہیں ہوں میں ساقی ہنسے ہے کیا مجھے دو تین دے کے جام پی کر خم شراب ہی بہکا نہیں ہوں میں کیا گھٹ کے لاغری سے حقیقت میں بڑھ گیا نظروں میں جو کسی کی سماتا نہیں ہوں میں عارفؔ مرے کلام کو انصاف کر کے دیکھ فن سخن میں ہم سر سوداؔ نہیں ہوں میں

aashiq hue the jo kahin rusvaa nahin huun main

غزل · Ghazal

ہوویں برعکس بھلا کیوں نہ وہ اغیار سے خوش کسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوش ہر دعا پر ہمیں دشنام میسر ہے کہاں شامت نفس ہے گر ہوویں نہ سرکار سے خوش نقد دل بھی جو کوئی دے کے نہ مانگے بوسہ وہ ہوا کرتے ہیں بس ایسے خریدار سے خوش غور سے میں نے جو دیکھا تو کہیں عالم میں کوئی ہوگا نہ زیادہ ترے بیمار سے خوش کیا عجب مجھ سے خفا ہووے اگر وہ عارفؔ کسی معشوق کو دیکھا نہ وفادار سے خوش

hovein bar-aks bhalaa kyuun na vo aghyaar se khush

غزل · Ghazal

وحشت میں یاد آئے ہے زنجیر دیکھ کر ہم بھاگتے تھے زلف گرہ گیر دیکھ کر جب تک نہ خاک ہو جیے حاصل نہیں کمال یہ بات کھل گئی ہمیں اکسیر دیکھ کر عذر گناہ داور محشر سے کیوں کروں غم مٹ گیا ہے نامۂ تقدیر دیکھ کر ہوں تشنہ کام دشت شہادت زبس کہ میں گرتا ہوں آب خنجر و شمشیر دیکھ کر عارفؔ چھپا تو ہم سے ولے ہم تو پا گئے جو بات ہے یہ رنگ کی تغییر دیکھ کر

vahshat mein yaad aae hai zanjir dekh kar

غزل · Ghazal

نہ گلا تجھ سے نہ کچھ ہے فلک پیر سے رنج جو پہنچتا ہے سو مجھ کو مری تقدیر سے رنج ہو گئی اس سے سوا موت کی جلدی سے خوشی جس قدر ہم کو ہوا تھا تری تاخیر سے رنج شب کو گھبرا کے وہ الٹے گئے اغیار کے گھر ان کو کیا مجھ کو ہوا آہ کی تاثیر سے رنج ہم سے ہر روز الجھنا جو یہی ہے اس کا ہو کے رہ دے گا تری زلف گرہ گیر سے رنج سرخ رو ہم کو رکھا بے اثری نے عارفؔ اس کو پہنچا نہ کبھی نالۂ شب گیر سے رنج

na gilaa tujh se na kuchh hai falak-e-pir se ranj

غزل · Ghazal

ان کی اور میری کسی روز لڑائی نہ گئی بات بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائی نہ گئی ہم نے ہر چند ملا ان کو بہت روغن قاز پر کسی شکل ذرا ان کی رکھائی نہ گئی کیوں نہ کھاتا ترے ملنے کی قسم ہو کے یہ تنگ تھی مگر زہر سے بھی تلخ کہ کھائی نہ گئی اس قدر ضعف میں آواز نکلتی تو کہاں ہم سے زنجیر در یار ہلائی نہ گئی اس کے دیدار سے محروم نزاکت نے رکھا دونوں ہاتھوں سے نقاب اس سے اٹھائی نہ گئی گریۂ چشم نے سو بار اٹھایا طوفاں پر ذرا آتش دل میری بجھائی نہ گئی مر گئے پھر بھی وہ مضطر ہے مرا دل عارفؔ خاک میں لاش کسی طور دبائی نہ گئی

un ki aur meri kisi roz laDaai na gai

Similar Poets