SHAWORDS
Zeeshan Sahil

Zeeshan Sahil

Zeeshan Sahil

Zeeshan Sahil

poet
13Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

13 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کوئی قصور نہیں میری خوش گمانی کا اثر ہے یہ تری آنکھوں کی بے زبانی کا کسی نے میری محبت کو کر لیا محفوظ خیال آیا کسی کو تو پاسبانی کا برائے نام سا پل بھی نہیں بنا مجھ سے کہ کچھ علاج نہیں تھا تری روانی کا ہمارے دل کا المناک دور ہے شاید سمجھ رہے ہیں جسے کھیل سب جوانی کا وہ داستان مکمل کرے تو اچھا ہے مجھے ملا ہے ذرا سا سرا کہانی کا

koi qusur nahin meri khush-gumaani kaa

غزل · Ghazal

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا کوئی مرے چمن میں بہت دیر تک رہا آیا تھا میرے پاس وہ کچھ دیر کے لیے سورج مگر گہن میں بہت دیر تک رہا میں روکتا رہا اسے چالاکیوں کے ساتھ وہ اپنے بھولے پن میں بہت دیر تک رہا جو شہ ملی تو دل مرا بیباک ہو گیا نیرنگیٔ بدن میں بہت دیر تک رہا آنکھوں میں آ گیا ہے مری بھی ذرا سا داغ پھول اس کے پیرہن میں بہت دیر تک رہا آیا نہیں ہے کھینچ کے لانا پڑا مجھے دل یار کے وطن میں بہت دیر تک رہا اس کے بغیر جیسے جہنم ہے زندگی میں جنت عدن میں بہت دیر تک رہا دونوں سے ساتھ ساتھ ملاقات ہو گئی کچھ سرو کچھ سمن میں بہت دیر تک رہا

phulon ki anjuman mein bahut der tak rahaa

غزل · Ghazal

اس دشت بے پناہ کی حد پر بھی خوش نہیں میں اپنی خواہشوں سے بچھڑ کر بھی خوش نہیں اک سر خوشی محیط ہے چاروں طرف مگر بستی میں کوئی شخص کوئی گھر بھی خوش نہیں کتنے ہیں لوگ خود کو جو کھو کر اداس ہیں اور کتنے اپنے آپ کو پا کر بھی خوش نہیں یہ کیفیت غلام نہیں قید و بند کی اندر جو اپنے خوش نہیں باہر بھی خوش نہیں ساحل کی بھیگی ریت پہ چلتا برہنہ پا میں ہوں اداس اور سمندر بھی خوش نہیں

is dasht-e-be-panaah ki had par bhi khush nahin

غزل · Ghazal

عشق کی دیوانگی مٹ جائے گی یا کسی کی زندگی مٹ جائے گی ختم ہو جائے گا جب قصہ حضور آپ کی حیرانگی مٹ جائے گی آپ بھی روئیں گے شاید زارزار پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جائے گی ایک دن بجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ یا نظر کی روشنی مٹ جائے گی یا فنا ہو جائیں گی گلیاں تری یا مری آواز ہی مٹ جائے گی حسن بھی برباد ہو جائے گا دوست اور دل کی دلکشی مٹ جائے گی اس قدر آباد ہو جائیں گے لوگ حسرت تعمیر ہی مٹ جائے گی

ishq ki divaangi miT jaaegi

غزل · Ghazal

ایسا لگتا ہے جیسے پوری ہے یہ کہانی مگر ادھوری ہے ہجر تو خیر اس کا لازم تھا وصل بھی اب بہت ضروری ہے میری آنکھوں کے جرم میں شامل ان نگاہوں کی بے قصوری ہے میرے الفاظ ہو رہے ہیں خرچ قوم کی مفت میں مشہوری ہے یوں مرا تاج و تخت چھین لیا جیسے وہ شیر شاہ سوری ہے ان دنوں اس کے سامنے دل کی جی حضوری ہی جی حضوری ہے کس قدر شوخ کر دیا مجھ کو عشق مٹھو میاں کی چوری ہے

aisaa lagtaa hai jaise puuri hai

Similar Poets