SHAWORDS
Zia Jalandhari

Zia Jalandhari

Zia Jalandhari

Zia Jalandhari

poet
25Sher
25Shayari
32Ghazal

Sherشعر

See all 25

Popular Sher & Shayari

50 total

Ghazalغزل

See all 32
غزل · Ghazal

kaise dukh kitni chaah se dekhaa

کیسے دکھ کتنی چاہ سے دیکھا تجھے کس کس نگاہ سے دیکھا شدت لا زوال سے چاہا حسرت بے پناہ سے دیکھا اتنا سوچا تجھے کہ دنیا کو ہم نے تیری نگاہ سے دیکھا شوق کیا غیر معتبر ٹھہرا تو نے جب اشتباہ سے دیکھا اپنی تاریک زندگی میں تجھے خوب تر مہر و ماہ سے دیکھا اہل دل پر تری کشش کا اثر اپنے حال تباہ سے دیکھا دشمنوں سے جو غم نہ دیکھا تھا کوشش خیر خواہ سے دیکھا غم گراں تر ہے کوہ سے جانا ہم سبک تر ہیں کاہ سے دیکھا دائمی دوریوں کا صدمہ ضیاؔ سرسری رسم و راہ سے دیکھا

غزل · Ghazal

uftaad tabiat se is haal ko ham pahunche

افتاد طبیعت سے اس حال کو ہم پہنچے شدت کی محبت میں شدت ہی کے غم پہنچے احوال بتائیں کیا رستے کی سنائیں کیا با حالت زار آئے بادیدۂ نم پہنچے جس چہرے کو دیکھا وہ آئینۂ دوری تھا دیوار کی صورت تھا جس در پہ قدم پہنچے کچھ لب پہ کچھ آنکھوں میں لے آئے سجا کر ہم جو رنج کہ ہاتھ آئے جو غم کہ بہم پہنچے قطع سر شاخ نرم آغاز نموئے نو صدمے مری چاہت کو پہنچے تو پہ کم پہنچے وہ شاخ بنے سنورے وہ شاخ پھلے پھولے جس شاخ پہ دھوپ آئے جس شاخ کو نم پہنچے

غزل · Ghazal

rang baatein karein aur baaton se khushbu aae

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شام شاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے ہم تری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے وہی لب تشنگی اپنی وہی ترغیب سراب دشت معلوم کی ہم آخری حد چھو آئے مصلحت کوشئ احباب سے دم گھٹتا ہے کسی جانب سے کوئی نعرۂ یاہو آئے سینے ویران ہوئے انجمن آباد رہی کتنے گل چہرہ گئے کتنے پری رو آئے آزمائش کی گھڑی سے گزر آئے تو ضیاؔ جشن غم جاری ہوا آنکھوں میں آنسو آئے

غزل · Ghazal

dil hi dil mein sulag ke bujhe ham aur sahe gham duur hi duur

دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دور تم سے کون سی آس بندھی تھی تم سے رہے ہم دور ہی دور تم نے ہم کو جب بھی دیکھا شکر بہ لب تھے یا خاموش یوں تو اکثر روئے لیکن چھپ چھپ کم کم دور ہی دور جل جل بجھ گئی کونپل کونپل کیا کیا ارماں خاک ہوئے آنکھیں تو بھر لائے پہ بادل برسے چھم چھم دور ہی دور ایک وہ آن کہ ان کی ذرا سی بات گوارا کر نہ سکے ایک یہ حال کہ یاد میں ان کی روئے پیہم دور ہی دور ترک طلب پر خوش تھے کہ آخر کام لیا دانائی سے کس کو خبر ہے جلتے رہے تم جلتے رہے ہم دور ہی دور

غزل · Ghazal

kitni der aur hai ye bazm-e-tarab-naak na kah

کتنی دیر اور ہے یہ بزم طربناک نہ کہہ راس آتی ہے کسے گردش افلاک نہ کہہ کیوں ٹھہرتا نہیں گلزار میں کوئی موسم کیا کشش رکھتی ہے خوشبوئے‌ تہہ خاک نہ کہہ دیکھ تو رنگ تمناؤں کی بیتابی کے کل فنا ہے مگر اے صاحب ادراک نہ کہہ درد کی آنچ ابد تک ہے کسی روپ میں ہو آج کے پھول کو آئندہ کے خاشاک نہ کہہ لفظ کی ضرب تو ہے صاعقہ‌ و سنگ سے سخت دل بہت نرم ہیں نا گفتہ و بے باک نہ کہہ غم گساروں کو بھی ہے اپنے ہی آلام سے کام دل پہ جو بیتی ہے اے دیدۂ نمناک نہ کہہ شوق ہی زیست بھی ہے زیست کی آگاہی بھی اس مسیحا نفس آزار کو سفاک نہ کہہ دل فرہاد جنوں فہم کو ناداں نہ سمجھ چشم‌ پرویز تنک ہوش کو چالاک نہ کہہ خود نمائی تھی کہ تھا محبس پندار کا خوف قیس کے جیب و گریباں رہے کیوں چاک نہ کہہ بجھ نہ جائیں کہیں دل اہل تمنا کے ضیاؔ کیسے شعلوں سے ہے یہ جشن طرب ناک نہ کہہ

غزل · Ghazal

ajab kashaakash-e-bim-o-rajaa hai tanhaai

عجب کشاکش بیم و رجا ہے تنہائی ترے بغیر ترا سامنا ہے تنہائی نئے دنوں کی صلیبیں گئے دنوں کے مزار عذاب خود سے ملاقات کا ہے تنہائی فضا میں ہیں کسی طوفان تند کے آثار سفر طویل ہے اور راستا ہے تنہائی بہت اداس ہے دل دوستوں کی محفل میں ہر ایک آنکھ میں چہرہ نما ہے تنہائی شگفتہ پھولوں کا گلدستہ صحبت یاراں بکھرتے پتوں کا اک ڈھیر سا ہے تنہائی میں آفتاب کو کیسے دکھاؤں تاریکی تجھے میں کیسے بتاؤں کہ کیا ہے تنہائی عجب سکون تھا شب آنسوؤں کی بارش میں وہ غم گسار وہ درد آشنا ہے تنہائی وہ خواب کیا تھا کہ جس کی حیات ہے تعبیر وہ جرم کیا تھا کہ جس کی سزا ہے تنہائی نہیں ملے تھے تو تنہائی کس قدر تھی ضیاؔ وہ مل کے بچھڑے تو اس سے سوا ہے تنہائی

Similar Poets