ye intizaar sahar kaa thaa yaa tumhaaraa thaa
diyaa jalaayaa bhi main ne diyaa bujhaayaa bhi

Aanis Moin
Aanis Moin
Aanis Moin
Popular Shayari
31 totalbikhar ke phuul fazaaon mein baas chhoD gayaa
tamaam rang yahin aas-paas chhoD gayaa
ik karb-e-musalsal ki sazaa dein to kise dein
maqtal mein hain jiine ki duaa dein to kise dein
anjaam ko pahunchungaa main anjaam se pahle
khud meri kahaani bhi sunaaegaa koi aur
vo jo pyaasaa lagtaa thaa sailaab-zada thaa
paani paani kahte kahte Duub gayaa hai
andar ki duniyaa se rabt baDhaao 'aanis'
baahar khulne vaali khiDki band paDi hai
ik Dubti dhaDkan ki sadaa log na sun lein
kuchh der ko bajne do ye shahnaai zaraa aur
hairat se jo yuun meri taraf dekh rahe ho
lagtaa hai kabhi tum ne samundar nahin dekhaa
mumkin hai ki sadiyon bhi nazar aae na suraj
is baar andheraa mire andar se uThaa hai
kyuun khul gae logon pe miri zaat ke asraar
ai kaash ki hoti miri gahraai zaraa aur
aakhir ko ruuh toD hi degi hisaar-e-jism
kab tak asiir khushbu rahegi gulaab mein
hamaari muskuraahaT par na jaanaa
diyaa to qabr par bhi jal rahaa hai
Ghazalغزل
باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے دریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہے شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے کس سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے جہاں پر میں ہوں یا پھر گونگا بہرا سناٹا ہے جیسے اک طوفان سے پہلے کی خاموشی آج مری بستی میں ایسا سناٹا ہے نئی سحر کی چاپ نہ جانے کب ابھرے گی چاروں جانب رات کا گہرا سناٹا ہے سوچ رہے ہو سوچو لیکن بول نہ پڑنا دیکھ رہے ہو شہر میں کتنا سناٹا ہے محو خواب ہیں ساری دیکھنے والی آنکھیں جاگنے والا بس اک اندھا سناٹا ہے ڈرنا ہے تو انجانی آواز سے ڈرنا یہ تو آنسؔ دیکھا بھالا سناٹا ہے
baahar bhi ab andar jaisaa sannaaTaa hai
41 views
کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے کچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئے کچھ آندھیاں بھی اپنی معاون سفر میں تھیں تھک کر پڑاؤ ڈالا تو خیمے اکھڑ گئے اب کے مری شکست میں ان کا بھی ہاتھ ہے وہ تیر جو کمان کے پنجے میں گڑ گئے سلجھی تھیں گتھیاں مری دانست میں مگر حاصل یہ ہے کہ زخموں کے ٹانکے اکھڑ گئے نروان کیا بس اب تو اماں کی تلاش ہے تہذیب پھیلنے لگی جنگل سکڑ گئے اس بند گھر میں کیسے کہوں کیا طلسم ہے کھولے تھے جتنے قفل وہ ہونٹوں پہ پڑ گئے بے سلطنت ہوئی ہیں کئی اونچی گردنیں باہر سروں کے دست تسلط سے دھڑ گئے
kitne hi peD khauf-e-khizaan se ujaD gae
41 views
ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور بڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اور کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو گے یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور تردید تو کر سکتا تھا پھیلے گی مگر بات اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور کیوں ترک تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟ اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم جیتو گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور بڑھ جائیں گے کچھ اور لہو بیچنے والے ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور
ho jaaegi jab tum se shanaasaai zaraa aur
41 views
پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے اس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو کسے دیں سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ اور پاس ہے بس ایک ردا دیں تو کسے دیں جب ہاتھ ہی کٹ جائیں تو تھامے گا بھلا کون یہ سوچ رہے ہیں کہ عصا دیں تو کسے دیں
patthar hain sabhi log karein baat to kis se
41 views
عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہوا حصول رزق ہوا بھی تو زیر دام ہوا تھا انتظار منائیں گے مل کے دیوالی نہ تم ہی لوٹ کے آئے نہ وقت شام ہوا ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا کہیں پہ سر کہیں پگڑی کا احترام ہوا ذرا سی عمر عداوت کی لمبی فہرستیں عجیب قرض وراثت میں میرے نام ہوا نہ تھی زمین میں وسعت مری نظر جیسی بدن تھکا بھی نہیں اور سفر تمام ہوا ہم اپنے ساتھ لئے پھر رہے ہیں پچھتاوا خیال لوٹ کے جانے کا گام گام ہوا
ajab talaash-e-musalsal kaa ikhtitaam huaa
41 views
جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے بچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتے سچ کہنے کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے ورنہ شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے تو بڑی حفاظت سے رکھی ہے تیری نشانی کہتے وہ تو شاید دونوں کا دکھ اک جیسا تھا ورنہ ہم بھی پتھر مارتے تجھ کو اور دیوانی کہتے تبدیلی سچائی ہے اس کو مانتے لیکن کیسے آئینے کو دیکھ کے اک تصویر پرانی کہتے تیرا لہجہ اپنایا اب دل میں حسرت سی ہے اپنی کوئی بات کبھی تو اپنی زبانی کہتے چپ رہ کر اظہار کیا ہے کہہ سکتے تو آنسؔ ایک علاحدہ طرز سخن کا تجھ کو بانی کہتے
jivan ko dukh dukh ko aag aur aag ko paani kahte
41 views





