kab tak saath nibhaataa aakhir
vo bhi duniyaa mein rahtaa hai

Aftab Hussain
Aftab Hussain
Aftab Hussain
Popular Shayari
41 totalvo yuun milaa thaa ki jaise kabhi na bichhDegaa
vo yuun gayaa ki kabhi lauT kar nahin aayaa
haal hamaaraa puchhne vaale
kyaa batlaaein sab achchhaa hai
kuchh aur tarah ki mushkil mein Daalne ke liye
main apni zindagi aasaan karne vaalaa huun
ek manzar hai ki aankhon se saraktaa hi nahin
ek saaat hai ki saari umr par taari hui
log kis kis tarah se zinda hain
hamein marne kaa bhi saliqa nahin
abhi dilon ki tanaabon mein sakhtiyaan hain bahut
abhi hamaari duaa mein asar nahin aayaa
badal rahe hain zamaane ke rang kyaa kyaa dekh
nazar uThaa ki ye duniyaa hai dekhne ke liye
kisi tarah to ghaTe dil ki be-qaraari bhi
chalo vo chashm nahin kam se kam sharaab to ho
tire ufuq pe sadaa subh jagmagaati rahe
jahaan pe main huun vahaan shaam hone vaali hai
kartaa kuchh aur hai vo dikhaataa kuchh aur hai
dar-asl silsila pas-e-parda kuchh aur hai
chalo kahin pe ta'alluq ki koi shakl to ho
kisi ke dil mein kisi ki kami ghanimat hai
Ghazalغزل
منزل ہاتھ نہیں آ پاتی خواب ادھورا رہ جاتا ہے راہ طلب پر چلتے چلتے آدمی آدھا رہ جاتا ہے کبھی کبھی تو دل کی دھڑکن بند بھی ہو جاتی ہے صاحب کبھی کبھی تو سینے میں بس درد دھڑکتا رہ جاتا ہے تجھ کو بھول چکے ہیں ہم بھی لیکن ایسی بات نہیں کچھ سورج ڈوب بھی جائے اگر تو ایک دھندلکا رہ جاتا ہے چلنے والے چلتے چلتے اپنی منزل پا لیتے ہیں راہ دکھانے والا بوڑھا راہ دکھاتا رہ جاتا ہے وقت کا پہیہ چلے تو پھر کب چل سکتا ہے زور کسی کا آدمی اپنے آپ کو کیا کیا چیز سمجھتا رہ جاتا ہے
manzil haath nahin aa paati khvaab adhuraa rah jaataa hai
41 views
روحوں کی خاموشی میں آواز لگاتے رہا کرو زندہ ہو تو ہونے کا احساس دلاتے رہا کرو جو بھی سچی بات کہے گا زہر لگے گا دنیا کو اپنے سچ میں تھوڑا تھوڑا جھوٹ ملاتے رہا کرو شہر میں گرچہ گرد بہت ہے دھواں بہت ہے لیکن تم آنکھوں کے جھلمل پردوں پر خواب سجاتے رہا کرو آنکھ سے اوجھل ہونے والے دل سے ہو جاتے ہیں دور پیار اگر قائم رکھنا ہے آتے جاتے رہا کرو اسی طرح سے کھیل کھیل میں سارے دن کٹ جائیں گے میں بے چین سا پھرا کروں گا تم یاد آتے رہا کرو
ruhon ki khaamoshi mein aavaaz lagaate rahaa karo
41 views
دلوں میں اب اگر ایسے خلا کی لعنت ہے یہ زندگانی نہیں ہے خدا کی لعنت ہے ہمیں خبر ہے کہ انجام کار کیا ہو گا شروع کار ہے اور انتہا کی لعنت ہے قیام کیسے کریں ہم قرار کیسے ہو نصیب میں ہی اگر جابجا کی لعنت ہے ہمارے پاؤں زمیں پر جمے تو کیسے جمے یہ وہ زمین ہے جس میں بلا کی لعنت ہے تم اپنے حبس کی حالت میں گھٹ کے مر رہے ہو میں جس جگہ ہوں وہاں پر ہوا کی لعنت ہے دعا کرو کوئی دشمن نصیب ہو جائے کہ آشنا پہ یہاں آشنا کی لعنت ہے نکلتے جاتے ہیں سب اور آفتاب حسینؔ ہمارے ساتھ ابھی تک وفا کی لعنت ہے
dilon mein ab agar aise khalaa ki laa'nat hai
41 views
چلتے چلتے تھکتے چلے جاتے ہیں ہم لیکن جیسے تیسے چلے جاتے ہیں ہم طے کرتے ہیں اس کے پاس نہیں جانا ہے اور پھر پھرتے پھرتے چلے جاتے ہیں ہم سانسوں کے آنے جانے کا کیا قصہ جینا ہے سو جیے چلے جاتے ہیں ہم آپ کا چاک ہے آپ کی مٹی آپ بتائیں بنے ہیں کچھ یا بگڑے چلے جاتے ہیں ہم کام کوئی ہو پاتا ہے یا نہیں ہو پاتا اپنی طرف سے کیے چلے جاتے ہیں ہم اب وہ ہاتھ کہاں ہیں کہاں گئے وہ ہاتھ کسے پکاریں ڈھے چلے جاتے ہیں ہم کون ہماری سنتا ہے کس نے سننی ہے ہم ہیں کہ لیکن کہے چلے جاتے ہیں ہم
chalte chalte thakte chale jaate hain ham
40 views
جینے والا ہوں نہ مرنے والا اب میں کچھ بھی نہیں کرنے والا دل میں اک راہ بچھی رہتی ہے ہے کوئی مجھ سے گزرنے والا کہاں ڈوبا تھا محبت میں مگر ہوں کہاں جا کے ابھرنے والا عشق تھا اور نہیں ہو پایا اور یہی کام تھا کرنے والا اندر اندر ہے لگائے ہوئے لام مجھ میں اک مارنے مرنے والا میرے بستر پہ پڑا تھا آخر دل پہ بھی پاؤں نہ دھرنے والا
jiine vaalaa huun na marne vaalaa
40 views
کسی کے انتظار میں نہیں ہوں نشے میں ہوں خمار میں نہیں ہوں کسی کے ہاتھ کس طرح سے آؤں میں اپنے اختیار میں نہیں ہوں بھٹک رہا ہوں اپنی وسعتوں میں کہیں کسی مدار میں نہیں ہوں شکار ہو گایا ہوں خود کسی کا میں اب کسی شکار میں نہیں ہوں نگاہ میں ہوں آفتابؔ اپنی نگاہ کردگار میں نہیں ہوں
kisi ke intizaar mein nahin huun
40 views





