jin pattharon ko ham ne ataa ki thiin dhaDkanein
un ko zabaan mili to hamin par baras paDe

Afzal Minhas
Afzal Minhas
Afzal Minhas
Popular Shayari
23 totaldil ki masjid mein kabhi paDh le tahajjud ki namaaz
phir sahar ke vaqt honTon par duaa bhi aaegi
apni bulandiyon se girun bhi to kis tarah
phaili hui fazaaon mein bikhraa huaa huun main
chaand mein kaise nazar aae tiri surat mujhe
aandhiyon se aasmaan kaa rang mailaa ho gayaa
dard zanjir ki surat hai dilon mein maujud
is se pahle to kabhi is ke ye pairaae na the
ujli ujli khvaahishon par niind ki chaadar na Daal
yaad ke rauzan se kuchh taaza havaa bhi aaegi
vo daur ab kahaan ki tumhaari ho justuju
is daur mein to ham ko khud apni talaash hai
ye bhi shaayad zindagi ki ik adaa hai dosto
jis ko saathi mil gayaa vo aur tanhaa ho gayaa
kyaa faisla diyaa hai adaalat ne chhoDiye
mujrim to apne jurm kaa iqbaal kar gayaa
insaan be-hisi se hai patthar banaa huaa
munh mein zabaan bhi hai lahu bhi ragon mein hai
ek hi fankaar ke shahkaar hain duniyaa ke log
koi bartar kis liye hai koi kam-tar kis liye
havaa ke phuul mahakne lage mujhe paa kar
main pahli baar hansaa zakhm ko chhupaae hue
Ghazalغزل
مجھے بتلائیے اب کون سی جینے کی صورت ہے زمانہ اس گھنے جنگل میں اک چیتے کی صورت ہے بکھرتے جسم لے کر تند طوفانوں میں بیٹھے ہیں کوئی ذرے کی صورت ہے کوئی ٹیلے کی صورت ہے چرا لایا تھا آنکھوں میں جو اک تصویر دنیا کی وہ اب صحرا میں اک سہمے ہوئے بچے کی صورت ہے مری تحریر کے ہر لفظ میں زندہ ہیں آوازیں مگر حیران ہوں چہرہ مرا کتبے کی صورت ہے یہ کیسی آگ ہے افضلؔ جلے سائے بھی پیڑوں کے دھوئیں میں کس طرف جاؤں عجب رستے کی صورت ہے
mujhe batlaaiye ab kaun si jiine ki surat hai
41 views
گم صم ہوا کے پیڑ سے لپٹا ہوا ہوں میں کتبے پہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ہوں میں آنکھوں میں وسوسوں کی نئی نیند بس گئی سو جاؤں ایک عمر سے جاگا ہوا ہوں میں یا رب رگوں میں خون کی حدت نہیں رہی یا کرب کی صلیب پہ لٹکا ہوا ہوں میں اپنی بلندیوں سے گروں بھی تو کس طرح پھیلی ہوئی فضاؤں میں بکھرا ہوا ہوں میں پتے گرے تو اور بھی آسیب بن گئے وہ شور ہے کہ خود سے بھی سہما ہوا ہوں میں شاخوں سے ٹوٹنے کی صدا دور تک گئی محسوس ہو رہا ہے کہ ٹوٹا ہوا ہوں میں وہ آگ ہے کہ ساری جڑیں جل کے رہ گئیں وہ زہر ہے کہ پھول سے کانٹا ہوا ہوں میں کٹتے ہوئے تنے کا بھی نوچا گیا لباس گر کر زمیں پہ اور بھی رسوا ہوا ہوں میں افضلؔ میں سوچتا ہوں یہ کیا ہو گیا مجھے مٹی ملی تو اور بھی چٹخا ہوا ہوں میں
gum-sum havaa ke peD se lipTaa huaa huun mein
40 views
ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے انساں کا عکس پھر بھی کئی آئنوں میں ہے تہذیب کو تلاش نہ کر شہر شہر میں تہذیب کھنڈروں میں ہے کچھ پتھروں میں ہے تجھ کو سکوں نہیں ہے تو مٹی میں ڈوب جا آباد اک جہان زمیں کی تہوں میں ہے کیسا تضاد ہے کہ فضا ہے دھواں دھواں اور آگ ہے کہ زیر زمیں خندقوں میں ہے انسان بے حسی سے ہے پتھر بنا ہوا منہ میں زبان بھی ہے لہو بھی رگوں میں ہے
har chand zindagi kaa safar mushkilon mein hai
40 views
لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں تلخیاں خود ہی ملا لیتے ہیں میٹھے زہر میں پیار کے چشموں کا پانی جب سے کھارا ہو گیا ساری دنیا گھر گئی ہے نفرتوں کے قہر میں وقت کہتا ہے ابھرتے ڈوبتے چہروں کو دیکھ آج تو رونق بڑی ہے حادثوں کی نہر میں جانے یہ حدت چمن کو راس آئے یا نہیں آگ جیسی کیفیت ہے خوشبوؤں کی لہر میں ہم نے پلکوں پر سجا رکھے ہیں اشکوں کے چراغ ایک میلہ سا لگا ہے روشنی کے شہر میں چند آوازیں تعاقب میں ہیں افضلؔ آج بھی قربتوں کا شہد ہے تنہائیوں کے زہر میں
log hansne ke liye rote hain aksar dahr mein
40 views
مٹتے ہوئے نقوش وفا کو ابھارئے چہروں پہ جو سجا ہے ملمع اتارئیے ملنا اگر نہیں ہے تو زخموں سے فائدہ چھپ کر مجھے خیال کے پتھر نہ ماریے کوئی تو سرزنش کے لیے آئے اس طرف بیٹھے ہوئے ہیں دل کے مکاں میں جوارئیے ہاتھوں پہ ناچتی ہے ابھی موت کی لکیر جیسے بھی ہو یہ زیست کی بازی نہ ہاریے شکوہ نہ کیجیئے ابھی اپنے نصیب کا سانسوں کی تیز آنچ پہ ہر شب گزاریے مسمار ہو گئی ہیں فلک بوس چاہتیں شہر جفا سے اب نہ مجھے یوں پکاریے پھولوں سے تازگی کی حرارت کو چھین کر موسم کے زہر کے لیے گلشن سنوارئیے رسوائیوں کا ہوگا نہ اب سامنا کبھی جلدی سے آرزو کو لحد میں اتارئیے افضلؔ یہ تیرگی کے مسافر کہاں چلے جی چاہتا ہے ان پہ کئی چاند ماریے
miTte hue nuqush-e-vafaa ko ubhaariye
40 views
ایک پیکر یوں چمک اٹھا ہے میرے دھیان میں کوئی جگنو اڑ رہا ہو جس طرح طوفان میں ہر بگولہ بستیوں کی سمت لہرانے لگا آشنا چہرے بھی اب آتے نہیں پہچان میں کیا قیامت ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں زندگی تنہا کھڑی ہے حشر کے میدان میں وقت پڑتے ہی ہوئے روپوش سب حلقہ بگوش اک یہی خوبی تو ہے اس دور کے انسان میں آئنے یادوں کے میں نے توڑ ڈالے تھے مگر چند چہرے پھر ابھر آئے مرے وجدان میں لوگ میری موت کے خواہاں ہیں افضلؔ کس لیے چند غزلوں کے سوا کچھ بھی نہیں سامان میں
ek paikar yuun chamak uTThaa hai mere dhyaan mein
40 views





