SHAWORDS
Akram Naqqash

Akram Naqqash

Akram Naqqash

Akram Naqqash

poet
14Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

حیرت کے دفتر جاؤں میں اپنے اندر جاؤں آنکھیں چار کروں سب سے آئینے سے ڈر جاؤں دنیا مل ہی جائے گی زینے چند اتر جاؤں ایسا کوئی پل آئے سائے سے باہر جاؤں تجھ کو سوچوں پل بھر میں زنجیروں سے بھر جاؤں جس رستے ہیں خار ببول اس رستے اکثر جاؤں دکھ کے جنگل سے نکلوں تیری راہ گزر جاؤں رات فلک پر ابھرے تو میں تاروں سے بھر جاؤں کوئی پل کو اکیلا چھوڑ کوئی کام تو کر جاؤں

hairat ke daftar jaaun

غزل · Ghazal

اے ابر التفات ترا اعتبار پھر آنکھوں میں پھر وہ پیاس وہی انتظار پھر رکھوں کہاں پہ پاؤں بڑھاؤں کدھر قدم رخش خیال آج ہے بے اختیار پھر دست جنوں و پنجۂ وحشت چہار سمت بے برگ و بار ہونے لگی ہے بہار پھر پسپائیوں نے گاڑ دیئے دانت پشت پر یوں دامن غرور ہوا تار تار پھر نشتر تری زباں ہی نہیں خامشی بھی ہے کچھ رہ گزار ربط ہوئی خار زار پھر مجھ میں کوئی سوال ترے ماسوا نہیں مجھ میں یہی سوال ہوا ایک بار پھر

ai abr-e-iltifaat tiraa e'tibaar phir

غزل · Ghazal

ٹوٹی ہوئی شبیہ کی تسخیر کیا کریں بجھتے ہوئے خیال کو زنجیر کیا کریں اندھا سفر ہے زیست کسے چھوڑ دے کہاں الجھا ہوا سا خواب ہے تعبیر کیا کریں سینے میں جذب کتنے سمندر ہوئے مگر آنکھوں پہ اختیار کی تدبیر کیا کریں بس یہ ہوا کہ راستہ چپ چاپ کٹ گیا اتنی سی واردات کی تشہیر کیا کریں ساعت کوئی گزار بھی لیں جی تو لیں کبھی کچھ اور اپنے باب میں تحریر کیا کریں

TuuTi hui shabih ki taskhir kyaa karein

غزل · Ghazal

کچھ فاصلہ نہیں ہے عدو اور شکست میں لیکن کوئی سراغ نہیں ہے گرفت میں کچھ دخل اختیار کو ہو بود و ہست میں سر کر لوں یہ جہان الم ایک جست میں اب وادئ بدن میں کوئی بولتا نہیں سنتا ہوں آپ اپنی صدا بازگشت میں رخ ہے مرے سفر کا الگ تیری سمت اور اک سوئے مرغ زار چلے ایک دشت میں کس شاہ کا گزر ہے کہ مفلوج جسم و جاں جی جان سے جٹے ہوئے ہیں بند و بست میں یہ پوچھ آ کے کون نصیبوں جیا ہے دل مت دیکھ یہ کہ کون ستارہ ہے بخت میں کس سوز کی کسک ہے نگاہوں کے آس پاس کس خواب کی شکست امڈ آئی ہے طشت میں

kuchh faasla nahin hai adu aur shikast mein

غزل · Ghazal

دشت کو ڈھونڈنے نکلوں تو جزیرہ نکلے پاؤں رکھوں جو میں ویرانے میں دنیا نکلے ایک بپھرا ہوا دریا ہے مرے چار طرف تو جو چاہے اسی طوفاں سے کنارہ نکلے ایک موسم ہے دل و جاں پہ فقط دن ہو کہ رات آسماں کوئی ہو دل پر وہی تارا نکلے دیکھتا ہوں میں تری راہ میں دام حیرت روشنی رات سے اور دھوپ سے سایہ نکلے اس سے پہلے یہ کبھی دل نے کہا ہی کب تھا رات کچھ اور بڑھے چاند دوبارہ نکلے آنکھ جھکتی ہے تو ملتی ہے خموشی کو زباں بند ہونٹوں سے کوئی بولتا دریا نکلے عشق اک ایسی حویلی ہے کہ جس سے باہر کوئی دروازہ کھلے اور نہ دریچہ نکلے سحر نے تیرے عجب راہ سجھائی ہم دم ہم کہاں جانے کو نکلے تھے کہاں آ نکلے

dasht ko DhunDne niklun to jazira nikle

غزل · Ghazal

کوئی سنتا ہی نہیں کس کو سنانے لگ جائیں درد اگر اٹھے تو کیا شور مچانے لگ جائیں بھید ایسا کہ گرہ جس کی طلب کرتی ہے عمر رمز ایسا کہ سمجھنے میں زمانے لگ جائیں آ گیا وہ تو دل و جان بچھے ہیں ہر سو اور نہیں آئے تو کیا خاک اڑانے لگ جائیں تیری آنکھوں کی قسم ہم کو یہ ممکن ہی نہیں تو نہ ہو اور یہ منظر بھی سہانے لگ جائیں وحشتیں اتنی بڑھا دے کہ گھروندے ڈھا دیں سبز شاخوں سے پرندوں کو اڑانے لگ جائیں ایسا دارو ہو رہ عشق سے باز آئیں قدم ایسا چارہ ہو کہ بس ہوش ٹھکانے لگ جائیں

koi suntaa hi nahin kis ko sunaane lag jaaein

Similar Poets