main ne aankhon mein jalaa rakhaa hai aazaadi kaa tel
mat andheron se Daraa rakh ki main jo huun so huun

Anees Ansari
Anees Ansari
Anees Ansari
Popular Shayari
16 totalnaam teraa bhi rahegaa na sitamgar baaqi
jab hai firaun na changez kaa lashkar baaqi
tiri mahfil mein sab baiThe hain aa kar
hamaaraa baiThnaa dushvaar kyuun hai
jo parinde uD nahin sakte ab un ki khair ho
aane vaalaa hai isi jaanib shikaari haae haae
baDaa aazaar-e-jaan hai vo agarche mehrbaan hai vo
agarche mehrbaan hai vo baDaa aazaar-e-jaan hai vo
laash qaatil ne khuli pheink di chauraahe par
dekhne vaalaa koi ghar se na baahar niklaa
hijr ke chhoTe gaanv se ham ne shahr-e-vasl ko hijrat ki
shahr-e-vasl ne niind uDaa kar khvaabon ko paamaal kiyaa
tum ko bhi pahchaan nahin hai shaayad meri uljhan ki
lekin ham milte rahte to achchhaa hi rahtaa jaanam
kabhi darvesh ke takiya mein bhi aa kar dekho
tang-dasti mein bhi aaraam mayassar niklaa
tum dard ki lazzat kyaa jaano kab tum ne chakhe hain zahr-e-subu
ham apne vajud ke shaahid hain sangsaar hue shamshir hue
banaa kar rakh tu ghar achchhaa rahegaa
tu maalik ban kiraae-daar kyuun hai
har ek shakhs tumhaari tarah nahin hotaa
koi kisi se mohabbat kahaan kare kaise
Ghazalغزل
جہاں در تھا وہاں دیوار کیوں ہے الگ نقشے سے یہ معمار کیوں ہے خدا آزاد تھا حاکم کی حد سے خدا کے شہر میں سرکار کیوں ہے بہت آسان ہے مل جل کے بہنا ندی اور دھار میں پیکار کیوں ہے ہزاروں رنگ کے پھولوں سے کھنچ کر بنا ہے شہد تو بیکار کیوں ہے کسی بھی سمت سے آ کر پرندے سجائیں جھیل تو آزار کیوں ہے تری محفل میں سب بیٹھے ہیں آ کر ہمارا بیٹھنا دشوار کیوں ہے بنا کر رکھ تو گھر اچھا رہے گا تو مالک بن کرایہ دار کیوں ہے تمہارے ساتھ ہم آگے بڑھے تھے ہماری پیٹھ پر تلوار کیوں ہے خدا سے کیا رقابت ہے صنم کی رہ مسجد نظر میں خار کیوں ہے عبارت میں نہ کر تحریف بے جا ہمارے نام سے بیزار کیوں ہے پرندے کو جو موقع دو دکھا دے بندھے پر کا سفر لاچار کیوں ہے پڑوسی ہو تو پھل یا پھول لاتے تمہارے ہاتھ میں ہتھیار کیوں ہے زمیں پھیلی ہوئی ہے آسماں تک بس اک ٹکڑے پہ یوں تکرار کیوں ہے
jahaan dar thaa vahaan divaar kyuun hai
1 views
تمہارے شہر میں اتنے مکاں گرے کیسے مرے عزیز ٹھکانے دھواں ہوئے کیسے میں شہر جبر سے گزرا تو سرخ رو ہو کر انہیں یہ فکر لہو کا نشاں مٹے کیسے سنا رہا ہوں کہانی ہزار راتوں کی کہ شاہزادے کے سر سے سناں ہٹے کیسے حساب خوب رکھا تم نے اپنی لاگت کا مرے نصاب میں سود و زیاں چلے کیسے ہر ایک شخص تمہاری طرح نہیں ہوتا کوئی کسی سے محبت کہاں کرے کیسے جہاں بھی شام ہوئی گھر بنا لیا اپنا مکاں بہت تھے مگر بے مکاں رہے کیسے انیسؔ تم تو بہت تیز چال چلتے تھے ذرا ہمیں بھی بتاؤ میاں گرے کیسے
tumhaare shahr mein itne makaan gire kaise
مرا ہر تیر نشانے پہ نہ پہنچا آخر در سفر میں بھی ٹھکانے پہ نہ پہنچا آخر توتلی عمر میں جو بچہ ذرا مشفق تھا کچھ بڑا ہو کے دہانے پہ نہ پہنچا آخر جی کو سمجھاتا ہوں قسمت میں لکھا تھا سو ہوا کچھ سنبھل کر بھی بہانے پہ نہ پہنچا آخر ایک غم ہوتا تو سینے سے لگا لیتا کوئی غم کا انبار اٹھانے پہ نہ پہنچا آخر پھل کترنے کے لئے ڈار اتر آتی تھی بے ثمر کوئی بلانے پہ نہ پہنچا آخر شہر کچھ چھوٹ گئے گرد سفر لپٹی رہی کوئی روداد سنانے پہ نہ پہنچا آخر
miraa har tiir nishaane pe na pahunchaa aakhir
اس شہر کے لوگ عجیب سے ہیں اب سب ہی تمہارے اسیر ہوئے جب جاں پہ برستے تھے پتھر اس وقت ہمیں دلگیر ہوئے کچھ لوگ تمہاری آنکھوں سے کرتے ہیں طلب ہیرے موتی ہم صحرا صحرا ڈوب گئے اک آن میں جوگی فقیر ہوئے تم درد کی لذت کیا جانو کب تم نے چکھے ہیں زہر سبو ہم اپنے وجود کے شاہد ہیں سنگسار ہوئے شمشیر ہوئے یہ پہروں پہروں سوچ نگر راتوں راتوں بے خواب لہر پھر کیسے کٹے گا دھوپ سفر جب پیر لٹی جاگیر ہوئے اک عمر گزاری ہے یوں ہی سایوں کے تعاقب میں ہم نے ٹک بیٹھ گئے پھر چل نکلے ہنس بول لیے دلگیر ہوئے کچھ شہر تمہارا تنگ بھی تھا کچھ تم بھی تھے کمزور ذرا پتھر کی نگاہوں کے ڈر سے تم اپنے ہی گھر میں اسیر ہوئے
is shahr ke log ajiib se hain ab sab hi tumhaare asiir hue
بڑا آزار جاں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ اگرچہ مہرباں ہے وہ بڑا آزار جاں ہے وہ مثال آسماں ہے وہ مجھے زرخیز کرتا ہے مجھے زرخیز کرتا ہے مثال آسماں ہے وہ کریم و سائباں ہے وہ مجھے محفوظ رکھتا ہے مجھے محفوظ رکھتا ہے کریم و سائباں ہے وہ اگرچہ بے مکاں ہے وہ پناہیں مجھ کو دیتا ہے پناہیں مجھ کو دیتا ہے اگرچہ بے مکاں ہے وہ بڑا آرام جاں ہے وہ لئے پھرتا ہے سینے میں لئے پھرتا ہے سینے میں بڑا آرام جاں ہے وہ اگرچہ بے زباں ہے وہ نظر سے بات کرتا ہے نظر سے بات کرتا ہے اگرچہ بے زباں ہے وہ اک ایسا زہر جاں ہے وہ میں جس کو پی کے زندہ ہوں میں جس کو پی کے زندہ ہوں اک ایسا زہر جاں ہے وہ کہ بحر بیکراں ہے وہ تبھی ساحل نہیں ملتا تبھی ساحل نہیں ملتا کہ بحر بیکراں ہے وہ مزاج دشمناں ہے وہ پرایا بھی ہے اپنا بھی پرایا بھی ہے اپنا بھی مزاج دشمناں ہے وہ کمال دوستاں ہے وہ وہی اول وہی آخر وہی اول وہی آخر کمال دوستاں ہے وہ امیر کارواں ہے وہ میں اس کی راہ چلتا ہوں میں اس کی راہ چلتا ہوں امیر کارواں ہے وہ بڑا گوہر فشاں ہے وہ مجھے بھی کچھ گہر دے گا مجھے بھی کچھ گہر دے گا بڑا گوہر فشاں ہے وہ سنہری کہکشاں ہے وہ دہکتے ہیں کئی سورج دہکتے ہیں کئی سورج سنہری کہکشاں ہے وہ سنا ہے مہرباں ہے وہ انیسؔ اتراتے پھرتے ہیں انیسؔ اتراتے پھرتے ہیں سنا ہے مہرباں ہے وہ
baDaa aazaar-e-jaan hai vo agarche mehrbaan hai vo
نام تیرا بھی رہے گا نہ ستم گر باقی جب ہے فرعون نہ چنگیز کا لشکر باقی اپنے چہروں کو سیاہی میں چھپانے والو نوک نیزہ پہ ہے سورج سا کوئی سر باقی تیرے ورثے پہ ہیں غاصب کی عقابی نظریں غفلتوں سے نہیں رہتے یہ جواہر باقی اک صدف سطح سمندر پہ بہا جاتا ہے اور ساحل پہ نہیں ایک شناور باقی ایک صف ہوں تو بنیں سیسہ پلائی دیوار ہوں عدو کے لئے راہیں نہ کہیں در باقی قدر کم ہوتی ہے تقسیم جو ہوتا ہے عدو حاصل جمع میں برکت ہے برابر باقی جال پھر لایا ہے صیاد پھنسانے کے لئے مل کے اڑ جائیں پرندے نہ رہے ڈر باقی ظلم سے سر کو نہ ٹکرائیں تو پھر سجدہ کریں ہاں پتہ ہے کہ در ہوگا نہ کہیں سر باقی ہم شہیدوں کو کبھی مردہ نہیں کہتے انیسؔ رزق جنت میں ملے شان یہاں پر باقی
naam teraa bhi rahegaa na sitamgar baaqi





