SHAWORDS
Anjum Ludhianvi

Anjum Ludhianvi

Anjum Ludhianvi

Anjum Ludhianvi

poet
16Sher
16Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 16

Popular Sher & Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

toD kaDiyaan zamir ki 'anjum'

توڑ کڑیاں ضمیر کہ انجمؔ اور کچ دیر تو بھی جی انجمؔ ایک بھی گام چل نہ پائے گی ان اندھیروں میں روشنی انجمؔ زندگی تیز دھوپ کا دریا آدمی ناؤ موم کی انجمؔ جس گھٹا پر تھی آنکھ صحرا کہ وہ سمندر پہ مر مٹی انجمؔ جس پہ سورج کہ مہربانی ہو اس پہ کھلتی ہے چاندنی انجمؔ صبح کا خواب عمر بھر دیکھا اور پھر نیند آ گئی انجمؔ

غزل · Ghazal

pal bhar use rulaa kar dekh

پل بھر اسے رلا کر دیکھ سارا دن پچھتا کر دیکھ پتھر دل تھوڑا ہے وہ بانہیں تو پھیلا کر دیکھ ممکن ہے غم بہہ نکلے نینا نیر بہا کر دیکھ تجھ بن کتنا تنہا ہوں جانے والے آ کر دیکھ کیا سے کیا ہو جانا ہے پتہ خشک اٹھا کر دیکھ

غزل · Ghazal

vasl ki raat vo tanhaa hogaa

وصل کی رات وہ تنہا ہوگا اس پہ حالات کا پہرہ ہوگا نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب کون میرے لئے تڑپا ہوگا خوشبوئیں پھوٹ کے روئی ہوں گی گل ہواؤں میں جو بکھرا ہوگا وادئ ذہن سے اٹھتا ہے دھواں قافلہ یادوں کا ٹھہرا ہوگا جانے کس حال سے گزری ہوگی پھول جس شاخ پہ اترا ہوگا یاد آئیں گی ہماری غزلیں ذکر جب تازہ ہوا کا ہوگا چاند کو دیکھ کے چھت پر انجمؔ سایہ دیوار سے نکلا ہوگا

غزل · Ghazal

hazaaron saal chalne ki sazaa hai

ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے بتا اے وقت تیرا جرم کیا ہے اجالا کام پر ہے پو پھٹے سے اندھیرا چین سے سویا ہوا ہے ہوا سے لڑ رہے بجھتے دیے نے ہمارا ذہن روشن کر دیا ہے وہ سورج کے گھرانے سے ہے لیکن فلک سے چاندنی برسا رہا ہے بدن پر روشنی اوڑھی ہے سب نے اندھیرا روح تک پھیلا ہوا ہے سنا ہے اور اک بھوکا بھکاری خدا کا نام لیتے مر گیا ہے وہی ہم ہیں نئی شکلوں میں انجمؔ وہی صدیوں پرانا راستہ ہے

غزل · Ghazal

ham saa divaana kahaan mil paaegaa is dahr mein

ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں گھر کیا تعمیر جس نے دیمکوں کے شہر میں خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں کس کو ہے مرنے کی فرصت سب یہاں مصروف ہیں موت تو بے کار میں آئی ہے ایسے شہر میں ٹوٹی کشتی کی طرح ہیں وقت کے ساحل پہ ہم کیا زمانہ تھا بہا کرتے تھے اپنی لہر میں ایک ویرانی سی انجم رہ گئی آنکھوں میں اب خواب سارے بہہ گئے ہیں آنسوؤں کی نہر میں

غزل · Ghazal

vo jab apne lab kholein

وہ جب اپنے لب کھولیں شہد فضاؤں میں گھولیں آپ کے بھی ہو جائیں گے ہم پہلے اپنے تو ہو لیں دنیا سے کٹ جائیں ہم اتنا سچ ہی کیوں بولیں جب جب خود کو قتل کریں خنجر گنگا میں دھو لیں اڑنا ہم سکھلا دیں گے آپ ذرا سے پر کھولیں کچھ دن ہلکے گزریں گے آج کی شب کھل کر رو لیں دن بھر سورج ڈھویا ہے چاند سے لپٹیں اور سو لیں

Similar Poets