"us ne dariya ko laga kar Thokar pyaas ki umr baDha.i hogi"

Anjum Ludhianvi
Anjum Ludhianvi
Anjum Ludhianvi
Sherشعر
See all 16 →us ne dariya ko laga kar Thokar
اس نے دریا کو لگا کر ٹھوکر پیاس کی عمر بڑھائی ہوگی
sunte hain ik hava ka jhonka
سنتے ہیں اک ہوا کا جھونکا اک خوشبو کو لے بھاگا ہے
dosti bandagi vafa-o-khulus
دوستی بندگی وفا و خلوص ہم یہ شمع جلانا بھول گئے
niind kyuun TuuT ga.i akhir-e-shab
نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب کون میرے لئے تڑپا ہوگا
rang hi se fareb khate rahen
رنگ ہی سے فریب کھاتے رہیں خوشبوئیں آزمانا بھول گئے
khushbuen phuuT ke roi hongi
خوشبوئیں پھوٹ کے روئی ہوں گی گل ہواؤں میں جو بکھرا ہوگا
Popular Sher & Shayari
32 total"sunte hain ik hava ka jhonka ik khushbu ko le bhaga hai"
"dosti bandagi vafa-o-khulus ham ye sham.a jalana bhuul ga.e"
"niind kyuun TuuT ga.i akhir-e-shab kaun mere liye taDpa hoga"
"rang hi se fareb khate rahen khushbuen azmana bhuul ga.e"
"khushbuen phuuT ke roi hongi gul havaon men jo bikhra hoga"
khushbuein phuuT ke roi hongi
gul havaaon mein jo bikhraa hogaa
dhuup nikli hai baarishon ke baad
vo abhi ro ke muskuraae hain
dosti bandagi vafaa-o-khulus
ham ye shama jalaanaa bhuul gae
niind kyuun TuuT gai aakhir-e-shab
kaun mere liye taDpaa hogaa
khud-kushi karne mein bhi naakaam rah jaate hain ham
kaun amrit ghol detaa hai hamaare zahr mein
subh kaa khvaab umr bhar dekhaa
aur phir niind aa gai 'anjum'
Ghazalغزل
toD kaDiyaan zamir ki 'anjum'
توڑ کڑیاں ضمیر کہ انجمؔ اور کچ دیر تو بھی جی انجمؔ ایک بھی گام چل نہ پائے گی ان اندھیروں میں روشنی انجمؔ زندگی تیز دھوپ کا دریا آدمی ناؤ موم کی انجمؔ جس گھٹا پر تھی آنکھ صحرا کہ وہ سمندر پہ مر مٹی انجمؔ جس پہ سورج کہ مہربانی ہو اس پہ کھلتی ہے چاندنی انجمؔ صبح کا خواب عمر بھر دیکھا اور پھر نیند آ گئی انجمؔ
pal bhar use rulaa kar dekh
پل بھر اسے رلا کر دیکھ سارا دن پچھتا کر دیکھ پتھر دل تھوڑا ہے وہ بانہیں تو پھیلا کر دیکھ ممکن ہے غم بہہ نکلے نینا نیر بہا کر دیکھ تجھ بن کتنا تنہا ہوں جانے والے آ کر دیکھ کیا سے کیا ہو جانا ہے پتہ خشک اٹھا کر دیکھ
vasl ki raat vo tanhaa hogaa
وصل کی رات وہ تنہا ہوگا اس پہ حالات کا پہرہ ہوگا نیند کیوں ٹوٹ گئی آخر شب کون میرے لئے تڑپا ہوگا خوشبوئیں پھوٹ کے روئی ہوں گی گل ہواؤں میں جو بکھرا ہوگا وادئ ذہن سے اٹھتا ہے دھواں قافلہ یادوں کا ٹھہرا ہوگا جانے کس حال سے گزری ہوگی پھول جس شاخ پہ اترا ہوگا یاد آئیں گی ہماری غزلیں ذکر جب تازہ ہوا کا ہوگا چاند کو دیکھ کے چھت پر انجمؔ سایہ دیوار سے نکلا ہوگا
hazaaron saal chalne ki sazaa hai
ہزاروں سال چلنے کہ سزا ہے بتا اے وقت تیرا جرم کیا ہے اجالا کام پر ہے پو پھٹے سے اندھیرا چین سے سویا ہوا ہے ہوا سے لڑ رہے بجھتے دیے نے ہمارا ذہن روشن کر دیا ہے وہ سورج کے گھرانے سے ہے لیکن فلک سے چاندنی برسا رہا ہے بدن پر روشنی اوڑھی ہے سب نے اندھیرا روح تک پھیلا ہوا ہے سنا ہے اور اک بھوکا بھکاری خدا کا نام لیتے مر گیا ہے وہی ہم ہیں نئی شکلوں میں انجمؔ وہی صدیوں پرانا راستہ ہے
ham saa divaana kahaan mil paaegaa is dahr mein
ہم سا دیوانہ کہاں مل پائے گا اس دہر میں گھر کیا تعمیر جس نے دیمکوں کے شہر میں خودکشی کرنے میں بھی ناکام رہ جاتے ہیں ہم کون امرت گھول دیتا ہے ہمارے زہر میں کس کو ہے مرنے کی فرصت سب یہاں مصروف ہیں موت تو بے کار میں آئی ہے ایسے شہر میں ٹوٹی کشتی کی طرح ہیں وقت کے ساحل پہ ہم کیا زمانہ تھا بہا کرتے تھے اپنی لہر میں ایک ویرانی سی انجم رہ گئی آنکھوں میں اب خواب سارے بہہ گئے ہیں آنسوؤں کی نہر میں
vo jab apne lab kholein
وہ جب اپنے لب کھولیں شہد فضاؤں میں گھولیں آپ کے بھی ہو جائیں گے ہم پہلے اپنے تو ہو لیں دنیا سے کٹ جائیں ہم اتنا سچ ہی کیوں بولیں جب جب خود کو قتل کریں خنجر گنگا میں دھو لیں اڑنا ہم سکھلا دیں گے آپ ذرا سے پر کھولیں کچھ دن ہلکے گزریں گے آج کی شب کھل کر رو لیں دن بھر سورج ڈھویا ہے چاند سے لپٹیں اور سو لیں





