SHAWORDS
Ankit Maurya

Ankit Maurya

Ankit Maurya

Ankit Maurya

poet
15Shayari
33Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 33
غزل · Ghazal

بانٹ ڈالے ایسے ہم نے دل کے ٹکڑے کاٹ کر جنم دن پہ بانٹتے ہیں کیک جیسے کاٹ کر اک انگوٹھی لے نہ پائیں اتنے میں اس کے لیے جوڑ رکھے تھے جو پیسے جیب خرچے کاٹ کر ہم ندی کے دو کنارے ملنا تو ممکن نہیں پر ملیں گے ایک دن دونوں کنارے کاٹ کر حوصلوں پے ان پرندوں کے نہ کرنا شک کبھی ہے رہا ہونا جنہیں پنجرہ پروں سے کاٹ کر عشق جس میں نا بچھڑنے کا ذرا بھی ڈر رہے کھیلنا ہے کھیل پر سانپوں کے کھانے کاٹ کر زندگی سے ایسے کاٹا سین اس نے عشق کا دیکھتا ہے کوئی جیسے فلم گانے کاٹ کر

baanT Daale aise ham ne dil ke TukDe kaaT kar

1 views

غزل · Ghazal

جاتے وقت تجھے تو ہم ہنستا دیکھیں گے پھر آئینے میں خود کا رونا دیکھیں گے ایک دفعہ ہم نے تم کو جی بھر دیکھا تھا ہم بعد تمہارے اب کیا دنیا دیکھیں گے آپ نے میری آنکھوں میں دریا دیکھا ہے تھوڑا رک جائیں تو پھر صحرا دیکھیں گے ان آنکھوں میں اور کسی کا چہرہ دیکھا ہم اس سے زیادہ کیا اور برا دیکھیں گے کون نبھاتا ہے تا عمر کسی سے رشتہ پھر تجھ کو بھی ہم حیرت سے کیا دیکھیں گے

jaate vaqt tujhe to ham hanstaa dekheinge

1 views

غزل · Ghazal

دونوں طرف سے ربط کے پہلو نکال کر وہ لے گیا ہے آنکھ سے آنسو نکال کر ان کے سہارے کچھ نئی سی دھن بناؤں گا لایا ہوں اس کے پاؤں سے گھنگھرو نکال کر وہ حسن بھی لگے ہے مجھے تب سے عام سا جب سے گیا وہ عشق کا جادو نکال کر جھپکی تھی میں نے آنکھ بھی جس کے یقین پر وہ جا چکا ہے نیند میں بازو نکال کر مجھ کو بدن نصیب تھا پر روح کے بغیر اس نے دیا بھی پھول تو خوشبو نکال کر

donon taraf se rabt ke pahlu nikaal kar

1 views

غزل · Ghazal

پہلے لگا تھا ہجر میں جائیں گے جان سے پر جی رہے ہیں اور وہ بھی اطمینان سے دونوں کو جوڑے عشق کی نازک سی ڈور تھی افسوس وہ بھی ٹوٹ گئی کھینچ تان سے پھر درمیاں بچے گا جو وہ عشق ہی تو ہے دنیا اگر نکال دیں ہم درمیان سے اظہار کرتے رہتے ہیں ویسے تو کتنے لوگ اچھا لگے گا پر مجھے تیری زبان سے اول تو قاعدے سے وہاں ہم ہی آتے دوست اس نے مگر نکال دیا امتحان سے میرا ہی حق ملا مجھے احسان کی طرح اس نے معافی مانگ لی لیکن گمان سے

pahle lagaa thaa hijr mein jaaeinge jaan se

غزل · Ghazal

جب اس کی ہی اگر مرضی نہیں ہے کسی کی پھر یہاں چلتی نہیں ہے یہاں پے موت بھی سستی نہیں ہے پیالہ ہے مگر وہسکی نہیں ہے یہ سمجھیں دیکھ کر دنیا کے غم کو ہمارا غم ابھی کچھ بھی نہیں ہے محبت کلاس ہے جس میں کبھی بھی خیال یار سے چھٹی نہیں ہے ہمارے پاس لے کے آئیے دل ہماری حسن سے بنتی نہیں ہے صدا تو دور نئیں ہے روشنی بھی در زندان ہے کھڑکی نہیں ہے

jab us ki hi agar marzi nahin hai

غزل · Ghazal

بھٹکتے یوں ہی رہیں گے کب تک تو کیا ٹھکانا کوئی نہیں ہے ہمارے حصہ میں کوئی بستی یا کوئی صحرا کوئی نہیں ہے سوا تمہارے سنائیں کس کو ہم اپنے دل کی دو چار باتیں سوا تمہارے یہاں پے اپنا ہمارے مولیٰ کوئی نہیں ہے تمہاری خاطر تو ہم سے بہتر بھی بس ہمیں ہیں اے شاہزادی کہ ہم سے بڑھ کر تمہارا عاشق یا پھر دوانہ کوئی نہیں ہے تمہارے جانے پے اپنے دل کی حسین بستی اجاڑ دیں گے و جان جاناں یہاں کے لائق ہی اور دوجا کوئی نہیں ہے کسی کے دل میں ہماری خواہش کسی کے لب پے ہمارے بوسے خدا کے اتنے بڑے جہاں میں بھی شخص ایسا کوئی نہیں ہے یوں جا رہے ہو زمانہ خاطر تو چھوڑ ہم کو اے دوست لیکن یہ دھیان رکھنا سوا ہمارے ہمارے جیسا کوئی نہیں ہے

bhaTakte yunhi raheinge kab tak to kyaa Thikaanaa koi nahin hai

Similar Poets