SHAWORDS
Anwar Mirzapuri

Anwar Mirzapuri

Anwar Mirzapuri

Anwar Mirzapuri

poet
8Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

8 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے دیوانہ سمجھ کر ہی ان کے ہونٹوں پہ مرا نام آ جائے میں خوش ہوں اگر گلشن کے لیے کچھ میرا لہو کام آ جائے لیکن مجھ کو ڈر ہے اس کا گلچیں پہ نہ الزام آ جائے اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے اک چاند فلک پر نکلا ہو اک چاند سر بام آ جائے مے خانہ سلامت رہ جائے اس کی تو کسی کو فکر نہیں مے خوار ہیں بس اس خواہش میں ساقی پہ کچھ الزام آ جائے پینے کا سلیقہ کچھ بھی نہیں اس پر ہے یہ خواہش رندوں کی جس جام پہ حق ہے ساقی کا ہاتھوں میں وہی جام آ جائے اس واسطے خاک پروانہ پر شمع بہاتی ہے آنسو ممکن ہے وفا کے قصے میں اس کا بھی کہیں نام آ جائے افسانہ مکمل ہے لیکن افسانے کا عنواں کچھ بھی نہیں اے موت بس اتنی مہلت دے ان کا کوئی پیغام آ جائے

is vaaste daaman chaak kiyaa shaayad ye junun kaam aa jaae

غزل · Ghazal

رخ سے پردہ اٹھا دے ذرا ساقیا بس ابھی رنگ محفل بدل جائے گا ہے جو بے ہوش وہ ہوش میں آئے گا گرنے والا ہے جو وہ سنبھل جائے گا لوگ سمجھے تھے یہ انقلاب آتے ہی نظم کہنہ چمن کا بدل جائے گا یہ خبر کس کو تھی آتش گل سے ہی تنکا تنکا نشیمن کا جل جائے گا تم تسلی نہ دو صرف بیٹھے رہو وقت کچھ میرے مرنے کا ٹل جائے گا کیا یہ کم ہے مسیحا کے رہنے ہی سے موت کا بھی ارادہ بدل جائے گا تیر کی جاں ہے دل دل کی جاں تیر ہے تیر کو یوں نہ کھینچو کہا مان لو تیر کھینچا تو دل بھی نکل آئے گا دل جو نکلا تو دم بھی نکل جائے گا ایک مدت ہوئی اس کو روئے ہوئے ایک عرصہ ہوا مسکرائے ہوئے ضبط غم کا اب اور اس سے وعدہ نہ ہو ورنہ بیمار کا دم نکل جائے گا اپنے پردے کا رکھنا ہے گر کچھ بھرم سامنے آنا جانا مناسب نہیں ایک وحشی سے یہ چھیڑ اچھی نہیں کیا کرو گے اگر یہ مچل جائے گا اپنے وعدے کا احساس ہے تو مگر دیکھ کر تم کو آنسو امنڈ آئے ہیں اور اگر تم کو یہ بھی گوارا نہیں ابر برسے بغیر اب نکل جائے گا میرا دامن تو جل ہی چکا ہے مگر آنچ تم پر بھی آئے گوارا نہیں میرے آنسو نہ پونچھو خدا کے لیے ورنہ دامن تمہارا بھی جل جائے گا دل میں تازہ غم آشیاں ہے ابھی میرے نالوں سے برہم نہ صیاد ہو دھیرے دھیرے یہ آنسو بھی تھم جائیں گے رفتہ رفتہ یہ دل بھی بہل جائے گا میری فریاد سے وہ تڑپ جائیں گے میرے دل کو ملال اس کا ہوگا مگر کیا یہ کم ہے کہ وہ بے نقاب آئیں گے مرنے والے کا ارماں نکل جائے گا پھول کچھ اس طرح توڑ دے باغباں شاخ ہلنے نہ پائے نہ آواز ہو ورنہ گلشن پہ رونق نہ پھر آئے گی دل اگر ہر کسی کا دہل جائے گا اس کے ہنسنے میں رونے کا انداز ہے خاک اڑانے میں فریاد کا راز ہے اس کو چھیڑو نہ انورؔ خدا کے لیے ورنہ بیمار کا دم نکل جائے گا

rukh se parda uThaa de zaraa saaqiyaa bas abhi rang-e-mahfil badal jaaegaa

غزل · Ghazal

میں نظر سے پی رہا ہوں یہ سماں بدل نہ جائے نہ جھکاؤ تم نگاہیں کہیں رات ڈھل نہ جائے مرے اشک بھی ہیں اس میں یہ شراب ابل نہ جائے مرا جام چھونے والے ترا ہاتھ جل نہ جائے ابھی رات کچھ ہے باقی نہ اٹھا نقاب ساقی ترا رند گرتے گرتے کہیں پھر سنبھل نہ جائے مری زندگی کے مالک مرے دل پہ ہاتھ رکھنا ترے آنے کی خوشی میں مرا دم نکل نہ جائے مجھے پھونکنے سے پہلے مرا دل نکال لینا یہ کسی کی ہے امانت مرے ساتھ جل نہ جائے

main nazar se pi rahaa huun ye samaan badal na jaae

غزل · Ghazal

یہاں کانپ جاتے ہیں فلسفے یہ بڑا عجیب مقام ہے جسے اپنا اپنا خدا کہیں اسے سجدہ کرنا حرام ہے مری بے رخی سے نہ ہو خفا مرے ناصحا مجھے یہ بتا جو نظر سے پیتا ہوں میں یہاں وہ شراب کیسے حرام ہے جو پتنگا لو پہ فدا ہوا تو تڑپ کے شمع نے یہ کہا اسے میرے درد سے کیا غرض یہ تو روشنی کا غلام ہے شب انتظار میں بارہا مجھے انورؔ ایسا گماں ہوا جسے موت کہتا ہے یہ جہاں وہ کسی کے وعدے کا نام ہے

yahaan kaanp jaate hain falsafe ye baDaa ajiib maqaam hai

غزل · Ghazal

وعدۂ شام فردا پہ اے دل مجھے گر یقیں ہی نہ آئے تو میں کیا کروں ان کی جھوٹی تسلی کے طوفان میں نبض دل ڈوب جائے تو میں کیا کروں میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے جو مرا فرض تھا میں نے پورا کیا اب خدا بھول جائے تو میں کیا کروں سارے جھگڑے اگر میرے جینے کے ہیں تو گلا گھونٹ دو میں بھی بے زار ہوں موت اب تک تو دامن بچاتی رہی تو بھی دامن بچائے تو میں کیا کروں تو نہ سمجھے گا ہرگز مرے ناصحا میری مے نوشیاں میری بدمستیاں مجھ پہ تہمت نہ رکھ میں شرابی نہیں وہ نظر سے پلائے تو میں کیا کروں تم مجھے بے وفائی کے طعنے نہ دو میرے محبوب میں بے وفا تو نہیں تم بھی مغرور ہو میں بھی خوددار ہوں آنکھ خود ہی بھر آئے تو میں کیا کروں

vaada-e-shaam-e-fardaa pe ai dil mujhe gar yaqin hi na aae to main kyaa karun

غزل · Ghazal

میں تو سمجھا تھا جس وقت مجھ کو وہ ملیں گے تو جنت ملے گی کیا خبر تھی رہ عاشقی میں ساتھ ان کے قیامت ملے گی میں نہیں جانتا تھا کہ مجھ کو یہ محبت کی قیمت ملے گی آنسوؤں کا خزانہ ملے گا چاک دامن کی دولت ملے گی پھول سمجھے نہ تھے زندگانی اس قدر خوبصورت ملے گی اشک بن کر تبسم ملے گا درد بن کر مسرت ملے گی میری رسوائیوں پہ نہ خوش ہو میری دیوانگی کو دعا دو تم کو جتنی بھی شہرت ملے گی صرف میری بدولت ملے گی دل ہمارا نہ توڑو خدارا ورنہ کھو دوگے اپنا سہارا ذرے ذرے میں اس آئنے کے تم کو اپنی ہی صورت ملے گی ان کے رخ سے نقاب آج اٹھے گی اب نظاروں کی معراج ہوگی ایک مدت سے آج اہل غم کو مسکرانے کی مہلت ملے گی کیسے ثابت قدم وہ رہے گا اس کی توبہ کا کیا حال ہوگا جس کو سنتے ہیں شیخ حرم سے مے کشی کی اجازت ملے گی

main to samjhaa thaa jis vaqt mujh ko vo mileinge to jannat milegi

Similar Poets