SHAWORDS
Aqeel Abbas

Aqeel Abbas

Aqeel Abbas

Aqeel Abbas

poet
32Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

گھر سے نکلی کہا سہیلی کا پھول ہم راہ تھا چنبیلی کا بالا خانے سے چیخ اٹھتی تھی اور در بند تھا حویلی کا وقت فرماں روائے دلی ہے اور میں بخت ہوں بریلی کا اس نے دست طلب دراز کیا چھید ظاہر ہوا ہتھیلی کا وقت کولہو ہے اور ہم سب بیل منفرد ہے نظام تیلی کا

ghar se nikli kahaa saheli kaa

غزل · Ghazal

وہ گھوڑیوں کی طرح شوخ اور لچیلی تھی میں شہسوار تھا لیکن گرفت ڈھیلی تھی لگا ہوا ہے زمانہ بڑائی میں جس کی اسی نے شہر سے پہلی لگان بھی لی تھی وہ جا چکی تو اچانک مجھے خیال آیا وہ گھاس جس پہ میں بیٹھا تھا کتنی گیلی تھی ہمارا خون سمے کا سفوف جذب کرے ہماری چھال کسی بد گماں نے چھیلی تھی اب اس کا ڈھب بھی کوئی دیکھتا تو ہوگا ہی جسے تراش کے قرنوں نے زہر پی لی تھی

vo ghoDiyon ki tarah shokh aur lachili thi

غزل · Ghazal

عام سی ہے دراز قد بھی نہیں پر محبت کی کوئی حد بھی نہیں سبزی مائل ہے آنکھ کا عدسہ اور اس پر کوئی عدد بھی نہیں تو نے پوچھا تو کہہ دیا جو تھا یعنی اندر کہیں حسد بھی نہیں اب دلائل کی پوٹلی کھولیں یہ حوالہ تو مستند بھی نہیں زخم سلنے سے کیا تلافی ہو داخلیت کی کوئی مد بھی نہیں

aam si hai daraaz-qad bhi nahin

غزل · Ghazal

زخم کے ہونٹ پر لعاب اس کا خوش بہت ہے مجھے خوش آب اس کا اس نے اپلوں پہ دیگچی رکھی اور پکنے لگا شباب اس کا عشق نے پھر کسی کو بھیجا ہے خیر مقدم کرے چناب اس کا تجھ تمنا میں جو عبادت کی کیا تجھے بخش دوں ثواب اس کا قوس پر سے عمود اٹھتا ہوا یعنی پھر جل اٹھا ہے خواب اس کا دائرہ دائرے کو چھوتا ہوا اور قوسین پر حجاب اس کا

zakhm ke honT par luaab us kaa

غزل · Ghazal

سانپ نے غار میں رہائش کی اور دیدار کی گزارش کی سبزگی نے غلاف کاڑھ لیا اور نعلین کی ستائش کی لب پہ نعت نبی رواں رہنا اور سینے میں آگ خواہش کی غار میں دوسرا بھی تھا کوئی جس نے دیوار پر نگارش کی پیش رو بارگاہ میں پہنچے یعنی بار دگر سفارش کی

saanp ne ghaar mein rihaaish ki

غزل · Ghazal

منظر کی اوک سے بڑی اوچھی لپک اٹھی ہم جھڑ چکے تو پیڑ کی ڈالی لچک اٹھی پانی کی پیش رفت نے سوکھا بھگا دیا بارش کے بعد گھاس کی ٹکڑی لہک اٹھی گوری نے پاؤں راہ کے پتھر پہ رکھ دیا یعنی کمر کے زور سے گاگر چھلک اٹھی ندی کا زور اب کوئی چھاتی پہ روک لے پشتہ بنا رہے تھے کہ مٹی سرک اٹھی پورے بدن سے قافلے حرکت میں آ گئے رانوں میں سرخ آب کی سازش بدک اٹھی گردن کے جوڑ پر ترے بوسے کی بستگی اک لمس اور کان کی لو تک دمک اٹھی

manzar ki ok se baDi ochhi lapak uThi

Similar Poets