ek lamhe ko tum mile the magar
umr bhar dil ko ham masalte rahe

Arsh Siddiqui
Arsh Siddiqui
Arsh Siddiqui
Popular Shayari
11 totalhaan samundar mein utar lekin ubharne ki bhi soch
Dubne se pahle gahraai kaa andaaza lagaa
ik teri be-rukhi se zamaana khafaa huaa
ai sang-dil tujhe bhi khabar hai ki kyaa huaa
ham ki maayus nahin hain unhein paa hi leinge
log kahte hain ki DhunDe se khudaa miltaa hai
bas yunhi tanhaa rahungaa is safar mein umr bhar
jis taraf koi nahin jaataa udhar jaataa huun main
dekh rah jaae na tu khvaahish ke gumbad mein asiir
ghar banaataa hai to sab se pahle darvaaza lagaa
main pairvi-e-ahl-e-siyaasat nahin kartaa
ik raasta in sab se judaa chaahiye mujh ko
ham ne chaahaa thaa teri chaal chalein
haae ham apni chaal se bhi gae
uThti to hai sau baar pe mujh tak nahin aati
is shahr mein chalti hai havaa sahmi hui si
vo ayaadat ko to aayaa thaa magar jaate hue
apni tasvirein bhi kamre se uThaa kar le gayaa
zamaane bhar ne kahaa 'arsh' jo, khushi se sahaa
par ek lafz jo us ne kahaa sahaa na gayaa
Ghazalغزل
ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں راز انداز تکلم سے عیاں دیکھتے ہیں جان لیوا ہے فریب رہ گلزار طلب نشتر شوق قریب رگ جاں دیکھتے ہیں ہے اسی گھر میں کہیں گوہر امید نہاں سوئے ویرانۂ دل بہر اماں دیکھتے ہیں کیسے بنتا ہے لہو سرخی افسانۂ دل کیسے بنتا ہے قلم نوک سناں دیکھتے ہیں آتش شوق کو رکھتے ہیں بہ ہر طور جواں خاک گلشن میں زر گل کے نشاں دیکھتے ہیں خشمگیں آج وہ یوں ہیں کہ نہیں تاب سخن عرشؔ ہم آج ترا زور بیاں دیکھتے ہیں
ham ki khaamosh hue ahl-e-bayaan dekhte hain
بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ اسے کہو کہ جئے عزم استوار کے ساتھ نہ ہو سکی کبھی توفیق درگزر کی اسے نہ چل سکے کبھی ہم خود بھی اقتدار کے ساتھ فقیہ شہر سے کہنا کہ دل کشادہ رکھے ملا ہے منصب اعلیٰ جو اختیار کے ساتھ نشان ناقۂ لیلےٰ پہنچ سے دور نہیں کبھی چلو تو سہی دو قدم غبار کے ساتھ تمام عمر رہا وہ رہین منت غیر اسے تو مرنا بھی آیا نہیں وقار کے ساتھ ازل سے عرشؔ اک آوارگی نصیب میں ہے ہوائے دشت کو نسبت نہیں قرار کے ساتھ
bandhaa hai ahd-e-junun chashm-e-etibaar ke saath
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں تم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کر کس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھ گر تعاقب میں نہ ہو سورج تو مر جاتا ہوں میں ہاتھ آنکھوں سے اٹھا کر دیکھ مجھ سے کچھ نہ پوچھ کیوں افق پر پھیلتی صبحوں سے ڈر جاتا ہوں میں بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں خوف کی یہ انتہا صدیوں سے آنکھیں بند ہیں شوق کی یہ ابلہی بے بال و پر جاتا ہوں میں عرشؔ رسموں کی پنہ گاہیں بھی اب سر پر نہیں اور وحشی راستوں پر بے سپر جاتا ہوں میں
phir hunar-mandon ke ghar se be-hunar jaataa huun main
زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے زور دریا کا فقط بہنے میں ہے رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگ عافیت اب گھومتے رہنے میں ہے کہہ رہے ہیں لوگ اس سے بات کر جیسے وہ ظالم مرے کہنے میں ہے چھو لیا تھا درد کی زنجیر کو وہ بھی اب شامل مرے کہنے میں ہے عرشؔ وہ اپنی خدائی میں کہاں بات جو اس کو خدا کہنے میں ہے
zindagi hone kaa dukh sahne mein hai
عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا جو سر پہ بار تھا اندیشۂ سزا نہ گیا خموش ہم بھی نہیں تھے حضور یار مگر جو کہنا چاہتے تھے بس وہی کہا نہ گیا پلٹ کے دیکھنے کی اب تو آرزو بھی نہیں تھی عاشقی ہمیں جب خوب، وہ زمانہ گیا رہے مصر کہ اٹھا دیں وہ انجمن سے ہمیں ہم اٹھنا چاہتے بھی تھے مگر اٹھا نہ گیا ہمارے نام سے جب ذکر بے وفائی چلا جنوں میں بول پڑے ہم سے بھی رہا نہ گیا ہمارا قصۂ غم بیچ میں وہ چھوڑ اٹھے انہی کی ضد تھی مگر ان ہی سے سنا نہ گیا زمانے بھر نے کہا عرشؔ جو، خوشی سے سہا پر ایک لفظ جو اس نے کہا سہا نہ گیا
azaab-e-be-dili-e-jaan-e-mubtalaa na gayaa
تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا وہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگر وہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا کب اسے رکنے کی فرصت تھی غرور حسن میں میں تعاقب میں رواں تھا میں صدا دیتا رہا جل رہا تھا خود ہی بے مائیگی کی آگ میں میں اسی دامن سے شعلوں کو ہوا دیتا رہا گرچہ مہلک تھا مگر انصاف کی امید پر مدتوں اک زخم قاتل کو صدا دیتا رہا میں تو اس کی جستجو میں تھا گزر آیا مگر دشت ماضی دیر تک بوئے وفا دیتا رہا سب سے پیچھے رہ گیا ہوں عرشؔ یوں اس دشت میں میں سفر میں ہر کسی کو راستہ دیتا رہا
thaa bahut be-dard lekin hausla detaa rahaa





