SHAWORDS
Asim Wasti

Asim Wasti

Asim Wasti

Asim Wasti

poet
27Shayari
148Ghazal

Popular Shayari

27 total

Ghazalغزل

See all 148
غزل · Ghazal

بہت آباد گاؤں کے شجر ہیں پرندے بیشتر بے بال و پر ہیں دعاؤں میں اثر آئے تو کیسے ہماری خواہشیں نا معتبر ہیں اسے کرنی تھی میرے فن پہ تنقید مگر حملے تو میری ذات پر ہیں بظاہر بستیاں اجڑی ہوئی ہیں مگر ان میں ابھی آباد گھر ہیں ہماری زندگی ہے دو گھروں کی کہ ہم آدھے ادھر آدھے ادھر ہیں ہماری منزلیں ہیں دور لیکن ہمارے راستے تو مختصر ہیں ہم ان سے بات کر لیتے ہیں عاصمؔ مگر دیوار و در دیوار و در ہیں

bahut aabaad gaaon ke shajar hain

غزل · Ghazal

جو دل لگی ہے اسے دل سے مت لگا لیا کر ہنسی کی بات کوئی ہو تو ہنس ہنسا لیا کر وہ راستہ نہیں محفوظ اس طرف جب بھی سفر کرے تو کوئی قافلہ بنا لیا کر غلط ہے جو بھی کمائے ادھر ادھر کر دے برے دنوں کے لئے کچھ نہ کچھ بچا لیا کر کہا نہ کر کہ مجھے زہر سے نہیں رغبت تجھے وہ پیار سے جو کچھ کھلائے کھا لئے کر اگر ہے شوق ترا رنگ سانولا ہو جائے تو میری جان ذرا دھوپ میں نہا لیا کر یہ بات سچ ہے کہ مصروف ہوں بہت پھر بھی ستائے جب تجھے تنہائی تو بلا لیا کر سمجھنا ٹھیک نہیں بے وفائی غفلت کو جب آئے دل میں کوئی شک تو آزما لیا کر اسے یہ ظاہری باتیں پسند ہیں عاصمؔ وہ آئے جب تجھے ملنے تو گھر سجا لیا کر

jo dil-lagi hai use dil se mat lagaa liyaa kar

غزل · Ghazal

پھول میں سوکھتی شاخوں پہ اگاتا رہ جاؤں ختم ہوتے ہوئے منظر نہ سجاتا رہ جاؤں یہ نہ ہو اور کہیں اٹھ کے چلا جائے تو یہ نہ ہو میں تری تصویر بناتا رہ جاؤں نغمۂ عشق مری طرح کوئی گا نہ سکے اپنی آواز میں آواز ملاتا رہ جاؤں ڈر رہا ہوں تو کہیں بھیڑ میں ہو جائے نہ گم اور لوگوں کو میں تصویر دکھاتا رہ جاؤں اپنے دشمن کے اشاروں پہ نہ یوں جنگ لڑوں اپنے ہی آپ سے میں جان بچاتا رہ جاؤں جاؤں جب اپنی طرف میں تو پلٹنا پڑ جائے اور جب تیری طرف آؤں تو آتا رہ جاؤں یہ نہ ہو رہ گزر عشق ہو پختہ عاصمؔ اپنے ہی جسم کی میں خاک اڑاتا رہ جاؤں

phuul main sukhti shaakhon pe ugaataa rah jaaun

غزل · Ghazal

صحرا کو رکھ نظر میں سمندر نظر میں رکھ دو زاویوں سے پیاس کا منظر نظر میں رکھ ممکن ہے اس کی چشم تغافل ہو چشم لطف ہر سرسری نظر کو سراسر نظر میں رکھ اے خواب نا شناس نہ کر نیند کا زیاں منظر ہے جو بھی آنکھ کے اندر نظر میں رکھ ہوتی ہے اب شناخت ہیولوں سے اختراع بے جسم ہو رہے ہیں جو پیکر نظر میں رکھ خود کو غرور اور تکبر سے یوں بچا اک شخص اپنے آپ سے بہتر نظر میں رکھ آیا ہے تجھ سے امن پہ کرنے مذاکرات عاصمؔ عدو کی آنکھ کا خنجر نظر میں رکھ

sahraa ko rakh nazar mein samundar nazar mein rakh

غزل · Ghazal

تری شبیہ کی پہچان تک نہیں پہنچا مرا گماں مرے عرفان تک نہیں پہنچا کسی خیال نے ممکن کی حد نہیں دیکھی کوئی نہایت امکان تک نہیں پہنچا تجھے میں حسن تعلق کی داد کیسے دوں ترا سلوک تو احسان تک نہیں پہنچا ابھی یہ لمس مکمل نہیں ہوا مری جان ابھی یہ خون کے دوران تک نہیں پہنچا دریدہ پیرہنی کا سبب تو ہم خود ہیں عدو کا ہاتھ گریبان تک نہیں پہنچا ابھی بہار میں وارفتگی نہیں عاصمؔ گل نہال گلستان تک نہیں پہنچا

tiri shabih ki pahchaan tak nahin pahunchaa

غزل · Ghazal

پھسل کے وقت کی زنجیر سے نکل آئے یہ رفتگاں ہیں جو تصویر سے نکل آئے پکارتی چلی جاتی ہے ساعت عجلت کوئی تو وقفۂ تاخیر سے نکل آئے کچھ اور بات سمجھ آئی تھی معانی سے کچھ اور زاویے تفسیر سے نکل آئے گمان یہ تھا کہ مقدور نے بچایا ہے خبر ملی ہے کہ تقدیر سے نکل آئے کیا تھا نیند میں ہم نے جنہیں نظر انداز وہ لوگ خواب کی تعبیر سے نکل آئے کسی طرح کی اسیری ہمیں قبول نہیں ترے خیال عناں گیر سے نکل آئے مری دعا ہے کہ بالکل نیا فلک عاصمؔ نئی زمین کی تعمیر سے نکل آئے

phisal ke vaqt ki zanjir se nikal aae

Similar Poets