SHAWORDS
Azm Bahzad

Azm Bahzad

Azm Bahzad

Azm Bahzad

poet
18Sher
18Shayari
16Ghazal

Sherشعر

See all 18

Popular Sher & Shayari

36 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

khultaa nahin ki ham mein khizaan-dida kaun hai

کھلتا نہیں کہ ہم میں خزاں دیدہ کون ہے آسودگی کے باب میں رنجیدہ کون ہے آمادگی کو وصل سے مشروط مت سمجھ یہ دیکھ اس سوال پہ سنجیدہ کون ہے دیکھوں جو آئینہ تو غنودہ دکھائی دوں میں خواب میں نہیں تو یہ خوابیدہ کون ہے انبوہ اہل زخم تو کب کا گزر چکا اب رہ گزر پہ خاک میں غلطیدہ کون ہے اے کرب نا رسائی کبھی یہ تو غور کر میرے سوا یہاں ترا گرویدہ کون ہے ہر شخص دوسرے کی ملامت کا ہے شکار آخر یہاں کسی کا پسندیدہ کون ہے تو عزم ترک عشق پہ قائم تو ہے مگر تجھ میں یہ چند روز سے لرزیدہ کون ہے

غزل · Ghazal

vusat-e-chashm ko andoh-e-basaarat likhkhaa

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا میں نے پرواز لکھی حد فلک سے آگے اور بے بال و پری کو بھی نہایت لکھا میں نے خوشبو کو لکھا دسترس گم شدگی رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا حسن گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی شور لکھنا تھا سو آزار سماعت لکھا میں نے تعبیر کو تحریر میں آنے نہ دیا خواب لکھتے ہوئے محتاج بشارت لکھا کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے قرب کو جب بھی لکھا جذب رقابت لکھا اتنے داؤں سے گزر کر یہ خیال آتا ہے عزمؔ کیا تم نے کبھی حرف ندامت لکھا

غزل · Ghazal

shaam aai to koi khush-badani yaad aai

شام آئی تو کوئی خوش بدنی یاد آئی مجھے اک شخص کی وعدہ شکنی یاد آئی مجھے یاد آیا کہ اک دور تھا سرگوشی کا آج اسی دور کی اک کم سخنی یاد آئی مسند نغمہ سے اک رنگ تبسم ابھرا کھلکھلاتی ہوئی غنچہ دہنی یاد آئی لب جو یاد آئے تو بوسوں کی خلش جاگ اٹھی پھول مہکے تو مجھے بے چمنی یاد آئی پھر تصور میں چلی آئی مہکتی ہوئی شب اور سمٹی ہوئی بے پیرہنی یاد آئی ہاں کبھی دل سے گزرتا تھا جلوس خواہش آج اسی طرح کی اک نعرہ زنی یاد آئی قصۂ رفتہ کو دہرا تو لیا عزمؔ مگر کس مسافت پہ تمہیں بے وطنی یاد آئی

غزل · Ghazal

vusat-e-chashm ko andoh-e-basaarat likkhaa

وسعت چشم کو اندوہ بصارت لکھا میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا میں نے لکھا کہ صف دل کبھی خالی نہ ہوئی اور خالی جو ہوئی بھی تو ملامت لکھا یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہے میں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا لکھنے والوں نے تو ہونے کا سبب لکھا ہے میں نے ہونے کو نہ ہونے کی وضاحت لکھا اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا میں نے خوشبو کو لکھا دسترس گمشدگی رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا زخم لکھنے کے لیے میں نے لکھی ہے غفلت خون لکھنا تھا مگر میں نے حرارت لکھا میں نے پرواز لکھی حد فلک سے آگے اور ہے بال و پری کو بھی نہایت لکھا حسن گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی شور لکھنا تھا سو آزار سماعت لکھا اتنے دعووں سے گزر کر یہ خیال آتا ہے عزمؔ کیا تم نے کبھی حرف ندامت لکھا

غزل · Ghazal

mujhe kal achaanak khayaal aa gayaa aasmaan kho na jaae

مجھے کل اچانک خیال آ گیا آسماں کھو نہ جائے سمندر کو سر کرتے کرتے کہیں بادباں کھو نہ جائے کوئی نا مرادی کی یلغار سینے کو چھلنی نہ کر دے کہیں دشت انفاس میں صبر کا کارواں کھو نہ جائے یہ ہنستا ہوا شور سنجیدگی کے لیے امتحاں ہے سو محتاط رہنا کہ تہذیب آہ و فغاں کھو نہ جائے اسے وقت کا جبر کہیے کہ بیچارگی جسم و جاں کی مکاں کھونے والوں کو ڈر ہے کہ اب لا مکاں کھو نہ جائے میں اپنے ارادوں کی گٹھری اٹھائے کہیں جا نہ پایا ہمیشہ یہ دھڑکا رہا محفل دوستاں کھو نہ جائے یہ قصوں کی رم جھم میں بھیگا ہوا حلقۂ گفتگو ہے یہاں چپ ہی رہنا کہ تاثیر لفظ و بیاں کھو نہ جائے یہاں کس کو فرصت کہ آغاز و انجام کو یاد رکھے سبھی کو یہ تشویش ہے وقت کا درمیاں کھو نہ جائے یہ بازار نفع و ضرر ہے یہاں بے-توازن نہ ہونا سمیٹو اگر سود تو دھیان رکھنا زیاں کھو نہ جائے اٹھو عزمؔ اس آتش شوق کو سرد ہونے سے روکو اگر رک نہ پائے تو کوشش یہ کرنا دھواں کھو نہ جائے

غزل · Ghazal

dil soyaa huaa thaa muddat se ye kaisi bashaarat jaagi hai

دل سویا ہوا تھا مدت سے یہ کیسی بشارت جاگی ہے اس بار لہو میں خواب نہیں تعبیر کی لذت جاتی ہے اس بار نظر کے آنگن میں جو پھول کھلا خوش رنگ لگا اس بار بصارت کے دل میں نادیدہ بصیرت جاگی ہے اک بام سخن پر ہم نے بھی کچھ کہنے کی خواہش کی تھی اک عمر کے بعد ہمارے لیے اب جا کے سماعت جاگی ہے اک دست دعا کی نرمی سے اک چشم طلب کی سرخی تک احوال برابر ہونے میں اک نسل کی وحشت جاگی ہے اے طعنہ زنو دو چار برس تم بول لیے اب دیکھتے جاؤ شمشیر سخن کس ہاتھ میں ہے کس خون میں حدت جاگی ہے

Similar Poets