viraan zindagi ke ye lamhe ajiib hain
bazm-e-tarab mein dhuum hai furqat dhamaal se

Baharunnisa Bahar
Baharunnisa Bahar
Baharunnisa Bahar
Popular Shayari
7 totalye zakhm-e-anaa kaafi hai ai yusuf-e-dauraan
is chashm-e-zulekhaa ko tu ghamnaak na karnaa
munjamid ho zindagi mein jab kabhi shahr-e-khayaal
phir charaagh-e-dil se us ko jagmagaanaa chaahiye
ghaayal vajud soch ki baisaakhiyaan liye
milne chalaa hai guzre hue maah-o-saal se
harf saare bol uTThein jab bhi main likhne lagun
ab koi jazba miraa mahv-e-duaa lagtaa nahin
ashk ke abr-e-ravaan mein DhunDhti huun main tujhe
aas ki in titliyon ko bhi Thikaanaa chaahiye
havaa hai ret hai dasht-e-vafaa hai
ruton ko aataa jaataa dekhti huun
Ghazalغزل
منزل مہر و وفا کی رہنمائی ہو گئی جب ملی تم سے تو خود سے آشنائی ہو گئی سامنے دل آ گیا تو سارے منظر جل اٹھے آئنہ خانے میں رسم خود نمائی ہو گئی میں عروج بندگی کو نام دے دوں گی اگر ان کے در تک میرے سجدوں کی رسائی ہو گئی ایک لمحے کے لئے گم ہو اگر ان کا خیال میں یہ سمجھوں گی کہ مجھ سے بے وفائی ہو گئی زعم زاہد کو بہت تھا پارسائی پر مگر اک اشارے سے شکست پارسائی ہو گئی ظلم بھی اس نے کیا اور بن گیا مظلوم بھی کیا گواہ اس شخص کی ساری خدائی ہو گئی اک ملن رت آئی تھی میرے لئے لیکن بہارؔ اس فضا میں دفعتاً شام جدائی ہو گئی
manzil-e-mehr-o-vafaa ki rahnumaai ho gai
1 views
آس کے پر کیف موسم کا اثر کیسا لگا اس بہار نو شگفتہ کا ثمر کیسا لگا میں نہ کہتی تھی اداسی کے سوا کچھ بھی نہیں آپ نے دیکھا مرا ویران گھر کیسا لگا میں نے اک بت کو تراشا ہے زمانے کے لئے اے ہنر مندو مرا کار ہنر کیسا لگا ظلمتوں کے ساتھ تو تم نے نبھایا عمر بھر شب گزیدہ لوگو انداز سحر کیسا لگا کیسا منظر ہے کہ ہے گل پوش دنیا کا دروغ زندگی کا سچ مقام دار پر کیسا لگا یہ بتاؤ لوٹ کر آ ہی گئے ہو تم اگر زیست کے بے نام شہروں کا سفر کیسا لگا میں نے دروازہ تری خاطر کیا تھا وا بہارؔ تو بتا دے تجھ کو الفت کا نگر کیسا لگا
aas ke pur-kaif mausam kaa asar kaisaa lagaa
1 views
امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا یوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرنا تاریکئ شب ہے مرا پہلے سے مقدر اور تم بھی اندھیرے مری املاک نہ کرنا یہ زخم انا کافی ہے اے یوسف دوراں اب چشم زلیخا کو تو نمناک نہ کرنا جب نیندیں بچھڑ جائیں تو آ جاتی ہیں یادیں اس خواب نگر کو پس افلاک نہ کرنا بیٹھی ہوں امیدوں پہ بہارؔ آئے گی شاید یوں آس جزیرے کو تہ خاک نہ کرنا
ummid kaa daaman tu miraa chaak na karnaa
ہجوم یاس نے گھیرا تو کیسے مسکراؤ گے جو ابر اشک آ برسا کہاں اس کو چھپاؤ گے مری باتیں مری چاہت مری سرگوشیاں جاناں چلے گی جب ہوا تھم تھم تو آہٹ میری پاؤ گے یہ جگنو اور ستارے چاندنی راتیں سبھی ہوں گے یہ سب موسم ہمارے ہیں ہمیں کیونکر بھلاؤ گے ہے تنہائی ہمیں پیاری یہی بخشش ہے دنیا کی محبت کے تقاضوں کو مگر تم کیا نبھاؤ گے چلے آتے ہیں گھر واپس پرندے شام کو سارے مرا گھر اے بہارؔ آ کے نہ جانے کب بساؤ گے
hujum-e-yaas ne gheraa to kaise muskuraaoge
لاکھ چاہا رک نہ پایا خواہشوں کا سلسلہ ناتواں دل نے اٹھایا آنسوؤں کا سلسلہ کیسے خواہش میں کروں پرواز کی تو ہی بتا دل میں گھٹ کر رہ گیا جب حسرتوں کا سلسلہ گھر سے گھر کو یوں ملانا کام تو آساں نہ تھا اپنے ہاتھوں سے بڑھایا نفرتوں کا سلسلہ تجھ کو ڈھونڈا اس طرح جیسے خدا ہے تو مرا راہ میں کس نے بنایا مقبروں کا سلسلہ روح کی گہرائیوں میں تو اتر کر آ گیا ذہن کی سیڑھی سے آیا قربتوں کا سلسلہ تجھ کو پا لینا ہی میری منزل مقصود ہے جا بجا کس نے بچھایا پتھروں کا سلسلہ زندگی کے دشت میں آیا نہ جب عکس بہار میں نے خود کو خود دکھایا وحشتوں کا سلسلہ
laakh chaahaa ruk na paayaa khvaahishon kaa silsila
بند آنکھوں کی جب کھڑکیاں کھل گئیں ہو گئی شاعری کاپیاں کھل گئیں ساحل دل پہ ارماں کی کشتی چلی یوں تلاطم اٹھا رسیاں کھل گئیں شعر و نغمے کی محفل جہاں بھی سجی موسم حبس کی مٹھیاں کھل گئیں آنکھ میچے ہی پہچانا میں نے تجھے پھر گلابوں سی دو پتیاں کھل گئیں تجھ کو دیکھا لگا صبح نو ہو گئی الجھنوں سے بنی گتھیاں کھل گئیں موسم دل پہ جب سے بہارؔ آ گئی آرزؤں بھری تتلیاں کھل گئیں
band aankhon ki jab khiDkiyaan khul gaiin





