SHAWORDS
Baqar Mehdi

Baqar Mehdi

Baqar Mehdi

Baqar Mehdi

poet
20Shayari
33Ghazal

Popular Shayari

20 total

Ghazalغزل

See all 33
غزل · Ghazal

اس درجہ ہوا خوش کہ ڈرا دل سے بہت میں خود توڑ دیا بڑھ کے تمناؤں کا دھاگا تاکہ نہ بنوں پھر کہیں اک بندۂ مجبور ہاں قید محبت سے یہی سوچ کے بھاگا ٹھوکر جو لگی اپنے عزائم نے سنبھالا میں نے تو کبھی کوئی سہارا نہیں مانگا چلتا رہا میں ریت پہ پیاسا تن تنہا بہتی رہی کچھ دور پہ اک پیار کی گنگا میں تجھ کو مگر جان گیا شمع تمنا سمجھی تھی کہ جل جائے گا شاعر ہے پتنگا آنکھوں میں ابھی تک ہے خمار غم جاناں جیسے کہ کوئی خواب محبت سے ہے جاگا جو خود کو بدل دیتے ہیں اس دور میں باقرؔ کرتے ہیں حقیقت میں وہ سونے پہ سہاگا

is darja huaa khush ki Daraa dil se bahut main

غزل · Ghazal

لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا جنہیں نہ ہوش ہو غم کا وہ غم کے مارے کیا مہکتے خون سے صحرا جلے ہوئے گلشن نظر فریب ہیں دنیا کے یہ نظارے کیا امید و بیم کی یہ کشمکش ہے راز حیات سکوں نواز ہیں اس کے سوا سہارے کیا کوئی ہزار مٹائے ابھرتے آئے ہیں ہم اہل درد جنون جفا سے ہارے کیا

laraz laraz ke na TuTein to vo sitaare kyaa

غزل · Ghazal

دیوانگی کی راہ میں گم سم ہوا نہ تھا! دنیا میں اپنا کوئی کہیں آشنا نہ تھا! دھڑکن کا درد جسم کو تڑپا کے رہ گیا رگ رگ میں ایک شور مسیحا بپا نہ تھا! اک کشمکش کے بعد تعلق نہیں رہا بیگانہ ہو کے ہم سے وہ لیکن خفا نہ تھا! دیوار و در پہ پردے لٹکتے تھے ہر طرف افلاس کونے کونے میں لیکن چھپا نہ تھا! زنجیریں لاکھ ٹوٹیں مگر خوف حکمراں مجبوریوں کے جال سے کوئی رہا نہ تھا! اک اپنی چیخ سے لرز اٹھے تھے بام و در آئی نہ بازگشت کوئی ہم نوا نہ تھا! آتے رہے نہ جانے کہاں سے خطوں پہ خط بے نور چشم نم نے کسی کو پڑھا نہ تھا!

divaangi ki raah mein gum-sum huaa na thaa!

غزل · Ghazal

جو زمانے کا ہم زباں نہ رہا وہ کہیں بھی تو کامراں نہ رہا اس طرح کچھ بدل گئی ہے زمیں ہم کو اب خوف آسماں نہ رہا جانے کن مشکلوں سے جیتے ہیں کیا کریں کوئی مہرباں نہ رہا ایسی بیگانگی نہیں دیکھی اب کسی کا کوئی یہاں نہ رہا ہر جگہ بجلیوں کی یورش ہے کیا کہیں اپنا آشیاں نہ رہا مفلسی کیا گلہ کریں تجھ سے ساتھ تیرا کہاں کہاں نہ رہا حسرتیں بڑھ کے چومتی ہیں قدم منزلوں کا کوئی نشاں نہ رہا خون دل اپنا جل رہا ہے مگر شمع کے سر پہ وہ دھواں نہ رہا غم نہیں ہم تباہ ہو کے رہے حادثہ بھی تو ناگہاں نہ رہا قافلے خود سنبھل سنبھل کے بڑھے جب کوئی میر کارواں نہ رہا

jo zamaane kaa ham-zabaan na rahaa

غزل · Ghazal

بدل کے رکھ دیں گے یہ تصور کہ آدمی کا وقار کیا ہے خلا میں وہ چاند ناچتا ہے زماں مکاں کا حصار کیا ہے بہک گئے تھے سنبھل گئے ہیں ستم کی حد سے نکل گئے ہیں ہم اہل دل یہ سمجھ گئے ہیں کشاکش روزگار کیا ہے ابھی نہ پوچھو کہ لالہ زاروں سے اٹھ رہا ہے دھواں وہ کیسا مگر یہ دیکھو کہ پھول بننے کا آرزو مند خار کیا ہے وہی بنے دشمن تمنا جنہیں سکھایا تھا ہم نے جینا اگر یہ پوچھیں تو کس سے پوچھیں کہ دوستی کا شعار کیا ہے کبھی ہے شبنم کبھی شرارا فلک سے ٹوٹا تو ایک تارا غم محبت کے رازدارو یہ گوہر آبدار کیا ہے بہار کی تم نئی کلی ہو ابھی ابھی جھوم کر کھلی ہو مگر کبھی ہم سے یوں ہی پوچھو کہ حسرتوں کا مزار کیا ہے بہ ایں تباہی دکھائے ہم نے وہ معجزے عاشقی کے تم کو بہ ایں عداوت کبھی نہ کہنا کہ آپ سا خاکسار کیا ہے بنے کوئی علم و فن کا مالک کہ میں ہوں راہ وفا کا سالک نہیں ہے شہرت کی فکر باقرؔ غزل کا اک رازدار کیا ہے

badal ke rakh deinge ye tasavvur ki aadmi kaa vaqaar kyaa hai

غزل · Ghazal

بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن ٹھہر ٹھہر کے گرے ہیں آنسو بکھر بکھر کے ہیں خواب روشن سوال مبہوت سے کھڑے ہیں کہ جیسے سینوں میں دل نہیں ہیں افق کے اس پار جا کے دیکھو شکستہ مضطر جواب روشن وہ بیکسی ہے کہ العطش کی صدائیں خاموش ہو گئی ہیں کہاں ہے کوئی حسین یارو کہ ہر طرف ہے سراب روشن عجیب غم ناک ہیں ہوائیں لہو لہو ہے فضائے گنگا تڑپتی موجیں شکستہ کشتی بجھے دیے اور حباب روشن غلام گردش میں ہے اندھیرا ہے دم بخود سرخ سا سویرا کفن پہن کر نکل چکے ہیں غریب باقرؔ نواب روشن

bujhi bujhi hai sadaa-e-naghma kahin kahin hain rabaab raushan

Similar Poets