SHAWORDS
Barq Dehlvi

Barq Dehlvi

Barq Dehlvi

Barq Dehlvi

poet
5Sher
5Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

kare ‘arz-e-tamannaa khaak koi us sitamgar se

کرے عرض تمنا خاک کوئی اس ستمگر سے زباں کٹتی ہے اب تو بات پر خنجر نکلتے ہیں سوا ہے فتنۂ محشر سے بھی طول امل ان کا ترے گیسو ترے قامت سے بھی گز بھر نکلتے ہیں قفس میں بھی تو مجھ پر یہ ستم صیاد ڈھاتا ہے کتر دیتا ہے دس گنتی کے جب دو پر نکلتے ہیں بندھا رہتا ہے شیرازہ جو مٹھی بند رہتی ہے بھرم کھوتے ہیں جب جامہ سے گل باہر نکلتے ہیں چلو پھر برقؔ میخانے چلیں پھر توڑ لیں توبہ ابھی تو اپنے ہی کچھ دام ساقی پر نکلتے ہیں

غزل · Ghazal

tujhe nakhl-band-e-hayaat ne tiri kaavishon ke ye phal diye

تجھے نخل بند حیات نے تری کاوشوں کے یہ پھل دئے کیا خلق باغ جہاں میں جب تو ثمر بھی حسب عمل دئے کوئی ڈھونڈے لے کے چراغ بھی نہ ملے گا ان کا سراغ بھی کہیں ان کا نام و نشاں نہیں جو عدم کو قافلے چل دئے جو کسی نے ہمتیں صرف کیں تو دلی مرادیں اسے ملیں جو شکم میں خاک کے تھے نہاں وہ دفینے اس نے اگل دئے یہ طلسم خانۂ دہر ہے وہ نظر فریب کہ قہر ہے ہمیں کیا حیات دو روزہ دی جو ہزار اس میں خلل دئے یہ روا روی کا مقام ہے یہ اجل کا شیوۂ عام ہے جو لباس زیست کہیں ہوئے تو وہ دم زدن میں بدل گئے نہ غرض متاع جہاں سے کچھ نہ ہمارا مال ہے نقد جاں تہی دست آئے تھے ہم یہاں تہی دست دہر سے چل دئے جو مآل کار پہ ہے نظر دل و جاں سے خدمت خلق کر کہ یہ عقل و ہوش یہ دست و پا تجھے بہر حسن و عمل دئے تو ہی شش جہت میں ہے ضو فشاں نہیں ماسوا کا کہیں نشاں پس پردہ ہو کے عبث نہاں یہ فریب حسن ازل دئے نہ بہار خندۂ گل ہے اب نہ وہ دور ساغر مل ہے اب نہ وہ باغ ہے نہ وہ میکدہ کہ خزاں نے رنگ بدل دئے مرے قلب پر جو یہ داغ ہیں نہ کر ان کو گل یہ چراغ ہیں مری جان شوق سے لے مگر نہ بجھا یہ باد اجل دئے یہی برقؔ چرخ سے ہے گلہ ہمیں گردشوں نے مٹا دیا جو ہمارے روز نشاط تھے وہ شب الم سے بدل دئے

غزل · Ghazal

abru kaa vaar aur dil-e-be-qaraar par

ابرو کا وار اور دل بے قرار پر کیوں رکھ لیا غریب کو خنجر کی دھار پر اس برق وش نے ہنس کے مرے حال زار پر بجلی گرائی خرمن صبر و قرار پر سنیے تو کچھ نہیں یے برا ماننے کی بات دل دے تو کوئی آپ کو کس اعتبار پر لی ہوگی جیتے جی مری کچھ آپ نے خبر کچھ بعد مرگ آئیں گے میرے مزار پر کنج قفس سے ہائے رہائی نہ ہو سکی ہر چند عندلیب نے مارے ہزار پر

غزل · Ghazal

dil jo surat-gar-e-maani kaa sanam-khaana bane

دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے آنکھ جس شے پہ پڑے جلوۂ جانانہ بنے اتنے ہی ہو گئے ہم منزل عرفاں کے قریب جس قدر رسم و رہ دہر سے بیگانہ بنے تا در یار پہنچتا ہے وہ خود رفتۂ شوق اپنی ہستی سے جو اس راہ میں بیگانہ بنے ظرف مے ٹوٹ کے بھی ہونے نہ پائے بے کار ہو شکستہ کوئی شیشہ تو وہ پیمانہ بنے سعی ناکام سے میں ہاتھ اٹھاؤں گا نہ برقؔ میری بگڑی ہوئی تقدیر بنے یا نہ بنے

غزل · Ghazal

taabish-e-husn hijaab-e-rukh-e-pur-nur nahin

تابش حسن حجاب رخ پر نور نہیں رخنہ گر ہو نگہ شوق تو کچھ دور نہیں شب فرقت نظر آتے نہیں آثار سحر اتنی ظلمت ہے رخ شمع پہ بھی نور نہیں راز سربستۂ فطرت نہ کھلا ہے نہ کھلے میں ہوں اس سعی میں مصروف جو مشکور نہیں صرف نیرنگئ نظارہ ہے خود اپنا وجود عین وحدت ہے کوئی ناظر و منظور نہیں نظر آتا نہیں گو منزل مقصد کا نشاں ذوق صادق یہی کہتا ہے کہ کچھ دور نہیں

Similar Poets