jo haqiqat se khauf khaane lage
khvaab aise main dekhtaa hi nahin

Euphonic Amit
Euphonic Amit
Euphonic Amit
Popular Shayari
10 totalphuul khilte hain to lagtaa hai tire honTon ne
muskuraahaT ko baDe naaz se aazaad kiyaa
ehsaan le ke dil se karein shukriya adaa
duniyaa mein kam hain jin mein ye ghairat hai aaj-kal
'ajab ehsaas hai ki jab use dekhun
mujhe pahli mohabbat yaad aati hai
aap ne jis ko farishte kaa diyaa thaa darja
us ki insaanon si fitrat hai to hairat kyaa hai
jo auron ko uDte hue dekhtaa ho
vo pinjre mein kaise sukun se rahegaa
mire qalam ki siyaahi mein 'ishq hai teraa
miraa ye naam ye shohrat tiri badaulat hai
hijr mein shiddat dikhaate hain sabhi 'aashiq magar
lutf tab hai vasl ho par aarzu baaqi rahe
naache hai mohabbat ki ye sur taal pe khud hi
dil ko ye hunar yaar sikhaayaa nahin jaataa
umidon se karo aazaad aur phir
mohabbat ki sanam parvaaz dekho
Ghazalغزل
اس شہر بے وفا سے شریک وفا نہ مانگ مرزا یہاں تو اپنے لیے صاحبا نہ مانگ یہ مشورہ ہے میرا ابھی دل ربا نہ مانگ ہو جائے گا غرور تجھے آئنہ نہ مانگ یہ راہ بندگی ہے اسے سہل مت سمجھ دنیا کی گر طلب ہے تجھے تو خدا نہ مانگ ہم نے تجھے ہمیشہ سر آنکھوں پہ ہے رکھا غیروں کے دل میں اپنے لیے تو جگہ نہ مانگ وہ ہے سبب مرض کا میاں چارہ گر نہیں اس زہر دینے والے سے کوئی دوا نہ مانگ جو دے رہا ہے غم وہی خوشیوں کی وجہ تھا اس کے لیے خدا سے کوئی بھی سزا نہ مانگ نظروں سے مے پلانا تو احسان تھا ترا مجھ سے کوئی حساب مرے ساقیا نہ مانگ دریا میں تو بہا دے سبھی نیکیاں امتؔ اچھائیوں کا اپنی کسی سے صلہ نہ مانگ
is shahr-e-be-vafaa se sharik-e-vafaa na maang
تسکین بس انا کی کئے جا رہے ہیں آپ ہم سے بچھڑ کے بولئے کیا پا رہے ہیں آپ ظاہر میں عشق ہم سے تو فرما رہے ہیں آپ باطن میں پوچھیے تو ستم ڈھا رہے ہیں آپ یادوں کو دفن کر چکے ماضی کی قبر میں باتیں پرانی درمیاں کیوں لا رہے ہیں آپ مصروفیت تھی آپ سے یوں مل نہیں سکے افواہ کیوں بچھڑنے کی پھیلا رہے ہیں آپ امید فصل گل کی فضاؤں کو ہو گئی گلشن کو اپنی خوشبو سے بہکا رہے ہیں آپ دنیا میں اور بھی ہیں کئی مسئلے مگر الجھی ہوئی لٹوں کو ہی سلجھا رہے ہیں آپ وعدہ کیا کسی سے نبھایا نہیں کبھی وعدوں سے ہی امتؔ کو بھی بہلا رہے ہیں آپ
taskin bas anaa ki kiye jaa rahe hain aap
کب تلک اس خامشی کی ترجمانی ہو عشق کا اظہار اب تو منہ زبانی ہو میہماں دل کے بنو تو مہربانی ہو کب تلک اس درد دل کی میزبانی ہو کس کے اشکوں نے کیا کھارا سمندر کو اب عطا ساگر کو بھی کچھ میٹھا پانی ہو لطف آتا ہی نہیں اوروں کو پڑھنے میں درج پنوں میں ہماری بھی کہانی ہو پیڑ کٹ کے بھی کسی کا گھر بناتا ہے کام آئے سب کے ایسی زندگانی ہو خامشی کو ہم وہاں اپناتے ہیں اکثر بولنا اپنا جہاں بھی بے معانی ہو کس کے بانہوں میں اسے بیٹھا ہوا ہے وہ زیست جیسے یہ امتؔ کی جاودانی ہو
kab talak is khaamushi ki tarjumaani ho
آزمانے کی زمانے کو ضرورت کیا ہے ہم سے پوچھو تو بتا دیں گے محبت کیا ہے ہم نے پیر اور فقیروں سے بہت پوچھا مگر جب ہوا عشق تو جانا کہ عبادت کیا ہے ہم کو آتا نہیں خاموشیاں پڑھنے کا ہنر وہ ہی بتلا دیں انہیں ہم سے شکایت کیا ہے میری غزلیں وہ پڑھیں گے تو سمجھ جائیں گے بندگی کیا ہے جنوں کیا ہے عقیدت کیا ہے آپ نے جس کو فرشتے کا دیا تھا درجہ اس کی انسانوں سی فطرت ہے تو حیرت کیا ہے ان سے بچھڑے تو امتؔ آیا سمجھ یہ ہم کو شاخ سے ٹوٹے ہوئے پتوں کی قیمت کیا ہے
aazmaane ki zamaane ko zarurat kyaa hai
میری سانسوں میں گھٹن چھوڑ کے جا سکتے ہو تم مجھے عہد شکن چھوڑ کے جا سکتے ہو اپنی یادوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو تم ہمیں تنہا سجن چھوڑ کے جا سکتے ہو جوجھنے کی مجھے عادت ہے پریشانی سے میرے ماتھے پہ شکن چھوڑ کے جا سکتے ہو لوٹنے کا کبھی اپنا مجھے وعدہ دو تو تم جدائی کی چبھن چھوڑ کے جا سکتے ہو کیا مری ڈائری کے صفحوں پہ جاتے جاتے دولت شعر و سخن چھوڑ کے جا سکتے ہو اپنے ہونٹوں سے مرے ہونٹوں پہ کیا جان جاں ایک میٹھی سی چھون چھوڑ کے جا سکتے ہو عشق اور فرض میں گر ایک ہی چننا ہو امتؔ تو ادھورا یہ ملن چھوڑ کے جا سکتے ہو
meri saanson mein ghuTan chhoD ke jaa sakte ho
پنکھ ہی کافی نہیں پرواز کو توڑنا ہوگا قفس بھی باز کو سچ کہو تو کاٹ دیتے ہیں زباں حوصلہ بھی چاہیئے آواز کو تالیاں جھوٹی بجیں تو کیا مزہ ہو ہنر تو ہی بجاؤ ساز کو تم بھروسہ اور دل مت توڑنا راز رکھو تم سبھی کے راز کو جو ملا ہم کو اسی میں خوش رہیں دور رکھیں خود سے حرص و آز کو اتفاقاً عشق ان سے ہو گیا کیسے سمجھائیں دل ناساز کو پڑھ کے غالبؔ میرؔ کی غزلیں امتؔ شاعری کے تو سمجھ انداز کو
pankh hi kaafi nahin parvaaz ko





