mire ang ang mein bas gai
ye jo shaairi hai ye kaun hai

Farhat Abbas Shah
Farhat Abbas Shah
Farhat Abbas Shah
Popular Shayari
8 totalbaarish hui to ghar ke dariche se lag ke ham
chup-chaap sogvaar tumhein sochte rahe
kabhi sahar to kabhi shaam le gayaa mujh se
tumhaaraa dard kai kaam le gayaa mujh se
us ke baare mein bahut sochtaa huun
mujh se bichhDaa to kidhar jaaegaa
saans letaa huun to rotaa hai koi siine mein
dil dhaDaktaa hai to maatam ki sadaa aati hai
anaa ki jang mein ham jiit to gae lekin
phir us ke baad bahut der tak niDhaal rahe
use ziyaada zarurat thi ghar basaane ki
vo aa ke mere dar-o-baam le gayaa mujh se
main be-khayaal kabhi dhuup mein nikal aauun
to kuchh sahaab mire saath saath chalte hain
Ghazalغزل
تو اپنے ہونے کا ہر اک نشاں سنبھال کے مل یقیں سنبھال کے مل اور گماں سنبھال کے مل ہم اپنے بارے کبھی مشتعل نہیں ہوتے فقیر لوگ ہیں ہم سے زباں سنبھال کے مل وجود واہمہ ویرانیوں میں گھومتا ہے یہ بے کراں ہے تو پھر بے کراں سنبھال کے مل یہ مرحلے ہیں عجب اس لیے سمندر سے ہوا کو تھام کے مل بادباں سنبھال کے مل اگرچہ دوست ہیں سارے ہی آس پاس مگر اصول یہ ہے کہ تیر و کماں سنبھال کے مل تو کیسی غیر یقینی فضا میں ملتا ہے کوئی تو لمحہ کبھی درمیاں سنبھال کے مل پھر اس کے بعد تو شاید رہے رہے نہ رہے تمام عمر کا سود و زیاں سنبھال کے مل
tu apne hone kaa har ik nishaan sambhaal ke mil
ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے نت نئی بات چھوڑ جاتی ہے عشق چلتا ہے تا ابد لیکن زندگی ساتھ چھوڑ جاتی ہے دل بیابانی ساتھ رکھتا ہے آنکھ برسات چھوڑ جاتی ہے چاہ کی اک خصوصیت ہے کہ یہ مستقل مات چھوڑ جاتی ہے مرحلے اس طرح کے بھی ہیں کہ جب ذات کو ذات چھوڑ جاتی ہے ہجر کا کوئی نا کوئی پہلو ہر ملاقات چھوڑ جاتی ہے
hijr ki raat chhoD jaati hai
دل بھی آوارہ نظر آوارہ کٹ گیا سارا سفر آوارہ زندگی بھٹکا ہوا جنگل ہے راہ بے چین شجر آوارہ روح کی کھڑکی سے ہم جھانکتے ہیں اور لگتا ہے نگر آوارہ تجھ کو معلوم کہاں ہوگا کہ شب کیسے کرتے ہیں بسر آوارہ مجھ کو معلوم ہے اپنے بارے ہوں بہت اچھا مگر آوارہ یہ الگ بات کہ بس پل دو پل لوٹ کے آتے ہیں گھر آوارہ
dil bhi aavaara nazar aavaara
گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا جا تجھے آج سے ہم نے اپنے خدا کے حوالے کیا ایک مدت ہوئی ہم نے دنیا کی ہر ایک ضد چھوڑ دی ایک مدت ہوئی ہم نے دل کو وفا کے حوالے کیا اس طرح ہم نے تیری محبت زمانے کے ہاتھوں میں دی جس طرح گل نے خوشبو کو باد صبا کے حوالے کیا بے بسی سی عجب زندگی میں اک ایسی بھی آئی کہ جب ہم نے چپ چاپ ہاتھوں کو رسم حنا کے حوالے کیا خون نے تیری یادیں سلگتی ہوئی رات کو سونپ دیں آنسوؤں نے ترا درد روکھی ہوا کے حوالے کیا
gar duaa bhi koi chiiz hai to duaa ke havaale kiyaa
موت کا وقت گزر جائے گا یہ بھی سیلاب اتر جائے گا آ گیا ہے جو کسی سکھ کا خیال مجھ کو چھوئے گا تو مر جائے گا کیا خبر تھی مرا خاموش مکاں اپنی آواز سے ڈر جائے گا آ گیا ہے جو دکھوں کا موسم کچھ نہ کچھ تو کہیں دھر جائے گا جھوٹ بولے گا تو کیا ہے اس میں کوئی وعدا بھی تو کر جائے گا اس کے بارے میں بہت سوچتا ہوں مجھ سے بچھڑا تو کدھر جائے گا چل نکلنے سے بہت ڈرتا ہوں کون پھر لوٹ کے گھر جائے گا
maut kaa vaqt guzar jaaegaa
غم کا مارا کبھی نہ ہو کوئی بے سہارا کبھی نہ ہو کوئی جب ہر اک شخص ہو فقط دریا جب کنارا کبھی نہ ہو کوئی گر کبھی ہو تو ہو فقط تشبیہ استعارہ کبھی نہ ہو کوئی کیوں بھلا اس طرح طبیعت ہو کیوں گوارا کبھی نہ ہو کوئی تو کہ اک عمر انتظار کرے اور اشارہ کبھی نہ ہو کوئی اس قدر ہوں تہی خدا نہ کرے جب خسارہ کبھی نہ ہو کوئی
gham kaa maaraa kabhi na ho koi





