main ek vo huun jo aap khud se bhi mukhtalif hai
main vo nahin huun jo aap mujh ko samajh rahe the

Fatima Mehru
Fatima Mehru
Fatima Mehru
Popular Shayari
14 totaljaisaa ji mein aae vaisaa kar jaanaa
itnaa bhi aasaan nahin hai mar jaanaa
ik nazar sarsari do chaar zaruri baatein
ghar mein rakkhaa koi akhbaar samajhtaa hai mujhe
ik ghaDi mujh ko chaahiye aisi
vaqt jis mein tamaam teraa ho
kuchh nahin maangte magar kuchh log
kuchh nahin chhoDte hamaare paas
tabhi to dhundli hain us ki meri tamaam raahein
vo mujh ko kohre ki chaand raaton mein sochtaa hai
vo koh-e-qaaf kaa jaise makin ho gayaa hai
bichhaD ke aur ziyaada hasin ho gayaa hai
ye ghalat-fahmiyon kaa mausam hai
apne dil ko sanbhaal kar rakhnaa
nahin charaagh jalaaeinge ab kisi dar par
ham aap apni mohabbat mazaar kar leinge
tire hijrat ke maare bastiyon se laD rahe hain
jinhein yaksar tire dil mein Thikaana chaahiye thaa
chhoD jaaeinge tujhe chaand ke charche sun kar
chaDhte suraj ke pujaari hain tire divaane
aur is se peshtar us ko bhulaa sakun yaksar
use main us ki tarah yaad aanaa chaahti huun
Ghazalغزل
گھسے پٹے ہوئے آنسو مٹے مٹے ہوئے دوست گنے چنے ہوئے موتی دھلے دھلے ہوئے دوست پرائی پیڑ کے جیسا جیا جیا ہوا دکھ پرانے درد کے جیسے نئے نئے ہوئے دوست لگی لگائی ہوئی لت چڑھا چڑھایا نشہ کھلے کھلے ہوئے دامن کسے کسے ہوئے دوست سنے سنے ہوئے نغمے گئے گئے ہوئے دن جلی جلی ہوئی شامیں ہنسے ہنسے ہوئے دوست حسیں بنے ہوئے سپنے زریں لگے ہوئے روگ جواں جوان زمانے مرے پڑے ہوئے دوست
ghise-piTe hue aansu miTe miTe hue dost
جو کچھ بھی ہو چکا تھا جتا کر نہیں گئے اچھا ہوا کہ آپ بتا کر نہیں گئے بکھرے ہیں کاغذات یوںہی دل کی میز پر جاتے ہوئے بھی لوگ اٹھا کر نہیں گئے یا صرف ناشرین کو موقع دیا گیا یا صرف سامعین سنا کر نہیں گئے جوڑا ہے بارہا انہیں خلقت کے سامنے ہم لوگ صرف ہاتھ دکھا کر نہیں گئے رخصت کیا گیا ہے تری جیل سے ہمیں نکلے پر اپنے ہاتھ چھڑا کر نہیں گئے
jo kuchh bhi ho chukaa thaa jataa kar nahin gae
ہوا سے بات کریں گے یا حوصلہ کریں گے چراغ ایسی فضاؤں میں اور کیا کریں گے نیا مکان کھنڈر کر لیا سجاتے ہوئے اب ایسے لوگ تماشے میں کیا نیا کریں گے بہت گرایا ہے تکیے کی عادتوں نے ہمیں سو اگلے خواب میں بستر کا آسرا کریں گے تمہارے ساتھ تعلق بنائیں گے گہرا ذرا سی بات پہ ہفتوں بھی لڑ لیا کریں گے ہم اب کی بار بزرگوں کا مان رکھیں گے سمجھ کے سوچ کے ہر تجربہ کیا کریں گے بس ایک بار ہمیں دوستی میں شامل کر کریں گے تیری طرف داری با خدا کریں گے بچھڑتے وقت بھی امن و اماں بنا رہے گا سلام بھیجیں گے حرف دعا کیا کریں گے
havaa se baat kareinge yaa hausla kareinge
مختصر عشق ہے اس میں بہت عرصہ نہیں ہے جیسے بس جسم ہے اور روح کا خرچہ نہیں ہے ان دنوں ایسی مہارت میں ہے مشہور کوئی جس کا اس شہر کے قاتل نے بھی سوچا نہیں ہے آ تو جاتے ہیں سبھی اس کے تصرف میں مگر مان جاتے ہیں کہ وہ آدمی اچھا نہیں ہے اے مرے دل کی زمینوں کے نگہبان خدا کیا مرے نام پہ تھوڑا سا بھی رقبہ نہیں ہے مار دیتے ہیں یہی لوگ ادا سے اپنی اور کہتے ہیں کہ آدم کا بھروسہ نہیں ہے پہلے رکھیں گے محبت کی جگہ خاموشی پھر کہیں گے کہ مری جان یہ دھوکا نہیں ہے کیسے سمجھائیں کہ برباد ہوئے ہیں کیسے تو نے اس آنکھ کو اٹھتے کبھی دیکھا نہیں ہے
mukhtasar 'ishq hai is mein bahut 'arsa nahin hai
کانٹوں کا خمیازہ ہے پھول ابھی تک تازہ ہے وہ میرا ہے بس میرا یہ بھی تو اندازہ ہے کھڑکی کھول کے دیکھو مت ہر منظر دروازہ ہے میک اپ کرتی لڑکی سن کون سے دکھ کا غازہ ہے رشتے مرتے جاتے ہیں ہر سو ایک جنازہ ہے
kaanTon kaa khamyaaza hai
کیوں نجانے نہیں ہوا مجھ سے ایک رستہ نہیں کھلا مجھ سے قصر رنگینیٔ لبادہ کا ایک پتھر نہیں ہلا مجھ سے اپنے اسباق مجھ کو رٹوائے اور کچھ بھی نہیں سنا مجھ سے حدتیں میری جان لے لیں گی اپنا سایہ نہیں ہٹا مجھ سے شہر کا شہر مجھ میں ڈوب گیا کوئی باہر نہیں گیا مجھ سے تم تو پھر بھی خدا ہو کیا ملتے آدمی تک نہیں ملا مجھ سے غیرت دست قاتلانہ ہوں کون کرتا نہیں حیا مجھ سے
kyon na-jaane nahin huaa mujh se





