SHAWORDS
Goya Faqir Mohammad

Goya Faqir Mohammad

Goya Faqir Mohammad

Goya Faqir Mohammad

poet
25Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

25 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

جو پنہاں تھا وہی ہر سو عیاں ہے یہ کہیے لن ترانی اب کہاں ہے جو پہنچے ہاتھ زنجیروں کو توڑیں گرچہ پاؤں اپنا درمیاں ہے چمک لعل بدخشاں کی مٹا دے ترے ہونٹوں پہ ایسا رنگ پاں ہے تجھے کہتا ہوں سن او وحشت دل وہاں لے چل جہاں وہ دل ستاں ہے وہ ہوں نازک مزاج اے ہم صفیرو رگ گل مجھ کو خار آشیاں ہے موا جاتا ہوں میں طرز نگہ سے ترے لب کی مسیحائی کہاں ہے بلا کر اس سے دو باتیں تو سن لے یہ کہتے ہیں کہ گویاؔ خوش بیاں ہے

jo pinhaan thaa vahi har su 'ayaan hai

غزل · Ghazal

نظارۂ رخ ساقی سے مجھ کو مستی ہے یہ آفتاب پرستی بھی مے پرستی ہے خدا کو بھول گیا محو خود پرستی ہے تو اور کام میں ہے موت تجھ پہ ہستی ہے نہ گل ہیں اب نہ وہ ساقی نہ مے پرستی ہے چمن میں مینہ کے عوض بے کسی برستی ہے یہ ملک حسن بھی جاناں عجیب بستی ہے کہ دل سی چیز یہاں کوڑیوں سے سستی ہے مہ صیام میں گو منع مے پرستی ہے مگر ہوں مست کہ ہر روز فاقہ مستی ہے یہ بے ثبات بہار ریاض ہستی ہے کلی جو چٹکی تو ہستی پر اپنی ہنستی ہے بس ایک رات کا مہمان چراغ ہستی ہے سرہانے روئے گی اب شمع گور ہنستی ہے دلا یہ گور غریباں بھی زور بستی ہے بجائے ابر یہاں بے کسی برستی ہے گیا جو یاں سے تہ خاک وہ کبھی نہ پھرا زمین کے نیچے بھی دلچسپ کوئی بستی ہے نہا کے بال نچوڑے تو یار کہنے لگا گھٹا سیاہ اسی طرح سے برستی ہے بس ایک ہاتھ میں دو ٹکڑے کر دیا ہم کو ہمارے یار کی اک یہ بھی تیز دستی ہے کیا ہے چاک گریبان صبح محشر تک یہ اپنے جوش جنوں کی دراز دستی ہے ہمیں تو قتل کیا بس اسی نزاکت نے کہ وہ اٹھاتی ہیں تیغ اور نہیں اکستی ہے دکھا کے پھول سے چہرے کو دل لیا خوش ہو جو بدلے گل کے ملے عندلیب سستی ہے اب ایک توبہ پہ آتی ہے مغفرت ترے ہاتھ خرید کر کہ نہایت یہ جنس سستی ہے دکھائے جس نے یہ صورت ہمیں دم آخر اسی کو دیکھنے کو روح اب ترستی ہے نہ ٹوٹی شیشۂ مے میری سنگ مرقد سے پس از فنا بھی مجھے پاس مے پرستی ہے اسیر کر کے ہمیں خوش نہ ہوئیو صیاد کہ تو بھی یاں تو گرفتار دام ہستی ہے عجب نہیں دم عیسیٰ سے بھی جو گل ہو جاتے کہ شمع صبح ہمارا چراغ ہستی ہے وہ مانگتا ہے مری جان رونمائی میں یہی جو مول ہے تو جنس حسن سستی ہے کیا ہے اس نے تو یوسف کا چاک دامن پاک نہ پوچھو عشق کی جو کچھ دراز دستی ہے کہوں میں وہی ہے ساقی وہی سبو وہی جام مدام بادۂ وحدت کی مجھ کو مستی ہے علم ہے تیغ دو دم تیرے سر جھکائے ہوں میں تری گلی میں بھی ظالم بلندی پستی ہے جو چاہے رحمت حق عجز کر شعار اپنا رواں ادھر کو ہے پانی جدھر کو پستی ہے سفید ہو گئی موئے سیاہ غفلت چھوڑ ہوئی ہے صبح کوئی دم چراغ ہستی ہے ہر اک جوان کا قد خم ہوا ہے پیری سے مآل کار بلندی جہاں میں پستی ہے وہ اپنی جنبش ابرو دکھا کے کہتا ہے یہ وہ ہے تیغ اشاروں ہی سے جو کستی ہے چہ خوش بود کہ بر آید بیک کرشمہ دو کار صنم بغل میں ہے دل محو حق پرستی ہے ہے خوب پہلے سے گویاؔ کروں میں ترک سخن کہ ایک دم میں یہ خاموش شمع ہستی ہے

nazaara-e-rukh-e-saaqi se mujh ko masti hai

غزل · Ghazal

دعائیں مانگیں ہیں مدتوں تک جھکا کے سر ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہوا ہوں تب میں بتوں کا بندہ خدا خدا کر خدا خدا کر دعا لب جام نے بھی مانگی سبو نے بھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہماری محفل میں آیا ساقی خدا خدا کر خدا خدا کر دکھایا وحدت نے اپنا جلوہ دوئی کا پردہ اٹھا اٹھا کر کروں میں سجدہ بتوں کے آگے تو اے برہمن خدا خدا کر ہیں اشک زخموں سے میرے جاری نہ دیکھی ہوگی یہ اشک باری بنی ہیں چشم پر آب قاتل یہ زخم پانی چرا چرا کر کہاں وہ شکلیں کہاں وہ باتیں کہاں وہ جلسے کہاں وہ محفل یہ سب کا سب خواب کا تھا ساماں چھپا لیا بس دکھا دکھا کر برنگ ساغر ملا دیا منہ جو منہ سے تیرے خفا نہ ہونا کیا ہے بے ہوش تو نے ساقی شراب مجھ کو پلا پلا کر اٹھایا یاروں نے پر نہ اٹھا زمیں سے ہرگز ہمارا لاشہ یہ کس نے ہم کو ہے مار ڈالا نظر سے اپنی گرا گرا کر جو پہنچیں ہم مرغ نامہ بر کو تو چٹکیوں میں اسے اڑا دے اگر چہ وہ طفل کھیلتا ہے پر کبوتر اڑا اڑا کر پس از فنا بھی اگر تو آئے کروں سگ یار میہمانی کہ استخوانوں کو اپنے تن میں رکھا ہما سے چھپا چھپا کر گرے اگر سرکشی ہو مجھ سے ابھی فلک کو زمیں پہ پٹکوں کہ توڑ ڈالے میں ایسے مینے ہزاروں شیشے اٹھا اٹھا کر کبھی مرے دل سے کرتی ہیں بل کہی ہیں شانے سے یہ الجھتیں غرض کہ زلفوں کو تو نے ظالم بگاڑا ہے سر چڑھا چڑھا کر شکست لکھتا تھا نام دل کا یہی تھی طفلی میں مشق تیری بنا دیا دل شکن یہ تجھ کو معلموں نے لکھا لکھا کر بڑے گلے ہیں اجل کو تجھ سے مسیح کو بھی بہت ہیں شکوے کہ دم میں تو نے ہیں مار ڈالے ہزاروں مردے جلا جلا کر پلانا پانی کا جام زاہد گناہ مشرب میں ہے ہمارے ثواب لیتا نہیں ہے کیوں تو شراب مجھ کو پلا پلا کر نہیں کوئی رازدار ہم سا کیا نہ وحشت میں تجھ کو رسوا کہ داغ مانند خار ماہی بدن میں رکھے چھپا چھپا کر گلے ہزاروں نے اپنے کاٹے ہزاروں بے وجہ ہو گئے خون بہت ہوا پھر تو یار نادم کف حنائی دکھا دکھا کر نگہ کی صورت پھرو نہ ہر سو حجاب تم مردمک سے سیکھو اب آؤ آنکھوں میں سیر دیکھو مژہ کی چلمن اٹھا اٹھا کر دکھا کے گل سے عذار تو نے کیا دل عاشقاں کو بلبل بنا دیے گوش غیرت گل صدائے رنگیں سنا سنا کر گناہ کرتا ہے برملا تو کسی سے کرتا نہیں حیا تو خدا کو کیا منہ دکھائے گا تو ذرا تو اے بے حیا حیا کر چلا ہے محفل سے اپنے ساقی دکھاؤں میں اپنی اشک باری کروں بط مے کو مرغ آبی ابھی سے دریا بہا بہا کر رلائے برسوں ہنسی تو جس سے دکھائے گر زلف مار رکھے کرے تو در پردہ راہ دل میں جو دیکھے پردہ اٹھا اٹھا کر وہی اثر ہے جنوں کا اب تک وہی ہے لڑکوں کو اب بھی کاوش کہ میری مٹی کے روز مجنوں بگاڑتے ہیں بنا بنا کر عجب نہیں نامۂ عمل کا دلا ہو کاغذ اگر خطا کے خطائیں کیں میں نے آشکارا کیے ہیں عصیاں چھپا چھپا کر اثر ہے چاہ ذقن کی الفت کا بعد مردن بھی آہ باقی کہ کھیلتی ہیں ہماری مٹی کے ڈول لڑکے بنا بنا کر کیا ہے پوشیدہ عشق ہم نے کسی سے در پردہ ہے محبت پڑے ہوئے بستر الم پر جو روتے ہیں منہ چھپا چھپا کر جو خوف طوفان اشک سے اب نہیں ہے جاتا نہ جائے قاصد رواں کروں سوئے یار جانی خطوں کی ناویں بنا بنا کر ترا سا قد بن سکا نہ ہرگز تری سی صورت نہ بن سکی پھر اگر چہ صانع نے لاکھوں نقشے بگاڑ ڈالے بنا بنا کر ادھر مژہ نے لگائی برچھی ادھر نگاہوں نے تیر مارے شکست دی فوج صبر دل کو یہ کس نے آنکھیں لڑا لڑا کر کٹی ہے گویا شب جوانی بس آن پہنچی ہے صبح پیری بہت سی کی تو نے بت پرستی اب ایک دو دن خدا خدا کر

duaaein maangin hain muddaton tak jhukaa ke sar haath uThaa uThaa kar

غزل · Ghazal

کیا ہیں شیدائے قد یار درخت ہیں جو شبنم سے اشک بار درخت دیکھیں گر سرو قد یار درخت خاک پر لوٹیں سایہ دار درخت اشک بار ان پہ ہیں جو مرغ چمن پہنے ہیں موتیوں کا ہار درخت سرکشی کی ہے کیا ترے قد سے کاٹے جاتے ہیں بے شمار درخت کیا ترے قد سے دوں مثال اسے کہ ہے انگشت زینہار درخت ترے جلوے سے نخل طور بنے ہیں جو بالائے کوہسار درخت بید مجنوں کو دیکھ او لیلیٰ ہے یہ مجنوں کا یادگار درخت دیکھ کر تجھ کو بھول جائیں گے گل کھلائیں گے بے بہار درخت زندگی میں نہ میں نے پھل پایا ہو نہ میرے سر مزار درخت فائدہ بھی یہاں تو نقصاں ہے سنگ کھاتے ہیں بار دار درخت داغ تن کھل رہے ہیں صورت گل ہم ہیں گویا شگوفہ دار درخت

kyaa hain shaidaa-e-qadd-e-yaar darakht

غزل · Ghazal

لب جاں بخش پہ دم اپنا فنا ہوتا ہے آج عیسیٰ سے یہ بیمار جدا ہوتا ہے زلف کو دست حنائی سے جو چھوتا ہے وہ شوخ تو گرفتار وہیں درد حنا ہوتا ہے تھا گرفتار شب و روز نگہبانی میں ہم جو اب چھوٹیں ہیں صیاد رہا ہوتا ہے پھر بہار آتی ہے اے خار بیاباں خوش ہو آج کل پھر گزر آبلہ پا ہوتا ہے مر گئے ہم تو صبا لائی جواب نامہ وہی ہوتا ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے

lab-e-jaan-bakhsh pe dam apnaa fanaa hotaa hai

غزل · Ghazal

ہاتھ سے کچھ نہ ترے اے مہ کنعاں ہوگا ہاتھ جو ہوگا تو میری موت کا ساماں ہوگا ساقیا ہجر میں مے خانہ بیاباں ہوگا دور ساغر بھی رم چشم غزالاں ہوگا اے جنوں پھر مجھے خوش آنے لگی عریانی اب نہ دامن ہی رہے گا نہ گریباں ہوگا پھر چلیں گے ترا قد دیکھ کے گلزاروں میں پھر ہر اک سرو و سمن سرو چراغاں ہوگا گھر میں دل پھر مرا گھبرانے لگا آپ سے آپ اے جنوں پھر یہ مکاں خانۂ زنداں ہوگا پھر خوش آتی ہے مرے دل کو شب ماہ کی سیر عشق پھر چاند سے مکھڑے کا دو چنداں ہوگا ان دنوں پھر تجھے گویاؔ جو ہے چپکی سی لگی پھر ارادہ طرف ملک خموشاں ہوگا

haath se kuchh na tire ai mah-e-kanaan hogaa

Similar Poets