SHAWORDS
Hari Chand Akhtar

Hari Chand Akhtar

Hari Chand Akhtar

Hari Chand Akhtar

poet
21Shayari
25Ghazal

Popular Shayari

21 total

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

بے لوث محبت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں انجام تو ظاہر ہے مگر ڈھونڈ رہا ہوں اے دیکھنے والو مری افتاد تو دیکھو میں اپنی دعاؤں میں اثر ڈھونڈ رہا ہوں جس سجدوں کی ہے عرش بریں کو بھی تمنا ان سجدوں کے لائق کوئی در ڈھونڈ رہا ہوں خود جس نے مجھے ناز گناہوں پہ سکھایا یا رب وہی رحمت کی نظر ڈھونڈ رہا ہوں

be-laus mohabbat ki nazar DhunD rahaa huun

غزل · Ghazal

شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا مری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا انہیں دیکھا تو زاہد نے کہا ایمان کی یہ ہے کہ اب انسان کو سجدہ روا ہونے کا وقت آیا خدا جانے یہ ہے اوج یقیں یا پستئ ہمت خدا سے کہہ رہا ہوں نا خدا ہونے کا وقت آیا ہمیں بھی آ پڑا ہے دوستوں سے کام کچھ یعنی ہمارے دوستوں کے بے وفا ہونے کا وقت آیا نوید سربلندی دی منجم نے تو میں سمجھا سگان دہر کے آگے خدا ہونے کا وقت آیا

shabaab aayaa kisi but par fidaa hone kaa vaqt aayaa

غزل · Ghazal

زندگی بھر دہر کی نیرنگیاں دیکھا کئے گردش ایام و دور آسماں دیکھا کئے ہم اسیران قفس کی ہائے رے مجبوریاں سامنے آنکھوں کے جلتا آشیاں دیکھا کئے آشیاں باندھا کئے ہر فصل گل میں ہم صفیر اور ہم اپنے قفس کی تیلیاں دیکھا کئے آشیاں باندھا مگر آسودگی کا ذکر کیا کس طرح گرتی ہیں اس پر بجلیاں دیکھا کئے جان بھی آخر مرض کے ساتھ رخصت ہو گئی ہم تری رہ اے مسیحائے زماں دیکھا کئے

zindagi-bhar dahr ki nairangiyaan dekhaa kiye

غزل · Ghazal

رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملے پھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملے عادل بھی ہو رحیم بھی ہو کارساز بھی سب کچھ تو ہو مگر ذرا ہم سے نظر ملے انکار سجدہ ہے یہاں کس رو سیاہ کو شایان سجدہ بھی تو مگر کوئی در ملے یہ ہے کمال جہل کہ معراج آگہی ہر لمحہ جستجو ہے کچھ اپنی خبر ملے عیش گریز پا کا تصور بھی مٹ گیا غم ایسے مستقل ملے اور اس قدر ملے

ramz-aashnaa mile kai ahl-e-nazar mile

غزل · Ghazal

کسی کے حسن عالم تاب کی تنویر کے صدقے کسی بد بخت کی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی مروت کی ادا پر بند آنکھیں کر کے لٹ جانا یہ نادانی سہی لیکن یہ نادانی نہیں جاتی وہاں دل لے چلا ہے پھر وہی اک بات کہنے کو کہی جاتی ہے جو اکثر مگر مانی نہیں جاتی خداوندا پھر آخر کیا تمنا ہے مرے دل کی وہ پہلو میں بھی ہیں لیکن پریشانی نہیں جاتی کیا تھا میں نے شکوہ آپ نے آنکھیں جھکا لی تھیں ہوئی مدت مگر اب تک پشیمانی نہیں جاتی وہی ہے اپنی رندی اور وہی واعظ کی فہمائش بری عادت کوئی بھی ہو بہ آسانی نہیں جاتی

kisi ke husn-e-aalam-taab ki tanvir ke sadqe

غزل · Ghazal

چاہتا ہوں انتہائے درد دل مل گئی آخر دوائے درد دل کیا ضروری تھی دوائے درد دل سن تو لیتے ماجرائے درد دل عشق کی وجہ ندامت کچھ نہ پوچھ دل ہے پہلو میں بجائے درد دل جس کو دل لینے پہ اتنا ناز ہے کاش ہوتا آشنائے درد دل یوں نہیں مٹنے کی اخترؔ یہ خلش دل کہیں آئے تو جائے درد دل

chaahtaa huun intihaa-e-dard-e-dil

Similar Poets