"abhi chhuTi nahin jannat ki dhuul paanv se hanuz farsh-e-zamin par naya naya huun main"

Iftikhar Mughal
Iftikhar Mughal
Iftikhar Mughal
Sherشعر
See all 14 →abhi chhuTi nahin jannat ki dhuul paanv se
ابھی چھٹی نہیں جنت کی دھول پاؤں سے ہنوز فرش زمیں پر نیا نیا ہوں میں
yahi charagh hai sab kuchh ki dil kahen jis ko
یہی چراغ ہے سب کچھ کہ دل کہیں جس کو اگر یہ بجھ گیا تو آدمی بھی پرچھائیں
aankh jhapki thi bas ik lamhe ko aur is ke ba.ad
آنکھ جھپکی تھی بس اک لمحے کو اور اس کے بعد میں نے ڈھونڈا ہے تجھے زندگی صحرا صحرا
ik khala, ek la-intiha aur main
اک خلا، ایک لا انتہا اور میں کتنے تنہا ہیں میرا خدا اور میں
kisi sabab se agar bolta nahin huun main
کسی سبب سے اگر بولتا نہیں ہوں میں تو یوں نہیں کہ تجھے سوچتا نہیں ہوں میں
savad-e-hijr men rakkha hua diya huun main
سواد ہجر میں رکھا ہوا دیا ہوں میں تجھے خبر نہیں کس آگ میں جلا ہوں میں
Popular Sher & Shayari
28 total"yahi charagh hai sab kuchh ki dil kahen jis ko agar ye bujh gaya to aadmi bhi parchha.in"
"aankh jhapki thi bas ik lamhe ko aur is ke ba.ad main ne DhunDa hai tujhe zindagi sahra sahra"
"ik khala, ek la-intiha aur main kitne tanha hain mera khuda aur main"
"kisi sabab se agar bolta nahin huun main to yuun nahin ki tujhe sochta nahin huun main"
"savad-e-hijr men rakkha hua diya huun main tujhe khabar nahin kis aag men jala huun main"
gher leti hai koi zulf, koi bu-e-badan
jaan kar koi giraftaar nahin hotaa yaar
mohabbat aur ibaadat mein farq to hai naan
so chhin li hai tiri dosti mohabbat ne
khudaa! sila de duaa kaa, mohabbaton ke khudaa
khudaa! kisi ne kisi ke liye duaa ki thi
main tum ko khud se judaa kar ke kis tarah dekhun
ki main bhi ''tum'' huun, koi dusraa nahin huun main
kai dinon se mire saath saath chalti hai
koi udaas si ThanDi si koi parchhaain
ham ne us chehre ko baandhaa nahin mahtaab-misaal
ham ne mahtaab ko us rukh ke mumaasil baandhaa
Ghazalغزل
savaad-e-hijr mein rakkhaa huaa diyaa huun main
سواد ہجر میں رکھا ہوا دیا ہوں میں تجھے خبر نہیں کس آگ میں جلا ہوں میں میں قریہ قریہ پھرا گرد باد بن کے جہاں اسی زمین پہ پرچم صفت اٹھا ہوں میں ابھی چھٹی نہیں جنت کی دھول پاؤں سے ہنوز فرش زمیں پر نیا نیا ہوں میں ہزار شکر ہے کہ خود پہ استوار تھا میں ہزار شکر کہ بنیاد پر گرا ہوں میں مری شگفت کے موسم ابھی نہیں آئے کہیں کہیں پہ مگر پھر بھی کھل گیا ہوں میں مری شکست بھی ہے ریخت افتخارؔ مغل کہ یونہی بننے بگڑنے میں ہی بنا ہوں میں
jamaal-gaah-e-taghazzul ki taab-o-tab tiri yaad
جمال گاہ تغزل کی تاب و تب تری یاد پہ تنگنائے غزل میں سمائے کب تری یاد کسی کھنڈر سے گزرتی ہوا کا نم! ترا غم!! شجر پہ گرتی ہوئی برف کا طرب تری یاد تو مجھ سے میرے زمانوں کا پوچھتی ہے تو سن! ترا جنوں، ترا سودا، تری طلب، تری یاد گزر گہوں کو اجڑنے نہیں دیا تو نے کبھی یہاں سے گزرتی تھی تو، اور اب تری یاد یہ قید عمر تو کٹتی نظر نہیں آتی! بس اک قرینہ! ترا دھیان، ایک ڈھب! تری یاد بہ فیض درد محبت میں خوش نسب، میں نجیب! مرا قبیلہ ترا غم، مرا نسب تری یاد بہ جز حکایت تو ایں وجود چیزے نیست میں کل کا کل ترا قصہ میں سب کا سب تری یاد دریں گمان کدہ کل من علیھا فان بس اک چھلاوا مرا عشق، ایک چھب تری یاد بہر سبیل ہنر کا سفر تو جاری ہے کبھی کچھ اور بہانہ، کبھو سبب تری یاد
kabhi kabhi to ye haalat bhi ki mohabbat ne
کبھی کبھی تو یہ حالت بھی کی محبت نے نڈھال کر دیا مجھ کو تری محبت نے تری یہ پہلی محبت ہے تجھ کو کیا معلوم گھلا دیا مجھے اس آخری محبت نے وہ یوں بھی خیر سے سرما کا چاند تھی لیکن اسے اجال دیا اور بھی محبت نے مجھے خدا نے ادھورا ہی چھوڑنا تھا مگر مجھے بنا دیا اک شخص کی محبت نے یہ تم جو میرے لیے خواب چھوڑ آئی ہو تمہیں جگایا تو ہوگا مری محبت نے میں جس کو پہلے پہل دل لگی سمجھتا تھا مجھے تو مار دیا اس نئی محبت نے یہ اپنے اپنے نصیبوں کی بات ہے ورنہ کسی کو میرؔ بنایا اسی محبت نے یہ جسم و جان یہ نام و نمود حسب و نسب یہ سارے وہم تھے عزت تو دی محبت نے محبت اور عبادت میں فرق تو ہے ناں سو چھین لی ہے تری دوستی محبت نے
koi vajud hai duniyaa mein koi parchhaain
کوئی وجود ہے دنیا میں کوئی پرچھائیں سو ہر کوئی نہیں ہوتا کسی کی پرچھائیں مرے وجود کو مانو تو ساتھ چلتا ہوں کہ میں تو بن نہ سکوں گا تمہاری پرچھائیں یہی چراغ ہے سب کچھ کہ دل کہیں جس کو اگر یہ بجھ گیا تو آدمی بھی پرچھائیں کئی دنوں سے مرے ساتھ ساتھ چلتی ہے کوئی اداس سی ٹھنڈی سی کوئی پرچھائیں میں اپنا آپ سمجھتا رہا جسے تا عمر وہ میرے جیسا ہیولیٰ تھا میری پرچھائیں نہ خوش ہو کوئی بھی تیزی سے بڑھتی قامت پر پس غروب نہ ہوگی بچاری پرچھائیں گمان ہست ہے ہستی کا آئینہ خانہ سو اپنے آپ کو بھی جان اپنی پرچھائیں میں نصف سچ کی طرح ہوں بھی اور نہیں بھی ہوں کہ آدھا جسم ہے میرا تو آدھی پرچھائیں پھر اس سے اس کے تغافل کا کیا گلہ کرنا کہ افتخارؔ مغل وہ تو تھی ہی پرچھائیں
tumhein bhi chaahaa, zamaane se bhi vafaa ki thi
تمہیں بھی چاہا، زمانے سے بھی وفا کی تھی یہ نگہ داری جنوں نے جدا جدا کی تھی وہ سارا قصہ فقط رکھ رکھاؤ کا تو نہ تھا اس ایک نام سے نسبت بھی انتہا کی تھی کسی چھبیلے میں وہ چھب نظر نہیں آئی وہ ایک چھب کہ جو اس آئینہ قبا کی تھی خدا! صلہ دے دعا کا، محبتوں کے خدا خدا! کسی نے کسی کے لیے دعا کی تھی میں اپنا چہرہ کہاں ڈھونڈھتا پھروں گا اب کہ میں نے تیری جبیں اپنا آئنا کی تھی ہمیں تباہ تو ہونا تھا اپنی اپنی جگہ! طویل جنگ تھی اور جنگ بھی انا کی تھی صبا نفس تھا وہ اور میں تھا گرد باد مزاج ہمارے بیچ تھی جو قدر سو ہوا کی تھی
main bhi be-ant huun aur tu bhi hai gahraa sahraa
میں بھی بے انت ہوں اور تو بھی ہے گہرا صحرا یا ٹھہر مجھ میں یا خود میں مجھے ٹھہرا صحرا روح میں لہر بناتے ہیں تری لہروں سے اور کچھ دیر مرے سامنے لہرا صحرا آنکھ جھپکی تھی بس اک لمحے کو اور اس کے بعد میں نے ڈھونڈا ہے تجھے زندگی صحرا صحرا اپنی ہستی کو بکھرنے سے بچا لینا تم مجھ پہ مت جانا مری جان میں ٹھہرا صحرا میرے لہجے کا سمندر ہی نہیں سوکھا ہے لٹ گیا تیری ہنسی کا بھی سنہرا صحرا





