SHAWORDS
Ijtiba Rizvi

Ijtiba Rizvi

Ijtiba Rizvi

Ijtiba Rizvi

poet
51Shayari
30Ghazal

Popular Shayari

51 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

چرانے کو چرا لایا میں جلوے روئے روشن سے مگر اب بجلیاں لپٹی ہوئی ہیں دل کے دامن سے تنوع کچھ تو ہو اے بلبل کم ذوق ماتم کیا اگر تعمیر صحرا ہو گئی تخریب گلشن سے مجھے کچھ تجربے ہر رنگ کے جھولی میں رکھ چلنا مسافر ہوں غرض کیا ہے مجھے صحرا و گلشن سے مجھے ہر کارواں سے چھوٹنا اس بدگمانی میں کہ شاید راہبر کو ربط پنہانی ہو رہزن سے مذاق جذب باطن گم ہے اب تزئین ظاہر میں یہ طفل دشت ایمن گھٹ گیا تہذیب گلشن سے

churaane ko churaa laayaa main jalve ru-e-raushan se

غزل · Ghazal

احباب چھٹے محبوب چھٹے گھر چھوٹ گیا در چھوٹ گیا جب دل سے تمنا چھوٹ گئی سب رشتہ ناتا ٹوٹ گیا اے ساقیٔ بزم کیف حیات اب مجھ کو پیاسا جانے دے مے جس میں مری تقدیر کی تھی وہ شیشہ تجھ سے ٹوٹ گیا گو شیشہ گر قدرت نے بہت ٹوٹے ہوئے شیشے جوڑ دئیے لیکن یہ ہمارا شیشۂ دل جوڑا نہ گیا یوں ٹوٹ گیا اس ساز پہ نغمہ اب چھیڑو تو نالہ پیدا ہوتا ہے موجود ہیں وہ سب تار جو تھے بس ایک نہیں ہے ٹوٹ گیا ہم روتے ہیں اپنے پیاروں کو اور فطرت ہم سے کہتی ہے اب اور کھلونوں سے کھیلو جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا وہ راہ میں ہے آنکھوں میں ہے دم اے باد صبا آہستہ گزر ہیں تار نفس پر ہچکولے اب ٹوٹ گیا اب ٹوٹ گیا کہتے ہو کہ مانگو جو مانگو بتلاؤ تمہی ہم کیا مانگیں چاہا تھا کہ مانگیں تم سے تمہیں یہ ہو نہ سکا جی چھوٹ گیا ہاں سن کہ تجھے تھی ہم سے غرض محتاج نظر تھا حسن ترا رکھی رہی شان استغنا آخر کو یہ بھانڈا پھوٹ گیا یہ دل تو وہی دل ہے رضویؔ آباد بھی تھا ویران بھی ہے ارمانوں کی اس بستی کو کل ایک مسافر لوٹ گیا

ahbaab chhuTe mahbub chhuTe ghar chhuT gayaa dar chhuT gayaa

غزل · Ghazal

اک اخگر جمال فروزاں بہ شکل دل پھینکا ادھر بھی حسن تجلی نثار نے افسردگی بھی حسن ہے تابندگی بھی حسن ہم کو خزاں نے تم کو سنوارا بہار نے اس دل کو شوق دید میں تڑپا کے کر دیا کیا استوار وعدۂ نا استوار نے جلوے کی بھیک دے کے وہ ہٹنے لگے تھے خود دامن پکڑ لیا نگہ اعتبار نے گیسو غبار راہ تمنا سے اٹ نہ جائیں صحرا میں آپ نکلے ہیں ہم کو پکارنے

ik akhgar-e-jamaal farozaan ba-shakl-e-dil

غزل · Ghazal

ہم اپنے کو فاش کر رہے ہیں اے دہر دل نظر خراش کر رہے ہیں اے دہر کیسا یہ جنون ہے کہ تیرے اندر ہم خود کو تلاش کر رہے ہیں اے دہر

ham apne ko faash kar rahe hain ai dahr

غزل · Ghazal

نہیں سہی مرے نالوں میں کچھ اثر نہ سہی نظر کچھ آپ کی بے چین ہے ادھر نہ سہی ہم الجھنوں میں پڑے عقل نارسا لے کر وہ عیش بے خبری خوب تھا خبر نہ سہی ادا فروشیٔ بازار طور اور حضور خبر یہی تو ہے مشہور معتبر نہ سہی فدا ہو تاب بصارت مری بصیرت پر نظر نے چن تو لیا طاقت نظر نہ سہی پکارتے ہیں کہ گونج اس پکار کی رہ جائے دعا دعا تو کہی جائے گی اثر نہ سہی ہجوم بے خبراں ہے بھری تو ہے محفل تمہاری بزم میں رضویؔ با خبر نہ سہی

nahin sahi mire naalon mein kuchh asar na sahi

غزل · Ghazal

خرد کو خانۂ دل کا نگہباں کر دیا ہم نے یہ گھر آباد ہوتا اس کو ویراں کر دیا ہم نے چھپوگے کیا دگر رنگ شبستاں کر دیا ہم نے کہ اپنے گھر کو پھونکا اور چراغاں کر دیا ہم نے گھٹے جاتے تھے تم مینائے قلب اہل خلوت میں تمہیں جام کف صحرا نشیناں کر دیا ہم نے انیس خواج گاں تم تھے جلیس خواجگاں تم تھے مگر تم کو نصیب کم نصبیاں کر دیا ہم نے حریم ناز سے تم کو چرا لانے کے مجرم ہیں یہ صحرا تھا اسے بھی کوئے جاناں کر دیا ہم نے نظر والو ذرا چاک گریباں دیکھتے جاؤ اسے چاک نقاب روئے جاناں کر دیا ہم نے زمیں خاکستر یک شعلہ و یم آب یک گریہ یہی وہ آب و گل ہے جس کو انساں کر دیا ہم نے جفا سے فطرت آسود گاں تعمیر کی تم نے وفا کو قسمت آشفتہ حالاں کر دیا ہم نے متاع حسن محسوسات میں ارزاں ہی رہ جاتی گراں اس کو بہ یک تخئیل یزادں کر دیا ہم نے کھنڈر میں ماہ کامل کا سنورنا اس کو کہتے ہیں تم اترے دل میں جب دل کو بیاباں کر دیا ہم نے امانت مانگتی تھی ہم سے سامان نگہداری تمہیں کو شہر خاموشی کا درباں کر دیا ہم نے

khirad ko khaana-e-dil kaa nigah-baan kar diyaa ham ne

Similar Poets