tiraa vasl hai mujhe be-khudi tiraa hijr hai mujhe aagahi
tiraa vasl mujh ko firaaq hai tiraa hijr mujh ko visaal hai

Jalaluddin Akbar
Jalaluddin Akbar
Jalaluddin Akbar
Popular Shayari
5 totaldil ko is tarh dekhne vaale
dil agar be-qaraar ho jaae
ishq se hai farogh-e-rang-e-jahaan
ibtidaa ham hain intihaa hain ham
ye kaaenaat ye bazm-e-zuhur kuchh bhi nahin
tiri nazar mein nahin hai jo nuur kuchh bhi nahin
ye bhuul bhi kyaa bhuul hai ye yaad bhi kyaa yaad
tu yaad hai aur koi nahin tere sivaa yaad
Ghazalغزل
ہم سے قائم جنون الفت ہے یعنی سرگشتۂ وفا ہیں ہم ایک عالم کے دل میں بستے ہیں یعنی اک دل نشیں ادا ہیں ہم عشق سے ہے فروغ رنگ جہاں ابتدا ہم ہیں انتہا ہیں ہم
ham se qaaem junun-e-ulfat hai
یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیں تری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیں نگہ اگر ہو تو ہر ذرہ میں ہزاروں طور نگہ اگر نہ ہو بالائے طور کچھ بھی نہیں یہ قرب و بعد بہ مقدار شوق سالک ہیں جسے تو دور سمجھتا ہے دور کچھ بھی نہیں
ye kaaenaat ye bazm-e-zuhur kuchh bhi nahin
حسن اگر آشکار ہو جائے فتنۂ روزگار ہو جائے دل کو اس طرح دیکھنے والے دل اگر بے قرار ہو جائے شوخئ یار کا تقاضا ہے شوق بے اختیار ہو جائے کوئی شکوہ رہے نہ اکبرؔ کو تو اگر ایک بار ہو جائے
husn agar aashkaar ho jaae
خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیں ہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیں اب حسن و عشق میں فرق نہیں اب دونوں کی اک حالت ہے میں ان کو دیکھتا رہتا ہوں وہ مجھ کو دیکھتے رہتے ہیں ان کی وہ حیا وہ خاموشی اپنی وہ محبت کی نظریں وہ سننے کو سب کچھ سنتے ہیں ہم کہنے کو سب کچھ کہتے ہیں اس شوق فراواں کی یا رب آخر کوئی حد بھی ہے کہ نہیں انکار کریں وہ یا وعدہ ہم راستہ دیکھتے رہتے ہیں ہمدرد نہیں ہم راز نہیں کس سے کہئے کیوں کر کہئے جو دل پہ گزرتی رہتی ہے جو جان پہ صدمے سہتے ہیں آ دیکھ کہ ظالم فرقت میں کیا حال مرا بے حال ہوا آہوں سے شرارے جھڑتے ہیں آنکھوں سے دریا بہتے ہیں اکبرؔ شاید دل کھو بیٹھے وہ جلسے وہ احباب نہیں تنہا خاموش سے پھرتے ہیں ہر وقت اداس سے رہتے ہیں
khaamosh hain lab aur aankhon se aansu hain ki paiham bahte hain
ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہی ترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہے میں ہوں در پر اس کے پڑا ہوا مجھے اور چاہیئے کیا بھلا مجھے بے پری کا ہو کیا گلا مری بے پری پر و بال ہے وہی میں ہوں اور وہی زندگی وہی صبح و شام کی سر خوشی وہی میرا حسن خیال ہے وہی ان کی شان جمال ہے
tiraa vasl hai mujhe be-khudi tiraa hijr hai mujhe aagahi
یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یاد تو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یاد اس حسن تعلق کا ادا شکر ہو کیوں کر میں نے جو کیا یاد تو اس نے بھی کیا یاد اس مرد خدا مست کی کیا بات ہے اکبرؔ جس کو نہ رہا کچھ بھی بجز یاد خدا یاد
ye bhuul bhi kyaa bhuul hai ye yaad bhi kyaa yaad





