SHAWORDS
Kaif Bhopali

Kaif Bhopali

Kaif Bhopali

Kaif Bhopali

poet
56Sher
56Shayari
26Ghazal

Sherشعر

See all 56

Popular Sher & Shayari

112 total

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

ham ko divaana jaan ke kyaa kyaa zulm na Dhaayaa logon ne

ہم کو دوانہ جان کے کیا کیا ظلم نہ ڈھایا لوگوں نے دین چھڑایا دھرم چھڑایا دیس چھڑایا لوگوں نے تیری گلی میں آ نکلے تھے دوش ہمارا اتنا تھا پتھر مارے تہمت باندھی عیب لگایا لوگوں نے تیری لٹوں میں سو لیتے تھے بے گھر عاشق بے گھر لوگ بوڑھے برگد آج تجھے بھی کاٹ گرایا لوگوں نے نور سحر نے نکہت گل نے رنگ شفق نے کہہ دی بات کتنا کتنا میری زباں پر قفل لگایا لوگوں نے میرؔ تقی کے رنگ کا غازہ روئے غزل پر آ نہ سکا کیفؔ ہمارے میرؔ تقی کا رنگ اڑایا لوگوں نے

غزل · Ghazal

allaah ye kis kaa maatam hai vo zulf jo bikhri jaati hai

اللہ یہ کس کا ماتم ہے وہ زلف جو بکھری جاتی ہے آنکھیں ہے کہ بھیگی جاتی ہیں دنیا ہے کہ ڈوبی جاتی ہے کچھ بیتے دنوں کی یادیں ہیں اور چاروں طرف تنہائی سی مہماں ہیں کہ آئے جاتے ہیں محفل ہے کہ اجڑی جاتی ہے تدبیر کے ہاتھوں کچھ نہ ہوا تقدیر کی مشکل حل نہ ہوئی ناخن ہیں کہ ٹوٹے جاتے ہیں گتھی ہے کہ الجھی جاتی ہے کیا کوئی محبت میں یوں بھی بے نام و نشاں ہو جاتا ہے میں ہوں کہ ابھی تک زندہ ہوں دنیا ہے کہ بھولی جاتی ہے

غزل · Ghazal

khaanqaah mein suufi munh chhupaae baiThaa hai

خانقاہ میں صوفی منہ چھپائے بیٹھا ہے غالباً زمانے سے مات کھائے بیٹھا ہے قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلی تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے ان کے چاہنے والے دھوپ دھوپ پھرتے ہیں غیر ان کے کوچے میں سائے سائے بیٹھا ہے وائے عاشق ناداں کائنات یہ تیری اک شکستہ شیشے کو دل بنائے بیٹھا ہے دور بارش اے گلچیں وا ہے دیدۂ نرگس آج ہر گل نرگس خار کھائے بیٹھا ہے

غزل · Ghazal

sirf itne jurm par hangaama hotaa jaae hai

صرف اتنے جرم پر ہنگامہ ہوتا جائے ہے تیرا دیوانہ تری گلیوں میں دیکھا جائے ہے آپ کس کس کو بھلا سولی چڑھاتے جائیں گے اب تو سارا شہر ہی منصور بنتا جائے ہے دلبروں کے بھیس میں پھرتے ہیں چوروں کے گروہ جاگتے رہیو کہ ان راتوں میں لوٹا جائے ہے تیرا مے خانہ ہے یا خیرات خانہ ساقیا اس طرح ملتا ہے بادہ جیسے بخشا جائے ہے مے کشو آگے بڑھو تشنہ لبو آگے بڑھو اپنا حق مانگا نہیں جاتا ہے چھینا جائے ہے موت آئی اور تصور آپ کا رخصت ہوا جیسے منزل تک کوئی رہ رو کو پہونچا جائے ہے

غزل · Ghazal

dosto ab tum na dekhoge ye din

دوستو اب تم نہ دیکھو گے یہ دن ختم ہیں ہم پر ستم آرائیاں چن لیا اک ایک کانٹا راہ کا ہو مبارک یہ برہنہ پائیاں کو بہ کو میرے جنوں کی عظمتیں اس کی محفل میں مری رسوائیاں عظمت سقراط و عیسیٰ کی قسم دار کے سائے میں ہیں دارائیاں چارہ گر مرہم بھرے گا تو کہاں روح تک ہیں زخم کی گہرائیاں کیفؔ کو داغ جگر بخشے گئے اللہ اللہ یہ کرم فرمائیاں

غزل · Ghazal

ham un ko chhin kar laae hain kitne daavedaaron se

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیں گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے گپھاؤں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے کنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

Similar Poets