SHAWORDS
Kaleem Aajiz

Kaleem Aajiz

Kaleem Aajiz

Kaleem Aajiz

poet
67Shayari
60Ghazal

Popular Shayari

67 total

Ghazalغزل

See all 60
غزل · Ghazal

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہے گی دن رات کے آنسو سحر و شام کی آہیں اس باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہے گی کس دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے کہاں تک دنیا کو تری زلف رسا یاد رہے گی کرتے رہیں گے تم سے محبت بھی وفا بھی گو تم کو محبت نہ وفا یاد رہے گی کس بات کا تو قول و قسم لے ہے برہمن ہر بات بتوں کی بخدا یاد رہے گی چلتے گئے ہم پھول بناتے گئے چھالے صحرا کو مری لغزش پا یاد رہے گی جس بزم میں تم جاؤ گے اس بزم کو عاجزؔ یہ گفتگوئے بے سروپا یاد رہے گی

har choT pe puchhe hai bataa yaad rahegi

غزل · Ghazal

مری مستی کے افسانے رہیں گے جہاں گردش میں پیمانے رہیں گے نکالے جائیں گے اہل محبت اب اس محفل میں بیگانے رہیں گے یہی انداز مے نوشی رہے گا تو یہ شیشے نہ پیمانے رہیں گے رہے گا سلسلہ دار و رسن کا جہاں دو چار دیوانے رہیں گے جنہیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے انہی پھولوں کے افسانے رہیں گے خرد زنجیر پہناتی رہے گی جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے

miri masti ke afsaane raheinge

غزل · Ghazal

جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے ستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گے اندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے دلاسے ان کے جو درد آشنائے غم نہیں ہوں گے نمک ہی ہوں گے دل کے زخم پر مرہم نہیں ہوں گے اگر بڑھتا رہا یوں ہی یہ سودائے ستم گاری تمہی رسوا سر بازار ہو گے ہم نہیں ہوں گے جناب شیخ پر افسوس ہے ہم نے تو سمجھا تھا حرم کے رہنے والے ایسے نامحرم نہیں ہوں گے ادھر آؤ تمہاری زلف ہم آراستہ کر دیں جو گیسو ہم سنواریں گے کبھی برہم نہیں ہوں گے اگرچہ عشق میں مرنے کا خطرہ ہی زیادہ ہے مگر مرنے کے ڈر سے مرنے والے کم نہیں ہوں گے

judaa jab tak tiri zulfon se pech-o-kham nahin honge

غزل · Ghazal

بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو تو بہار لائی ہے کیسی بہار دیکھو تو یہ کیا ہوا کہ سلامت نہیں کوئی دامن چمن میں پھول کھلے ہیں کہ خار دیکھو تو لہو دلوں کا چراغوں میں کل بھی جلتا تھا اور آج بھی ہے وہی کاروبار دیکھو تو یہاں ہر اک رسن و دار ہی دکھاتا ہے عجیب شہر عجیب شہریار دیکھو تو نہ کوئی شانہ بچا ہے نہ کوئی آئینہ دراز دستیٔ گیسوئے یار دیکھو تو کسی سے پیار نہیں پھر بھی پیار ہے سب سے وہ مست حسن ہے کیا ہوشیار دیکھو تو وہ چپ بھی بیٹھے ہے تو ایسا بن کے بیٹھے ہے ہر اک ادا یہ کہے ہے پکار دیکھو تو ابھی تو خون کا سیندور ہی لگایا ہے ابھی کرے ہے وہ کیا کیا سنگار دیکھو تو ادا ہمیں نے سکھائی نظر ہمیں نے دی ہمیں سے آنکھ چراؤ ہو یار دیکھو تو اسیر کر کے ہمیں کیا پھرے ہے اتراتا گلے میں ڈالے وہ پھولوں کا ہار دیکھو تو

baDi talab thi baDaa intizaar dekho to

غزل · Ghazal

زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ پھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آ مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیں آ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لئے آ اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میں آ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ آ رکھ دہن زخم پہ پھر انگلیاں اپنی دل بانسری تیری ہے بجانے کے لئے آ ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ مانا کہ مرے گھر سے عداوت ہی تجھے ہے رہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لئے آ پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویر میں نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لئے، آ آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہے میں کون ہوں دنیا کو بتانے کے لئے آ کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں آ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ اب کے جو وہ آ جائے تو عاجزؔ اسے لے کر محفل میں غزل اپنی سنانے کے لئے آ

zakhmon ke nae phuul khilaane ke liye aa

غزل · Ghazal

غرض کسی سے نہ اے دوست تم کبھو رکھیو بس اپنے ہاتھ یہاں اپنی آبرو رکھیو زمانہ سنگ سہی آئنے کی خو رکھیو جو دل میں رکھیو وہی سب کے روبرو رکھیو رفو گران خرد کے نہ جائیو نزدیک بلا سے پیرہن چاک بے رفو رکھیو چراغ گھر میں میسر نہیں رہے نہ سہی جلائے دل میں مگر شمع آرزو رکھیو نہ جانے کون اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دے بہت سنبھال کے اس بزم میں سبو رکھیو ہر ایک ظرف برابر نہیں ہے اے بلبل جو آگ سینے میں رکھوں ہوں میں نہ تو رکھیو یہی بچائے گی شمشیر وقت سے عاجزؔ ہماری بات قریب‌ رگ گلو رکھیو

gharaz kisi se na ai dost tum kabhu rakhiyo

Similar Poets