kabhi aisaa bhi hove hai rote rote
jigar thaam kar muskuraanaa paDe hai

Kaleem Aajiz
Kaleem Aajiz
Kaleem Aajiz
Popular Shayari
67 totalkhamoshi mein har baat ban jaae hai
jo bole hai divaana kahlaae hai
din ek sitam ek sitam raat karo ho
vo dost ho dushman ko bhi tum maat karo ho
kal kahte rahe hain vahi kal kahte raheinge
har daur mein ham un pe ghazal kahte raheinge
daaman pe koi chhinT na khanjar pe koi daagh
tum qatl karo ho ki karaamaat karo ho
zaalim thaa vo aur zulm ki aadat bhi bahut thi
majbur the ham us se mohabbat bhi bahut thi
dard aisaa hai ki ji chaahe hai zinda rahiye
zindagi aisi ki mar jaane ko ji chaahe hai
na jaane ruuTh ke baiThaa hai dil kaa chain kahaan
mile to us ko hamaaraa koi salaam kahe
rakhnaa hai kahin paanv to rakkho ho kahin paanv
chalnaa zaraa aayaa hai to itraae chalo ho
baat chaahe be-saliqa ho 'kalim'
baat kahne kaa saliqa chaahiye
bahaaron ki nazar mein phuul aur kaanTe baraabar hain
mohabbat kyaa kareinge dost dushman dekhne vaale
miraa haal puchh ke ham-nashin mire soz-e-dil ko havaa na de
bas yahi duaa main karun huun ab ki ye gham kisi ko khudaa na de
Ghazalغزل
ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہے گی دن رات کے آنسو سحر و شام کی آہیں اس باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہے گی کس دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے کہاں تک دنیا کو تری زلف رسا یاد رہے گی کرتے رہیں گے تم سے محبت بھی وفا بھی گو تم کو محبت نہ وفا یاد رہے گی کس بات کا تو قول و قسم لے ہے برہمن ہر بات بتوں کی بخدا یاد رہے گی چلتے گئے ہم پھول بناتے گئے چھالے صحرا کو مری لغزش پا یاد رہے گی جس بزم میں تم جاؤ گے اس بزم کو عاجزؔ یہ گفتگوئے بے سروپا یاد رہے گی
har choT pe puchhe hai bataa yaad rahegi
مری مستی کے افسانے رہیں گے جہاں گردش میں پیمانے رہیں گے نکالے جائیں گے اہل محبت اب اس محفل میں بیگانے رہیں گے یہی انداز مے نوشی رہے گا تو یہ شیشے نہ پیمانے رہیں گے رہے گا سلسلہ دار و رسن کا جہاں دو چار دیوانے رہیں گے جنہیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے انہی پھولوں کے افسانے رہیں گے خرد زنجیر پہناتی رہے گی جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے
miri masti ke afsaane raheinge
جدا جب تک تری زلفوں سے پیچ و خم نہیں ہوں گے ستم دنیا میں بڑھتے ہی رہیں گے کم نہیں ہوں گے دل پر غم نہ ہوں گے دیدۂ پر نم نہیں ہوں گے اندھیرا ہوگا اس محفل میں جس میں ہم نہیں ہوں گے دلاسے ان کے جو درد آشنائے غم نہیں ہوں گے نمک ہی ہوں گے دل کے زخم پر مرہم نہیں ہوں گے اگر بڑھتا رہا یوں ہی یہ سودائے ستم گاری تمہی رسوا سر بازار ہو گے ہم نہیں ہوں گے جناب شیخ پر افسوس ہے ہم نے تو سمجھا تھا حرم کے رہنے والے ایسے نامحرم نہیں ہوں گے ادھر آؤ تمہاری زلف ہم آراستہ کر دیں جو گیسو ہم سنواریں گے کبھی برہم نہیں ہوں گے اگرچہ عشق میں مرنے کا خطرہ ہی زیادہ ہے مگر مرنے کے ڈر سے مرنے والے کم نہیں ہوں گے
judaa jab tak tiri zulfon se pech-o-kham nahin honge
بڑی طلب تھی بڑا انتظار دیکھو تو بہار لائی ہے کیسی بہار دیکھو تو یہ کیا ہوا کہ سلامت نہیں کوئی دامن چمن میں پھول کھلے ہیں کہ خار دیکھو تو لہو دلوں کا چراغوں میں کل بھی جلتا تھا اور آج بھی ہے وہی کاروبار دیکھو تو یہاں ہر اک رسن و دار ہی دکھاتا ہے عجیب شہر عجیب شہریار دیکھو تو نہ کوئی شانہ بچا ہے نہ کوئی آئینہ دراز دستیٔ گیسوئے یار دیکھو تو کسی سے پیار نہیں پھر بھی پیار ہے سب سے وہ مست حسن ہے کیا ہوشیار دیکھو تو وہ چپ بھی بیٹھے ہے تو ایسا بن کے بیٹھے ہے ہر اک ادا یہ کہے ہے پکار دیکھو تو ابھی تو خون کا سیندور ہی لگایا ہے ابھی کرے ہے وہ کیا کیا سنگار دیکھو تو ادا ہمیں نے سکھائی نظر ہمیں نے دی ہمیں سے آنکھ چراؤ ہو یار دیکھو تو اسیر کر کے ہمیں کیا پھرے ہے اتراتا گلے میں ڈالے وہ پھولوں کا ہار دیکھو تو
baDi talab thi baDaa intizaar dekho to
زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ پھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آ مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیں آ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لئے آ اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میں آ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ آ رکھ دہن زخم پہ پھر انگلیاں اپنی دل بانسری تیری ہے بجانے کے لئے آ ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ مانا کہ مرے گھر سے عداوت ہی تجھے ہے رہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لئے آ پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویر میں نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لئے، آ آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہے میں کون ہوں دنیا کو بتانے کے لئے آ کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں آ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ اب کے جو وہ آ جائے تو عاجزؔ اسے لے کر محفل میں غزل اپنی سنانے کے لئے آ
zakhmon ke nae phuul khilaane ke liye aa
غرض کسی سے نہ اے دوست تم کبھو رکھیو بس اپنے ہاتھ یہاں اپنی آبرو رکھیو زمانہ سنگ سہی آئنے کی خو رکھیو جو دل میں رکھیو وہی سب کے روبرو رکھیو رفو گران خرد کے نہ جائیو نزدیک بلا سے پیرہن چاک بے رفو رکھیو چراغ گھر میں میسر نہیں رہے نہ سہی جلائے دل میں مگر شمع آرزو رکھیو نہ جانے کون اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دے بہت سنبھال کے اس بزم میں سبو رکھیو ہر ایک ظرف برابر نہیں ہے اے بلبل جو آگ سینے میں رکھوں ہوں میں نہ تو رکھیو یہی بچائے گی شمشیر وقت سے عاجزؔ ہماری بات قریب رگ گلو رکھیو
gharaz kisi se na ai dost tum kabhu rakhiyo





