SHAWORDS
Karamat Ali Karamat

Karamat Ali Karamat

Karamat Ali Karamat

Karamat Ali Karamat

poet
22Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

ہستی کو جمال دے رہا ہوں میں تیری مثال دے رہا ہوں معنی پہ چڑھا کے غازۂ نو لفظوں کو خیال دے رہا ہوں ماضی پہ نگہ ہے اپنی گہری فردا کو میں حال دے رہا ہوں مشکل بھی ہے اور سہل بھی ہے ایسا میں سوال دے رہا ہوں شیشہ گری ہے عجیب میری آئینے کو بال دے رہا ہوں ماحول میں ہے کچھ ایسی خنکی جذبات کو شال دے رہا ہوں کیوں عارض وقت اب نہ نکھرے فن کا حسیں خال دے رہا ہوں امروز کے جتنے ہیں مسائل فردا ہی پہ ٹال دے رہا ہوں پھنس کر یوں شکنجے میں گنہ کے مکڑی کو میں جال دے رہا ہوں گمراہ زمانہ ہے تو کیا غم؟ شمع مہ و سال دے رہا ہوں دل ٹوٹ گیا تو کیا کرامتؔ پیغام وصال دے رہا ہوں

hasti ko jamaal de rahaa huun

غزل · Ghazal

وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا رخ حیات پہ جیسے عذاب چھوڑ گیا نتیجہ کوشش پیہم کا یوں ہوا الٹا میں آسمان پہ موج سراب چھوڑ گیا وہ کون تھا جو مری زندگی کے دفتر سے حروف لے گیا خالی کتاب چھوڑ گیا بہار بن کے وہ آیا گیا بھی شان کے ساتھ کہ زرد پتوں پہ رنگ گلاب چھوڑ گیا مرے لہو میں جو آیا تھا میہماں بن کر مری رگوں میں وہ اک آفتاب چھوڑ گیا گیا تو ساتھ وہ لیتا گیا ہر اک نغمہ خلا کی گود میں ٹوٹا رباب چھوڑ گیا ملا نہ جذبۂ تشکیک کو لباس کوئی وہ ہر سوال کا ایسا جواب چھوڑ گیا بکھیرتا ہے کرامتؔ جو درد کی کرنیں وہ خواب ذہن میں اک ماہتاب چھوڑ گیا

vo sach ke chehre pe aisaa naqaab chhoD gayaa

غزل · Ghazal

پہاڑ جو کھڑا ہوا تھا خواب سا خیال سا بکھر گیا ہے راستے میں گرد ماہ و سال سا نظر کا فرق کہئے اس کو ہجر ہے وصال سا عروج کہہ رہے ہیں جس کو ہے وہی زوال سا تمہارا لفظ سچ کا ساتھ دے سکا نہ دور تک مثال جس کی دے رہے ہو ہے وہ بے مثال سا خلوص کے ہرن کو ڈھونڈ کر ریا کے شہر میں مرے عزیز کر رہے ہو تم عجب کمال سا عداوتوں کی موج جس زمیں پہ بو گئی نمک اگے گا سبزہ زار اس جگہ یہ ہے محال سا شب وصال آئینے میں پڑ گیا شگاف کیوں؟ ہمارا دل تو صاف ہے تمہیں ہے کیوں ملال سا کرامتؔ حزیں فرار ہو کے حال زار سے گزشتہ عہد سے ملا تو وہ لگا ہے حال سا

pahaaD jo khaDaa huaa thaa khvaab-saa khayaal saa

غزل · Ghazal

جو لمحے ٹوٹ چکے ان کو جوڑتے کیوں ہو یہ جڑ گئے تو انہیں پھر سے توڑتے کیوں ہو مزاج شمس بدل جائے گا تو کیا ہوگا جو ذرے سوئے ہیں ان کو جھنجھوڑتے کیوں ہو کب آنسوؤں سے مٹا ہے شگاف آئینہ جو شیشہ ٹوٹ چکا اس کو جوڑتے کیوں ہو یہ ریت ہے یہاں مٹ جائیں گے تمام نقوش تم اپنا نقش قدم اس پہ چھوڑتے کیوں ہو تمہاری سمت زمانہ بالآخر آئے گا تم اپنی فکر کی سمتوں کو موڑتے کیوں ہو تمہاری آنکھوں نے بخشی ہے گل کو نمکینی تم اپنی آنکھوں میں جلوے نچوڑتے کیوں ہو کرامتؔ ایسے میں سانسوں کا حال کیا ہوگا سسکتے لمحوں کی گردن مروڑتے کیوں ہو

jo lamhe TuuT chuke un ko joDte kyuun ho

غزل · Ghazal

روبرو غم کے یہ تقدیر کہاں سے آئی اور ہتھیلی کی یہ تحریر کہاں سے آئی دل کے گوشے میں جسے میں نے چھپا رکھا تھا تیرے البم میں وہ تصویر کہاں سے آئی دبی خواہش کا تھا اظہار تماشہ گویا خواب تھا خواب یہ تعبیر کہاں سے آئی فن کو میدان کھلا چاہئے جینے کے لئے رقص کی راہ میں زنجیر کہاں سے آئی زندگی کے ابھی آثار ہیں باقی ورنہ دور تخریب میں تعمیر کہاں سے آئی ڈھونڈنے نکلے تھے ہم موت کے معنی لیکن زندگی کی نئی تفسیر کہاں سے آئی اس کو آدم ہی کی تقصیر کا ثمرہ کہئے ورنہ جنت کی یہ جاگیر کہاں سے آئی وقت کا سیل کرامتؔ تجھے لے ڈوبا تھا یک بیک یہ تری تدبیر کہاں سے آئی

ru-ba-ru gham ke ye taqdir kahaan se aai

غزل · Ghazal

پیغام شباب آ رہا ہے شاخوں پہ گلاب آ رہا ہے جذبے کا پرندہ کیوں نہ تڑپے راہوں میں سراب آ رہا ہے ہشیار رہے خرد کی محفل اک خانہ خراب آ رہا ہے سرشار ہیں وقت کے کٹورے جام مئے ناب آ رہا ہے اس طرح شفق کو نیند آئی احساس کو خواب آ رہا ہے انسان ہے بے حیا کچھ ایسا حیواں کو حجاب آ رہا ہے تاروں کی نگاہ کیوں نہ چمکے چہرے پہ نقاب آ رہا ہے کورا ہے یہ حاشیہ خودی کا ہستی کا وہ باب آ رہا ہے انگلی میں ابھر رہی ہے سوزش ہاتھوں میں رباب آ رہا ہے پوچھا جو سوال آسماں سے دھرتی سے جواب آ رہا ہے گھلتا ہے دماغ اے کرامتؔ سر پر جو عذاب آ رہا ہے

paighaam-e-shabaab aa rahaa hai

Similar Poets