SHAWORDS
KHalid Malik Sahil

KHalid Malik Sahil

KHalid Malik Sahil

KHalid Malik Sahil

poet
19Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

19 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

ایک تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے زندگی پھول ہے پتھر سے مگر بھاری ہے ایک عادت سی ہے بیزار طبیعت رہنا ورنہ اس وقت کہاں کوئی بھی بے زاری ہے سرفروشی کا مزہ ہے نہ خطا پوشی کا دشمن جان بھی جذبات سے اب عاری ہے آؤ سنسار کی قیمت میں لگائیں بولی لوگ کہتے ہیں کہ انسان میں ناداری ہے جانے کس سوچ کے لمحے نے چھوا ہے تجھ کو اک عجب کیف مری روح پہ بھی طاری ہے تشنہ تشنہ سے بدن میں ہے شرابی نشہ چشمۂ فیض تری آنکھ سے پھر جاری ہے

ek talvaar hai talvaar bhi do dhaari hai

غزل · Ghazal

تو تشنگی کی اذیت کبھی فرات سے پوچھ اندھیری رات کی حسرت اندھیری رات سے پوچھ گزر رہی ہے جو دل پر وہی حقیقت ہے غم جہاں کا فسانہ غم حیات سے پوچھ میں اپنے آپ میں بیٹھا ہوں بے خبر تو نہیں نہیں ہے کوئی تعلق تو اپنی ذات سے پوچھ دکھی ہے شہر کے لوگوں سے بدمزاج بہت جو پوچھنا ہے محبت سے احتیاط سے پوچھ تو اپنی ذات کے اندر بھی جھانک لے ساحلؔ زمیں کا بھید کسی روز کائنات سے پوچھ

tu tishnagi ki aziyyat kabhi furaat se puchh

غزل · Ghazal

حادثے پیار میں ایسے بھی تو ہو جاتے ہیں رتجگے خیمۂ تسکین میں ہو جاتے ہیں بعض اوقات ترا نام بدل جاتا ہے بعض اوقات ترے نقش بھی کھو جاتے ہیں چلتے چلتے کسی رستے کے کنارے پہ کہیں یاد کے پھول مسافت میں پرو جاتے ہیں تجھ کو دیکھا ہے تو آثار نظر آئے ہیں تجھ کو دیکھا ہے تو ماضی کو بھی رو جاتے ہیں ہم چلے جاتے ہیں اس شہر کے جنگل سے کہیں تم ہمیں درد کی خیرات تو دو جاتے ہیں

haadse pyaar mein aise bhi to ho jaate hain

غزل · Ghazal

تقدیر کے دربار میں القاب پڑے تھے ہم لوگ مگر خواب میں بے خواب پڑے تھے یخ بستہ ہواؤں میں تھی خاموش حقیقت ہم سوچ کی دہلیز پہ بیتاب پڑے تھے تصویر تھی احساس کی تحریر ہوا کی صحرا میں ترے عکس کے گرداب پڑے تھے کل رات میں جس راہ سے گھر لوٹ کے آیا اس راہ میں بکھرے ہوئے کچھ خواب پڑے تھے وہ پھول جنہیں آپ نے دیکھا تھا ادا سے اجڑے ہوئے موسم میں بھی شاداب پڑے تھے پچیس برس بعد اسے دیکھ کے سوچا اک قطرۂ کم ذات میں غرقاب پڑے تھے ہم لوگ تو اخلاق بھی رکھ آئے ہیں ساحلؔ ردی کے اسی ڈھیر میں آداب پڑے تھے

taqdir ke darbaar mein alqaab paDe the

غزل · Ghazal

بڑے جتن سے بڑے سوچ سے اتارا گیا مرا ستارا سر خاک بھی سنوارا گیا مری وفا نے جنوں کا حساب دینا تھا سو آج مجھ کو بیابان سے پکارا گیا بس ایک خوف تھا زندہ تری جدائی کا مرا وہ آخری دشمن بھی آج مارا گیا مجھے یقین تھا اس تجربے سے پہلے بھی سنا ہے غیر سے جلوہ نہیں سہارا گیا سجا دیا ہے تصور نے دھوپ کا منظر اگرچہ برف کی تصویر سے گزارا گیا ملا ہے خاک سے نسبت کا پھر صلہ مجھ کو مرا ہی نام ہے گردوں سے جو پکارا گیا میں دیکھتا رہا دنیا کو دور سے ساحلؔ مرے مکان سے آگے تلک کنارا گیا

baDe jatan se baDe soch se utaaraa gayaa

غزل · Ghazal

جواب جس کا نہیں کوئی وہ سوال بنا میں خواب میں اسے دیکھوں کوئی خیال بنا میں اعتراف کے موسم میں چپ نہیں رہتا مرے خدا مری ہستی کے خد و خال بنا وہ کون ہے جو مری ہجرتوں سے ٹوٹ گیا وہ کون شخص ہے جو آئینہ مثال بنا وہ کس کے دھیان میں آیا تھا موسموں کی طرح وہ کون ہے جو مری سوچ کا خیال بنا میں کس یقین سے لکھا گیا ہوں مٹی پر وہ کون ہے جو مرے سلسلے کی ڈھال بنا تو اضطراب کے رنگوں سے آشنا ہی نہیں بس ایک تل کے لیے زائچے میں گال بنا میں کھو گیا ہوں کہیں وقت کے تحیر میں مرے خدا مرے دن رات ماہ و سال بنا

javaab jis kaa nahin koi vo savaal banaa

Similar Poets