chupke se sah rahaa huun sitam tere bevafaa
meri khataa to jab ho ki chuun kar rahaa huun main

Khar Dehlavi
Khar Dehlavi
Khar Dehlavi
Popular Shayari
9 totalchashm-e-giryaan ki aabyaari se
dil ke daaghon pe phir bahaar aai
mohabbat zulf kaa aaseb jaadu hai nigaahon kaa
mohabbat fitna-e-mahshar balaa-e-naa-gahaani hai
'khaar' ulfat ki baat jaane do
zindagi kis ko saazgaar aai
sach to ye hai ki duaa ne na davaa ne rakkhaa
ham ko zinda tire daaman ki havaa ne rakkhaa
main ne maanaa ki adu bhi tiraa shaidaai hai
farq hotaa hai fidaa hone mein mar jaane mein
uTThe na baiTh kar kabhi ku-e-habib se
us dar pe kyaa gae ki usi dar ke ho gae
ye nagri husn vaalon ki ajab nagri hai ai hamdam
ki is nagri mein aahon ki bhi taasirein badalti hain
barhami husn ko kuchh aur jilaa deti hai
vo jamaali teraa chehra vo jalaali aankhein
Ghazalغزل
کہا کسی نے کہ ہے چھلاوا کسی نے تشبیہ دی پری سے وہ آج محفل میں جلوہ آرا ہوئے ہیں اس شان دلبری سے کوئی اشارہ نہ کچھ کنایہ کہی ہے اک بات سادگی سے ابھی ہو ناداں نصیب اعدا کہیں اٹھاؤ نہ زک کسی سے نہیں کہ دل آشنا نہیں ہے رموز و آداب عاشقی سے کچھ اس میں ترک وفا نہیں ہے اٹھائیں گر ہاتھ زندگی سے لیا کف پا کا میں نے بوسہ کچھ اس میں ترک ادب نہیں تھا چلو ہٹاؤ قصور میرا خطا بھی ہوتی ہے آدمی سے مریض کا اب لبوں پہ دم ہے شفا کی امید اس کی کم ہے جو اب بھی آؤ بڑا کرم ہے کہ سانس ہیں چند آخری سے نہیں بھلے ان کے طور یہ بھی کوئی بلا ہوگی اور یہ بھی نہ ہو کوئی طرز جور یہ بھی کہ آ گئے باز کجروی سے بڑا ہی پر لطف ہوگا منظر کریں گے اس دم سلام جھک کر کہ دیکھتے ہو گے پیش داور ہمیں پشیماں سے ملتجی سے ملے گا اغیار کو بہانہ اٹھائے گا انگلیاں زمانہ جنہیں ہے پاس وفا یہ مانا وہ منہ نہ موڑیں گے بندگی سے سوال سائل کا یوں نہ موڑو جواب سے اس کا دل نہ توڑو دل شکستہ کو بلکہ جوڑو تم اپنے الطاف خسروی سے سنائیں کیا ماجرائے الفت ہے ایک عالم میں اس کی شہرت تمہارے جلوے ہماری وحشت ہیں دیدنی سے شنیدنی سے عجیب ہے روگ عاشقی کا کرے بھی کوئی تو کیا مداوا نہ خارؔ ایسا مریض دیکھا تڑپ اٹھے درد کی کمی سے
kahaa kisi ne ki hai chhalaavaa kisi ne tashbih di pari se
بہر صورت ہیں ہم شیرینئ گفتار کے صدقے ترے اقرار کے صدقے ترے انکار کے صدقے خوشا ذوق طلب اس حسرت دیدار کے صدقے ہوئے ہیں بام و در کے روزن و دیوار کے صدقے نوازش ہو نوازے گر نگاہ لطف سے اس کو ترا بیمار تیری نرگس بیمار کے صدقے قدم لے کر کلیجے سے لگاتے ہیں کبھی اس کو کبھی ہوتے ہیں ہم چشم و لب و رخسار کے صدقے جہان آرزو میں حسن کا بھی نام ہو جائے مزہ آ جائے وہ گل بھی اگر ہو خارؔ کے صدقے
bahar-surat hain ham shirini-e-guftaar ke sadqe
وہی ہے نفس مضموں صرف تدبیریں بدلتی ہیں حضور دوست کیا کیا اپنی تقریریں بدلتی ہیں یہ نگری حسن والوں کی عجب نگری ہے اے ہم دم کہ اس نگری میں آہوں کی بھی تاثیریں بدلتی ہیں نہ اترا اے دل ناداں کسی کے عہد و پیماں پر کہ قول و فعل کیا لوگوں کی تحریریں بدلتی ہیں خدائی کا اگر کرتے ہیں دعویٰ بت نہیں بے جا نگاہ لطف سے دیکھیں تو تقدیریں بدلتی ہیں کوئی سفاک جب دیدوں میں دیدے ڈال دیتا ہے تو دل سے دل نہیں الفت کی جاگیریں بدلتی ہیں کسی کافر کے یاد آتے ہیں انداز و ادا جس دم نظر کے سامنے کتنی ہی تصویریں بدلتی ہیں کسی پر برق گرتی ہے کوئی چڑھتا ہے سولی پر بقدر ذوق مجرم خارؔ تعزیریں بدلتی ہیں
vahi hai nafs-e-mazmun sirf tadbirein badalti hain
دنیا کے ہیں نہ دین کے دلبر کے ہو گئے ہم دل سے کلمہ گو کسی کافر کے ہو گئے اٹھے نہ بیٹھ کر کبھی کوئے حبیب سے اس در پے کیا گئے کہ اسی در کے ہو گئے اے چشم یار مان گئے تیرے سحر کو دل دے کے معتقد ترے منتر کے ہو گئے ہم عرض حال کر نہ سکے اف رے رعب حسن جاتے ہی ان کے سامنے پتھر کے ہو گئے اے خارؔ دل جگر پہ ہی قابو نہیں رہا ہم سے خلاف غیر تو کیا گھر کے ہو گئے
duniyaa ke hain na diin ke dilbar ke ho gae
ہیجان میں تلاش سکوں کر رہا ہوں میں یوں اپنے غم کو اور فزوں کر رہا ہوں میں وہ سن رہے ہیں اور تبسم ہے زیر لب ان سے بیان حال زبوں کر رہا ہوں میں اب اس سے بڑھ کے اور ہو وحشت کا کیا ثبوت تالیف نسخہ ہائے جنوں کر رہا ہوں میں اک دشمن وفا سے بڑھائی ہے رسم و راہ خود اپنی آرزوؤں کا خوں کر رہا ہوں میں اب وادئ جنوں میں قدم رکھ چکا ہے عشق تشہیر داغ ہائے دروں کر رہا ہوں میں مسحور ہو رہے ہیں وہ سن کر مرا کلام دم ان پہ جیسے کوئی فسوں کر رہا ہوں میں معبود ہے وہ بس مرا مطلوب ہی نہیں سجدہ اس آستانے پہ یوں کر رہا ہوں میں شاید کہ آب تیغ ہی آب حیات ہو حد ادب سے خود کو بروں کر رہا ہوں میں سینہ بھی میرا ہاتھ بھی میرے تمہیں غرض زد کوب اپنے سینہ کو کیوں کر رہا ہوں میں چپکے سے سہہ رہا ہوں ستم تیرے بے وفا میری خطا تو جب ہو کہ چوں کر رہا ہوں میں زعم خودی میں جس پہ نہ جانے کا عہد تھا اس در پہ خارؔ سر کو نگوں کر رہا ہوں میں
haijaan mein talaash-e-sukun kar rahaa huun main
اسی کی داستانیں ہیں اسی کی قصہ خوانی ہے وہ لطف خاص جو مجھ پر ترا اے یار جانی ہے نہ جا ظالم ابھی تو تشنۂ دیدار ہیں آنکھیں ذرا دم لے ابھی تو داستان غم سنانی ہے محبت زلف کا آسیب جادو ہے نگاہوں کا محبت فتنۂ محشر بلائے ناگہانی ہے بجھی حسرت کا نوحہ ہے دل مرحوم کا ماتم بہ الفاظ دگر یہ شعر خوانی سوز خوانی ہے گھرانا ہے ہمارا داغؔ کا ہم دلی والے ہیں زمانے میں مسلم خارؔ اپنی خوش بیانی ہے
usi ki daastaanein hain usi ki qissa-khvaani hai





