SHAWORDS
Lala Madhav Ram Jauhar

Lala Madhav Ram Jauhar

Lala Madhav Ram Jauhar

Lala Madhav Ram Jauhar

poet
173Shayari
39Ghazal

Popular Shayari

173 total

Ghazalغزل

See all 39
غزل · Ghazal

دل کو سمجھاؤ ذرا عشق میں کیا رکھا ہے کس لیے آپ کو دیوانہ بنا رکھا ہے یہ تو معلوم ہے بیمار میں کیا رکھا ہے تیرے ملنے کی تمنا نے جلا رکھا ہے کون سا بادہ کش ایسا ہے کہ جس کی خاطر جام پہلے ہی سے ساقی نے اٹھا رکھا ہے اپنے ہی حال میں رہنے دے مجھے اے ہم دم تیری باتوں نے مرا دھیان بٹا رکھا ہے آتش عشق سے اللہ بچائے سب کو اسی شعلے نے زمانے کو جلا رکھا ہے میں نے زلفوں کو چھوا ہو تو ڈسیں ناگ مجھے بے خطا آپ نے الزام لگا رکھا ہے کیسے بھولے ہوئے ہیں گبر و مسلماں دونوں دیر میں بت ہے نہ کعبے میں خدا رکھا ہے

dil ko samjhaao zaraa ishq mein kyaa rakkhaa hai

غزل · Ghazal

گل زار میں جو دور گل لالہ رنگ ہو وہ بے حجابیاں ہوں کہ نرگس بھی دنگ ہو صیاد و باغباں میں بہت ہوتی ہے صلاح ایسا نہ ہو کہیں گل و بلبل میں جنگ ہو افسوس موت بھی نہیں آتی شب فراق وہ کیا کرے غریب جو جینے سے تنگ ہو کافی ہے بوریا ہی فقیروں کے واسطے معیوب ہے جو شیروں کے گھر میں پلنگ ہو لڑنے کو دل جو چاہے تو آنکھیں لڑائیے ہو جنگ بھی اگر تو مزے دار جنگ ہو جو دوست ہیں وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو کوئی مرے کسی کو خوشی ہو خدا کی شان ماتم کسی جگہ ہو کہیں ناچ رنگ ہو

gulzaar mein jo duur gul-e-laala-rang ho

غزل · Ghazal

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے کیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں اشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں کر دشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر رکھتے ہیں کیسے بے رحم ہیں صیاد الٰہی توبہ موسم گل میں مجھے کاٹ کے پر رکھتے ہیں کون ہیں ہم سے سوا ناز اٹھانے والے سامنے آئیں جو دل اور جگر رکھتے ہیں دل تو کیا چیز ہے پتھر ہو تو پانی ہو جائے میرے نالے ابھی اتنا تو اثر رکھتے ہیں چار دن کے لیے دنیا میں لڑائی کیسی وہ بھی کیا لوگ ہیں آپس میں شرر رکھتے ہیں حال دل یار کو محفل میں سناؤں کیوں کر مدعی کان ادھر اور ادھر رکھتے ہیں جلوۂ یار کسی کو نظر آتا کب ہے دیکھتے ہیں وہی اس کو جو نظر رکھتے ہیں عاشقوں پر ہے دکھانے کو عتاب اے جوہرؔ دل میں محبوب عنایت کی نظر رکھتے ہیں

raat din chain ham ai rashk-e-qamar rakhte hain

غزل · Ghazal

بت کدہ میں نہ تجھے کعبے کے اندر پایا دونوں عالم سے جدا ہم نے ترا گھر پایا یوں تو دنیا میں قیامت کے پری رو دیکھے سب سے بڑھ کر تجھے اے فتنۂ محشر پایا اپنی اپنی ہے یہ تقدیر سبھی تھے سائل ایک کو شیشہ ملا ایک نے پتھر پایا بے خودی نے مجھے دیدار دکھایا تیرا تجھ کو پایا تو مگر آپ کو کھو کر پایا چشمۂ فیض ہے کیا ذات مرے ساقی کی ایک قطرہ کو کہا جس نے سمندر پایا خوش نصیب آپ بھی دنیا میں ہیں کیا اے جوہرؔ منتظر یار کو پہلے ہی سے در پر پایا

but-kade mein na tujhe kaabe ke andar paayaa

غزل · Ghazal

حرم میں مدتوں ڈھونڈا شوالوں میں پھرا برسوں تلاش یار میں بھٹکا کیا میں بارہا برسوں مہینوں ہاتھ جوڑے کی خوشامد بارہا برسوں انہیں جھگڑوں میں مجھ کو ہو گئے اے بے وفا برسوں معاذ اللہ اس آزردگی کا کیا ٹھکانہ ہے جو پوچھا یار سے کب تک نہ بولو گے کہا برسوں غنیمت جان جو دن زندگی کے عیش میں گزریں کسی کا بھی نہیں رہتا زمانہ ایک سا برسوں وہی خون شہید ناز اب برباد ہوتا ہے رہا بن کر جو تیرے ہاتھ میں رنگ حنا برسوں ہماری بے قراری کا ذرا تم کو نہ دھیان آیا مہینوں منتظر رکھا دکھایا راستا برسوں زمانے میں ہمیشہ ہر مہینے چاند ہوتا ہے ترا جلوہ نظر آتا نہیں اے مہ لقا برسوں وہیں پر لے چلی بے تابئ دل واہ ری قسمت پھرا کی سر پٹکتی جس جگہ میری دعا برسوں ادا ہو شکر کیوں کر بے کسی و نا امیدی کا رہی ہیں ساتھ فرقت میں یہی دو آشنا برسوں نہ آیا ایک دن بھی وہ بت بے رحم اے جوہرؔ اٹھا کر ہاتھ کعبے کی طرف مانگی دعا برسوں

haram mein muddaton DhunDaa shivaalon mein phiraa barson

غزل · Ghazal

آؤ بیٹھو ہنسو مزا ہو کچھ تو فرماؤ کیوں خفا ہو لو شمع کی بجھنے کو ہے اے گل محفل میں نہ کوئی دل جلا ہو دل کا دکھنا اسی سے کہیے جو درد کی قدر جانتا ہو شیشہ تلووں میں چبھ نہ جائے ٹھکراتے ہو دل کو کج کلاہو بہکی بہکی ہوں اس کی باتیں ساقی ساقی پکارتا ہو اجلی اجلی سی چاندنی میں گورا گورا بدن کھلا ہو

aao baiTho hanso mazaa ho

Similar Poets