SHAWORDS
Mahender Kumar Sani

Mahender Kumar Sani

Mahender Kumar Sani

Mahender Kumar Sani

poet
17Shayari
84Ghazal

Popular Shayari

17 total

Ghazalغزل

See all 84
غزل · Ghazal

حال سپردگی میں بھی دل کو ملال سا رہا تیرے خیال میں بھی کچھ اپنا خیال سا رہا مجھ کو تو کچھ غرض نہ تھی تیرے جواب سے مگر اس دل بے ایمان کے جی میں سوال سا رہا تو نے مجھے چھوا تھا کیا جانے وہ معجزہ تھا کیا ہجر کی ساعتوں میں بھی مجھ کو وصال سا رہا کتنی مسافتوں کے بعد طے ہوئی تھی وہ راہ یاد اتنے قریب آ کے بھی شیشہ میں بال سا رہا وہم و گماں یقین و حق دل کے مقام تھے سبھی حال جو دل کا تھا وہی اپنا بھی حال سا رہا راس نہ آیا حسب حال ہم کو تو تیرا بھی وصال کیسا بھی تھا جہاں کا حال جی کو وبال سا رہا

haal-e-supurdagi mein bhi dil ko malaal saa rahaa

غزل · Ghazal

دنیا تو خاموشی سے ہے دنیاداری میں مشغول اور یہ اہل فن ہیں جانے کس غفلت کے مارے دیکھ کیسے اک دل کا سچ سب کی سچائی ہو سکتا ہے سیدھے سادے لوگوں پر چلتے ہوئے جھوٹ کے آرے دیکھ اپنی چمک کے دھوکے سے باہر آ جانے کا یہ جتن روشنیوں کے شہر سے رخصت کرتے ہوئے ستارے دیکھ ہونی کے اس ٹھہرے پن میں آخر متحرک ہے کون دریا اپنے اندر جامد بہتے ہوئے کنارے دیکھ ثانیؔ تو جس مستقبل کے خواب میں راکھ ہوا جائے اس کو تیرے ماضی کے لے ڈوبے ہیں اندھیارے دیکھ

duniyaa to khaamoshi se hai duniyaa-daari mein mashghul

غزل · Ghazal

اپنی سب عمر لگا خود کو کماتے ہوئے ہم اور لمحوں میں کمائی کو گنواتے ہوئے ہم خواب تھا اپنا کہ سب ہم کو میسر ہو جائے اب اسی رنج میں ہیں آنکھ چراتے ہوئے ہم اک عجب نیند کے عالم میں گزرتی ہوئی عمر خود کو آواز پہ آواز لگاتے ہوئے ہم روکنے سے بھی تو رکتا نہیں دریائے حیات سو اسی دھارے میں اب خود کو بہاتے ہوئے ہم آدمیت سے بہت دور نکل آئے ہیں زندگی تیری روایات نبھاتے ہوئے ہم قبر اور شہر میں کچھ فرق نہیں ہے ثانیؔ بس یہی روز کہیں صبح کو جاتے ہوئے ہم

apni sab 'umr lagaa khud ko kamaate hue ham

غزل · Ghazal

ملے ہوئے ہیں اک مدت سے خود کو کھو کر دیکھیں بھی اپنے ہی دل میں دوبارہ اپنی خواہش بو کر دیکھیں بھی اپنے پیراہن کی سج دھج میں ہم بھولے گرد کی مار اندر اندر اتر گئی ہے میل اسے دھو کر دیکھیں بھی اپنی صداقت کو منوانا بھی تو جبر پہ ہے اصرار دوسرے کی سچائی کے سامنے جھوٹا ہو کر دیکھیں بھی یہ وحدت کس کام کی جس میں دونوں کے نام و نشاں نہ رہیں آؤ ہم اک دوسرے کو اب ایک سے دو کر دیکھیں بھی رونے والا جانتا ہے کیا ہنسنا ہے کیا رونا ہے پھر بھی کسی کے دکھ میں ثانیؔ آنکھ بھگو کر دیکھیں بھی

mile hue hain ik muddat se khud ko kho kar dekhein bhi

غزل · Ghazal

گم شدہ راستوں کے مسافر اتنی دشواریاں کس کی خاطر اپنی گم گشتگی میں تو موجود گم ہوا ہوں میں ہو کر بھی حاضر تیرے ہونے سے ہے کس کو انکار میرے ہونے سے ہیں سب ہی منکر ہم درختوں سے کترا کے گزرے اے ہوا تو ہوئی کب سے جابر رات رو رو کے تاروں سے پوچھے کیا ہوا میرے سورج کو آخر تو مرا آئنہ ہو نہ پایا میں نہیں ہو سکا خود پے ظاہر

gum-shuda raaston ke musaafir

غزل · Ghazal

یہ خاموشی مرے کمرے میں کس آواز کی ہے کہیں یوں تو نہیں تو بات کرنا چاہتی ہے وہ کیا شئے ہے جسے میں ڈھونڈھتا ہوں خود سے باہر یہیں گھر میں کہیں اک شئے بھلا رکھی ہوئی ہے میں تنہائی کو اپنا ہم سفر کیا مان بیٹھا مجھے لگتا ہے میرے ساتھ دنیا چل رھی ہے کبھی دیوار لگتی ہے مجھے یہ ساری وسعت کبھی دیکھوں اسی دیوار میں کھڑکی کھلی ہے اترتے جا رہے ہیں رنگ دیواروں سے ثانیؔ یہ پرچھائیں سی کیا شئے ہے جو ان پر رینگتی ہے

ye khaamoshi mire kamre mein kis aavaaz ki hai

Similar Poets