yaqinan sochtaa hogaa vo mujh ko
use main ne abhi sochaa nahin hai

Mahender Kumar Sani
Mahender Kumar Sani
Mahender Kumar Sani
Popular Shayari
17 totalmain chaahtaa huun ki teri taraf na dekhun main
miri nazar ko magar tu ne baandh rakkhaa hai
use main duur hi se dekhtaa rahaa 'saani'
jo aaj paani mein utraa huun to khulaa dariyaa
jaane kaisi raushni thi kar gai andhaa mujhe
is bhayaanak tirgi mein bhi bujhaa rahtaa huun main
tiraa vajud tire raaste mein haail hai
yahin se ho ke miraa qaafila guzartaa hai
divaar o dar ne rangon se daaman chhuDaa liyaa
yak-rangi-e-sukut se kyuun ghar niDhaal hai
isi duniyaa mein hai vo dusri duniyaa 'saani'
log jis ke liye jangal ki taraf jaate hain
ho rahaa huun tire dukh mein tahlil
apne har dard se kaTtaa jaaun
main din ko shab se bhalaa kyuun alag karun saani
ye tirgi bhi to ik raushni kaa hissa hai
kahaan aap ko bhi gavaaraa thaa main
nahin jis ghaDi tak tumhaaraa thaa main
main apni yaatraa par jaa rahaa huun
mujhe ab lauT kar aanaa nahin hai
darakht-e-zard mein jaise haraa saa rahtaa hai
vo Thiik usi tarah mujhi mein bharaa saa rahtaa hai
Ghazalغزل
حال سپردگی میں بھی دل کو ملال سا رہا تیرے خیال میں بھی کچھ اپنا خیال سا رہا مجھ کو تو کچھ غرض نہ تھی تیرے جواب سے مگر اس دل بے ایمان کے جی میں سوال سا رہا تو نے مجھے چھوا تھا کیا جانے وہ معجزہ تھا کیا ہجر کی ساعتوں میں بھی مجھ کو وصال سا رہا کتنی مسافتوں کے بعد طے ہوئی تھی وہ راہ یاد اتنے قریب آ کے بھی شیشہ میں بال سا رہا وہم و گماں یقین و حق دل کے مقام تھے سبھی حال جو دل کا تھا وہی اپنا بھی حال سا رہا راس نہ آیا حسب حال ہم کو تو تیرا بھی وصال کیسا بھی تھا جہاں کا حال جی کو وبال سا رہا
haal-e-supurdagi mein bhi dil ko malaal saa rahaa
دنیا تو خاموشی سے ہے دنیاداری میں مشغول اور یہ اہل فن ہیں جانے کس غفلت کے مارے دیکھ کیسے اک دل کا سچ سب کی سچائی ہو سکتا ہے سیدھے سادے لوگوں پر چلتے ہوئے جھوٹ کے آرے دیکھ اپنی چمک کے دھوکے سے باہر آ جانے کا یہ جتن روشنیوں کے شہر سے رخصت کرتے ہوئے ستارے دیکھ ہونی کے اس ٹھہرے پن میں آخر متحرک ہے کون دریا اپنے اندر جامد بہتے ہوئے کنارے دیکھ ثانیؔ تو جس مستقبل کے خواب میں راکھ ہوا جائے اس کو تیرے ماضی کے لے ڈوبے ہیں اندھیارے دیکھ
duniyaa to khaamoshi se hai duniyaa-daari mein mashghul
اپنی سب عمر لگا خود کو کماتے ہوئے ہم اور لمحوں میں کمائی کو گنواتے ہوئے ہم خواب تھا اپنا کہ سب ہم کو میسر ہو جائے اب اسی رنج میں ہیں آنکھ چراتے ہوئے ہم اک عجب نیند کے عالم میں گزرتی ہوئی عمر خود کو آواز پہ آواز لگاتے ہوئے ہم روکنے سے بھی تو رکتا نہیں دریائے حیات سو اسی دھارے میں اب خود کو بہاتے ہوئے ہم آدمیت سے بہت دور نکل آئے ہیں زندگی تیری روایات نبھاتے ہوئے ہم قبر اور شہر میں کچھ فرق نہیں ہے ثانیؔ بس یہی روز کہیں صبح کو جاتے ہوئے ہم
apni sab 'umr lagaa khud ko kamaate hue ham
ملے ہوئے ہیں اک مدت سے خود کو کھو کر دیکھیں بھی اپنے ہی دل میں دوبارہ اپنی خواہش بو کر دیکھیں بھی اپنے پیراہن کی سج دھج میں ہم بھولے گرد کی مار اندر اندر اتر گئی ہے میل اسے دھو کر دیکھیں بھی اپنی صداقت کو منوانا بھی تو جبر پہ ہے اصرار دوسرے کی سچائی کے سامنے جھوٹا ہو کر دیکھیں بھی یہ وحدت کس کام کی جس میں دونوں کے نام و نشاں نہ رہیں آؤ ہم اک دوسرے کو اب ایک سے دو کر دیکھیں بھی رونے والا جانتا ہے کیا ہنسنا ہے کیا رونا ہے پھر بھی کسی کے دکھ میں ثانیؔ آنکھ بھگو کر دیکھیں بھی
mile hue hain ik muddat se khud ko kho kar dekhein bhi
گم شدہ راستوں کے مسافر اتنی دشواریاں کس کی خاطر اپنی گم گشتگی میں تو موجود گم ہوا ہوں میں ہو کر بھی حاضر تیرے ہونے سے ہے کس کو انکار میرے ہونے سے ہیں سب ہی منکر ہم درختوں سے کترا کے گزرے اے ہوا تو ہوئی کب سے جابر رات رو رو کے تاروں سے پوچھے کیا ہوا میرے سورج کو آخر تو مرا آئنہ ہو نہ پایا میں نہیں ہو سکا خود پے ظاہر
gum-shuda raaston ke musaafir
یہ خاموشی مرے کمرے میں کس آواز کی ہے کہیں یوں تو نہیں تو بات کرنا چاہتی ہے وہ کیا شئے ہے جسے میں ڈھونڈھتا ہوں خود سے باہر یہیں گھر میں کہیں اک شئے بھلا رکھی ہوئی ہے میں تنہائی کو اپنا ہم سفر کیا مان بیٹھا مجھے لگتا ہے میرے ساتھ دنیا چل رھی ہے کبھی دیوار لگتی ہے مجھے یہ ساری وسعت کبھی دیکھوں اسی دیوار میں کھڑکی کھلی ہے اترتے جا رہے ہیں رنگ دیواروں سے ثانیؔ یہ پرچھائیں سی کیا شئے ہے جو ان پر رینگتی ہے
ye khaamoshi mire kamre mein kis aavaaz ki hai





