"main itni raushni phaila chuka huun ki bujh bhi ja.un to ab gham nahin hai"

Mahshar Badayuni
Mahshar Badayuni
Mahshar Badayuni
Sherشعر
See all 7 →main itni raushni phaila chuka huun
میں اتنی روشنی پھیلا چکا ہوں کہ بجھ بھی جاؤں تو اب غم نہیں ہے
ab hava.en hi karengi raushni ka faisla
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
ham ko bhi khush-numa nazar aa.i hai zindagi
ہم کو بھی خوش نما نظر آئی ہے زندگی جیسے سراب دور سے دریا دکھائی دے
jis ke liye bachcha roya tha aur ponchhe the aansu baaba ne
جس کے لئے بچہ رویا تھا اور پونچھے تھے آنسو بابا نے وہ بچہ اب بھی زندہ ہے وہ مہنگا کھلونا ٹوٹ گیا
har patti bojhal ho ke giri sab shakhen jhuk kar TuuT ga.iin
ہر پتی بوجھل ہو کے گری سب شاخیں جھک کر ٹوٹ گئیں اس بارش ہی سے فصل اجڑی جس بارش سے تیار ہوئی
abhi sar ka lahu thamne na paaya
ابھی سر کا لہو تھمنے نہ پایا ادھر سے ایک پتھر اور آیا
Popular Sher & Shayari
14 total"ab hava.en hi karengi raushni ka faisla jis diye men jaan hogi vo diya rah ja.ega"
"ham ko bhi khush-numa nazar aa.i hai zindagi jaise sarab duur se dariya dikha.i de"
"jis ke liye bachcha roya tha aur ponchhe the aansu baaba ne vo bachcha ab bhi zinda hai vo mahnga khilauna TuuT gaya"
"har patti bojhal ho ke giri sab shakhen jhuk kar TuuT ga.iin us barish hi se fasl ujDi jis barish se tayyar hui"
"abhi sar ka lahu thamne na paaya udhar se ek patthar aur aaya"
ham ko bhi khush-numaa nazar aai hai zindagi
jaise saraab duur se dariyaa dikhaai de
ab havaaein hi kareingi raushni kaa faisla
jis diye mein jaan hogi vo diyaa rah jaaegaa
jis ke liye bachcha royaa thaa aur ponchhe the aansu baabaa ne
vo bachcha ab bhi zinda hai vo mahngaa khilaunaa TuuT gayaa
har patti bojhal ho ke giri sab shaakhein jhuk kar TuuT gaiin
us baarish hi se fasl ujDi jis baarish se tayyaar hui
abhi sar kaa lahu thamne na paayaa
udhar se ek patthar aur aayaa
kare dariyaa na pul mismaar mere
abhi kuchh log hain us paar mere
Ghazalغزل
kahin sahraa mein jo dariyaa dekhein
کہیں صحرا میں جو دریا دیکھیں ہم بھی آئینے میں چہرا دیکھیں ہم محبت کے لئے خاک اڑائیں لوگ گلیوں میں تماشا دیکھیں صبر آ جائے اگر اپنا یہ حال جن کی خاطر ہے وہ تنہا دیکھیں بند آنکھوں میں بڑی وسعت ہے بند آنکھوں ہی سے دنیا دیکھیں گھر ہے موسم سے بچانا مشکل جانب ابر و ہوا کیا دیکھیں اتنی دیوار گلستاں نہ بڑھاؤ کہ بیاباں مرا رستا دیکھیں اب یہی شکل تمنا ہے کہ ہم عمر بھر خواب تمنا دیکھیں ہم بشر ہیں نہ کہ صحرا کے شجر جو سدا اپنا ہی سایا دیکھیں
hamaare haath the suraj nae jahaanon ke
ہمارے ہاتھ تھے سورج نئے جہانوں کے سو اب زمینوں کے ہم ہیں نہ آسمانوں کے ہزار گرد لگا لیں قد آور آئینے حسب نسب بھی تو ہوتے ہیں خاندانوں کے حروف بیں تو سبھی ہیں مگر کسے یہ شعور کتاب پڑھتی ہے چہرے کتاب خوانوں کے یہ کیا ضرور کہ ناموں کے ہم مزاج ہوں لوگ بہار اور خزاں نام ہیں زمانوں کے وہ چاہے آ کے نہ باہر کسی سے بات کریں خبر مکینوں کی دیتے ہیں در مکانوں کے ہماری قدر کو سمجھے یہ عصر ناقدراں ہم اہل فن ہیں کھلونے نہیں دکانوں کے اب ایسی شورش بازار مدح میں محشرؔ خموش لہجے غنیمت ہیں قدر دانوں کے
taair ke liye din raat kaa Dar
طائر کے لیے دن رات کا ڈر دہلیز پہ رزق اور طاق میں گھر سب روزن زنداں بند ہوئے یا کچھ نہ رہا زنداں سے ادھر باہر یہ قدم نکلیں تو کھلے زنجیر مدد کرتی ہے کہ در مقتل کی زمیں سے پھول اگیں جاتا ہے کہیں مٹی کا اثر نیند آتی ہے اس کے سائے میں گر جائے یہ دیوار اگر ہم سوگ ہیں جاگے سپنوں کا اے رات ہمیں محسوس نہ کر جلووں سے بہت نزدیک ہو تم اے بو الہوسو دامن پہ نظر ہے اپنا قیام اس عالم میں شبنم کا بسیرا کانٹے پر یا صرف ڈگر تھی وقت نہ تھا اب صرف ہے وقت کا نام ڈگر کچھ اپنی پیاسیں بجھ بھی گئیں کچھ قرض ہیں دریا نوشوں پر
thaa main aakhir usi mausam ki fazaa mein pahle
تھا میں آخر اسی موسم کی فضا میں پہلے اس قدر سوز نہ تھا میری نوا میں پہلے ہے اگر اس کی یہ حسرت کہ اسے سب دیکھیں شاہد چرخ ہو روپوش گھٹا میں پہلے خاک پوشوں کے بدن دیر میں لو دیتے ہیں آگ لگتی ہے کسی نرم قبا میں پہلے ہونٹ سینا بھی ہے اب فرض چلو یہ بھی سہی ایسی شرطیں نہ تھیں آداب وفا میں پہلے اہل فن اس کو نہ بھولیں کہ دل و جاں کی تپش حرف میں بعد کو آتی ہے صدا میں پہلے میرے عرصہ گہہ تقدیر میں آنے والو دن گزارو کسی آشوب سرا میں پہلے میرے صحرا میں تم آئے تو ہو نازک نفسو سانس بھی لی ہے کبھی ایسی ہوا میں پہلے
aise ghurbat mein baiThaa huun jaise baDaa baar-e-sar rakh diyaa
ایسے غربت میں بیٹھا ہوں جیسے بڑا بار سر رکھ دیا ایک صحن ایک در ایک دیوار کا نام گھر رکھ دیا اس ہنر پر جو تم اس قدر نکتہ چیں ہو تو میں کیا کہوں میرے مالک نے کیوں مجھ میں سچائیوں کا ہنر رکھ دیا میں نے شاخیں تراشیں بلندئ نشو و نما کے لیے تم کو تیشہ ملا تم نے تو کاٹ کر ہی شجر رکھ دیا تیز تر باد خود سر چلی تو یہاں کون سی لو گھٹی میں نے اور اک لہو سے جلا کر دیا بام پر رکھ دیا میرا حصہ تھا کیا دکھ شناسائی کے زخم رسوائی کے وقت کے روبرو میں نے سارا حساب سفر رکھ دیا کتنے نادار دل تم نے ٹھکرا دیئے یہ نہ سوچا کبھی اس محبت نے تو پائے افلاس پر تاج زر رکھ دیا میں نے تو اپنا خود ہی لکھا فیصلہ لوگ ایسے بھی تھے منصفی کے لیے پائے نا منصفی پر بھی سر رکھ دیا
haar kar jang ham nahin aae
ہار کر جنگ ہم نہیں آئے تیر ادھر سے بھی کم نہیں آئے غم شناسوں کو آئے سب ہی کمال بس خیال کرم نہیں آئے اپنی شہرت ہے اس گلی میں بہت ہم پہ الزام کم نہیں آئے رہا پھیکا ہی رنگ بزم اگر بزم میں اہل غم نہیں آئے





