SHAWORDS
Mahshar Badayuni

Mahshar Badayuni

Mahshar Badayuni

Mahshar Badayuni

poet
7Sher
7Shayari
59Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 59
غزل · Ghazal

kahin sahraa mein jo dariyaa dekhein

کہیں صحرا میں جو دریا دیکھیں ہم بھی آئینے میں چہرا دیکھیں ہم محبت کے لئے خاک اڑائیں لوگ گلیوں میں تماشا دیکھیں صبر آ جائے اگر اپنا یہ حال جن کی خاطر ہے وہ تنہا دیکھیں بند آنکھوں میں بڑی وسعت ہے بند آنکھوں ہی سے دنیا دیکھیں گھر ہے موسم سے بچانا مشکل جانب ابر و ہوا کیا دیکھیں اتنی دیوار گلستاں نہ بڑھاؤ کہ بیاباں مرا رستا دیکھیں اب یہی شکل تمنا ہے کہ ہم عمر بھر خواب تمنا دیکھیں ہم بشر ہیں نہ کہ صحرا کے شجر جو سدا اپنا ہی سایا دیکھیں

غزل · Ghazal

hamaare haath the suraj nae jahaanon ke

ہمارے ہاتھ تھے سورج نئے جہانوں کے سو اب زمینوں کے ہم ہیں نہ آسمانوں کے ہزار گرد لگا لیں قد آور آئینے حسب نسب بھی تو ہوتے ہیں خاندانوں کے حروف بیں تو سبھی ہیں مگر کسے یہ شعور کتاب پڑھتی ہے چہرے کتاب خوانوں کے یہ کیا ضرور کہ ناموں کے ہم مزاج ہوں لوگ بہار اور خزاں نام ہیں زمانوں کے وہ چاہے آ کے نہ باہر کسی سے بات کریں خبر مکینوں کی دیتے ہیں در مکانوں کے ہماری قدر کو سمجھے یہ عصر ناقدراں ہم اہل فن ہیں کھلونے نہیں دکانوں کے اب ایسی شورش بازار مدح میں محشرؔ خموش لہجے غنیمت ہیں قدر دانوں کے

غزل · Ghazal

taair ke liye din raat kaa Dar

طائر کے لیے دن رات کا ڈر دہلیز پہ رزق اور طاق میں گھر سب روزن زنداں بند ہوئے یا کچھ نہ رہا زنداں سے ادھر باہر یہ قدم نکلیں تو کھلے زنجیر مدد کرتی ہے کہ در مقتل کی زمیں سے پھول اگیں جاتا ہے کہیں مٹی کا اثر نیند آتی ہے اس کے سائے میں گر جائے یہ دیوار اگر ہم سوگ ہیں جاگے سپنوں کا اے رات ہمیں محسوس نہ کر جلووں سے بہت نزدیک ہو تم اے بو الہوسو دامن پہ نظر ہے اپنا قیام اس عالم میں شبنم کا بسیرا کانٹے پر یا صرف ڈگر تھی وقت نہ تھا اب صرف ہے وقت کا نام ڈگر کچھ اپنی پیاسیں بجھ بھی گئیں کچھ قرض ہیں دریا نوشوں پر

غزل · Ghazal

thaa main aakhir usi mausam ki fazaa mein pahle

تھا میں آخر اسی موسم کی فضا میں پہلے اس قدر سوز نہ تھا میری نوا میں پہلے ہے اگر اس کی یہ حسرت کہ اسے سب دیکھیں شاہد چرخ ہو روپوش گھٹا میں پہلے خاک پوشوں کے بدن دیر میں لو دیتے ہیں آگ لگتی ہے کسی نرم قبا میں پہلے ہونٹ سینا بھی ہے اب فرض چلو یہ بھی سہی ایسی شرطیں نہ تھیں آداب وفا میں پہلے اہل فن اس کو نہ بھولیں کہ دل و جاں کی تپش حرف میں بعد کو آتی ہے صدا میں پہلے میرے عرصہ گہہ تقدیر میں آنے والو دن گزارو کسی آشوب سرا میں پہلے میرے صحرا میں تم آئے تو ہو نازک نفسو سانس بھی لی ہے کبھی ایسی ہوا میں پہلے

غزل · Ghazal

aise ghurbat mein baiThaa huun jaise baDaa baar-e-sar rakh diyaa

ایسے غربت میں بیٹھا ہوں جیسے بڑا بار سر رکھ دیا ایک صحن ایک در ایک دیوار کا نام گھر رکھ دیا اس ہنر پر جو تم اس قدر نکتہ چیں ہو تو میں کیا کہوں میرے مالک نے کیوں مجھ میں سچائیوں کا ہنر رکھ دیا میں نے شاخیں تراشیں بلندئ نشو و نما کے لیے تم کو تیشہ ملا تم نے تو کاٹ کر ہی شجر رکھ دیا تیز تر باد خود سر چلی تو یہاں کون سی لو گھٹی میں نے اور اک لہو سے جلا کر دیا بام پر رکھ دیا میرا حصہ تھا کیا دکھ شناسائی کے زخم رسوائی کے وقت کے روبرو میں نے سارا حساب سفر رکھ دیا کتنے نادار دل تم نے ٹھکرا دیئے یہ نہ سوچا کبھی اس محبت نے تو پائے افلاس پر تاج زر رکھ دیا میں نے تو اپنا خود ہی لکھا فیصلہ لوگ ایسے بھی تھے منصفی کے لیے پائے نا منصفی پر بھی سر رکھ دیا

غزل · Ghazal

haar kar jang ham nahin aae

ہار کر جنگ ہم نہیں آئے تیر ادھر سے بھی کم نہیں آئے غم شناسوں کو آئے سب ہی کمال بس خیال کرم نہیں آئے اپنی شہرت ہے اس گلی میں بہت ہم پہ الزام کم نہیں آئے رہا پھیکا ہی رنگ بزم اگر بزم میں اہل غم نہیں آئے

Similar Poets