SHAWORDS
Maroof Dehlvi

Maroof Dehlvi

Maroof Dehlvi

Maroof Dehlvi

poet
17Shayari
20Ghazal

Popular Shayari

17 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

وہ نگہ دل پہ پڑی داغ جگر کے ہوتے دکھائی تلوار صدا افسوس سپر کے ہوتے کعبہ و دیر کو اپنا تو یہیں سے ہے سلام در بدر کون پھرے یار کے در کے ہوتے تیری آنکھوں کے تصور میں ہے سیر کونین ورنہ ہم لوگ ادھر کے نہ ادھر کے ہوتے ہم کو معروفؔ اگر شیر سواری دیتا تو بھی پابوس سگ یار اتر کے ہوتے

vo nigah dil pe paDi daagh jigar ke hote

غزل · Ghazal

فلک کے ہاتھوں جدھر منہ اٹھائے جاتا ہوں ادھر سے جوں گل بازی طپانچہ کھاتا ہوں کبھی ہے آنکھوں میں زر دیدہ پہ نگہ ان کی کہ میں ہر ایک سے آنکھ اپنی اب چراتا ہوں ہوا کے گھوڑے پہ جب وہ سوار ہوتے ہیں تو پا کے وقت میں کیا کیا مزے اڑاتا ہوں خلافی ان کے وہ آنکھیں جو یاد آتی ہیں تو اپنی آنکھوں کو رو رو کے میں سجاتا ہوں بلا سے گر نہیں ملتے وہ مجھ سے پر معروفؔ انہوں کا شہر میں عاشق تو میں کہاتا ہوں

falak ke haathon jidhar munh uThaae jaataa huun

غزل · Ghazal

شکل عکس و آئنہ مسجد تھی یا مے خانہ تھا آپ تو مہمان تھا اور آپ صاحب خانہ تھا کس کو جرأت تھی جو کرتا تیری آرائش گری صورت شمشاد تو خود زلف تھا خوش شانہ تھا حسن سے تیرے ہوا ہے عشق کا بازار گرم تو اگر جلوہ نہ کرتا ہم کو بھی سودا نہ تھا تھی سحر معروفؔ شاخ سرو گل خم جا بہ جا ہر کف خاک چمن گویا عبادت خانہ تھا

shakl-e-aks-o-aaina masjid thi yaa mai-khaana thaa

غزل · Ghazal

بس ہی ہمیں یک نظر مثل شرر دیکھنا کس کو ملے با نصیب بار دگر دیکھنا آئینہ ساں کیا غرض ہم کو بد و نیک سے سامنے جو آ گیا ایک نظر دیکھنا اور تو باتیں بری چھٹ گئیں سب جیتے جی آنکھ مندے پر چھٹا ایک مگر دیکھنا سر کو اٹھ کر ذرا دیکھیے میری طرف آ کے ادھر بیٹھنا اور ادھر دیکھنا دیکھیے ؔمعروف اب کیوں کہ دل و دیں رہے اس بت کافر کا ہے یہ ہی اگر دیکھنا

bas hi hamein yak nazar misl-e-sharar dekhnaa

غزل · Ghazal

آہ وہ کون تھا خدا مارا جس نے اس سے مجھے لگا مارا کیا غضب تھی وہ جنبش ابرو صاف جیسے کہ نیمچا مارا بعد مدت ملے تھے کل ان سے آج لوگوں نے پھر لگا مارا وصل کی شب بھی میں نہ سویا آہ روز ہجر ان کے خوف کا مارا پا کے مرضی کھلا جو باتوں میں یہ ہنسایا کہ بس لٹا مارا جنس‌ صبر و خرد لٹے معروفؔ ملک دل فوج غم نے آ مارا

aah vo kaun thaa khudaa maaraa

غزل · Ghazal

پوچھو نہ کچھ کٹے ہے اب اوقات کس طرح ہے یہ ہی غم کہ آئیں گے وہ ہات کس طرح معروفؔ سے یہ میں نے جو پوچھا کہ ان دنوں بتلا ترے گزرتے ہے اوقات کس طرح کہنے لگا کہ روتے گزرتا ہے مجھ کو دن پھر میں کہا کہ دن تو ہوا رات کس طرح بولا کہ رات وقت ملاقات یار ہے پوچھا جو میں کہ شکل ملاقات کس طرح بولا کہ ہم کو ایک مناجات یاد ہے میں نے کہا سنیں وہ مناجات کس طرح بے اختیار رو کے کہا دل لگا کہیں کہنے کی بات ہے یہ کہوں بات کس طرح

puchho na kuchh kaTe hai ab auqaat kis tarah

Similar Poets