SHAWORDS
Maulana Mohammad Ali Jauhar

Maulana Mohammad Ali Jauhar

Maulana Mohammad Ali Jauhar

Maulana Mohammad Ali Jauhar

poet
10Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

ہرگز نہ ہو اے دل غم جاناں کی شکایت کرتا ہے بھلا کوئی بھی مہماں کی شکایت آزاد تھے کب قید غم عشق سے ہم کو زنجیر کا شکوہ ہے نہ زنداں کی شکایت وہ یہ نہ کہیں گے کہ تمہیں موت نہ آئی کس منہ سے کریں ہم شب ہجراں کی شکایت مشکور جنوں آپ ہیں وحشی ترے ان کو محمل کا گلا ہے نہ بیاباں کی شکایت گو صبر قیامت کا ہے درکار پر اے دل یاں کفر ہے اس دشمن ایماں کی شکایت شرمندہ کفن نے کیا اس درجہ کہ تا حشر اب جیب کا شکوہ ہے نہ داماں کی شکایت تھا ان کے تصور میں بھی اک وصل کا عالم ہو سکتی ہے پھر کیا شب ہجراں کی شکایت کیوں فکر ہو کیا اپنے کبھی دن نہ پھریں گے بیکار ہے پھر گردش دوراں کی شکایت لڑتا ہے ہوا سے بھی کوئی لاکھ خفا ہو بے جا ہے تری زلف پریشاں کی شکایت ہیں عشق کے بیمار بھی دنیا سے نرالے ہے درد کے بدلے انہیں درماں کی شکایت ان سے نہ ستم کا نہ تغافل کا گلا ہے ہو جاتی ہے ہاں پاکیٔ داماں کی شکایت منظور نہیں جب انہیں خود جلوہ دکھانا کیوں کیجئے پھر حاجب و درباں کی شکایت تھا نذر ازل ہی سے دل اس جان جہاں کی کرتے رہو یوں ابرو و مژگاں کی شکایت مہماں دل جوہرؔ کا بلا اذن سدھارا پیکاں تو گیا رہ گئی پیکاں کی شکایت

hargiz na ho ai dil gham-e-jaanaan ki shikaayat

غزل · Ghazal

جنوں ہی سے مگر بالکل دل دیوانہ خالی ہے نہ مانوں گا اثر سے نعرۂ مستانہ خالی ہے مروت سے تری ہم بیکسوں کی شرم رہ جاتی بھری محفل میں ساقی اک یہی پیمانہ خالی ہے دلا ڈر ہے کہیں کعبہ پہنچ کر تو نہ کہہ بیٹھے کہ واپس چل یہاں سے اب تو یہ بت خانہ خالی ہے ہمیں ذوق اسیری چھوڑتا ہے کب گلستاں میں قفس میں جب تک اے صیاد کوئی خانہ خالی ہے یہ مانا ہم نے جوہرؔ شہر چھوڑا پر کہاں جائیں وہ تیرے دم سے تھا آباد اب ویرانہ خالی ہے

junun hi se magar bilkul dil-e-divaana khaali hai

غزل · Ghazal

خاک جینا ہے اگر موت سے ڈرنا ہے یہی ہوس زیست ہو اس درجہ تو مرنا ہے یہی قلزم عشق میں ہیں نفع و سلامت دونوں اس میں ڈوبے بھی تو کیا پار اترنا ہے یہی قید گیسو سے بھلا کون رہے گا آزاد تیری زلفوں کا جو شانوں پہ بکھرنا ہے یہی اے اجل تجھ سے بھی کیا خاک رہے گی امید وعدہ کر کے جو ترا روز مکرنا ہے یہی اور کس وضع کے جویا ہیں عروسان بہشت ہیں کفن سرخ شہیدوں کا سنورنا ہے یہی حد ہے پستی کی کہ پستی کو بلندی جانا اب بھی احساس ہو اس کا تو ابھرنا ہے یہی تجھ سے کیا صبح تلک ساتھ نبھے گا اے عمر شب فرقت کی جو گھڑیوں کا گزرنا ہے یہی ہو نہ مایوس کہ ہے فتح کی تقریب شکست قلب مومن کا مری جان نکھرنا ہے یہی نقد جاں نذر کرو سوچتے کیا ہو جوہرؔ کام کرنے کا یہی ہے تمہیں کرنا ہے یہی

khaak jiinaa hai agar maut se Darnaa hai yahi

غزل · Ghazal

تشنہ لب ہوں مدتوں سے دیکھیے کب در مے خانۂ کوثر کھلے طاقت پرواز ہی جب کھو چکی پھر ہوا کیا گر ہوا میں پر کھلے چاک کر سینہ کو پہلو چیر ڈال یوں ہی کچھ حال دل مضطر کھلے رات تلچھٹ تک نہ چھوڑی تب کہیں راز ہائے بادہ و ساغر کھلے لو وہ آ پہنچا جنوں کا قافلہ پاؤں زخمی خاک منہ پر سر کھلے ہوں جو کثرت ہی کے قائل ان پہ کیا راز فتح سبط پیغمبر کھلے رونمائی کے لیے لایا ہوں جاں اب تو شاید چہرۂ انور کھلے اب تو کشتی کے موافق ہے ہوا ناخدا کیا دیر ہے لنگر کھلے یہ نظر بندی تو نکلی رد سحر دیدہ ہائے ہوش اب جا کر کھلے اب کہیں ٹوٹا ہے باطل کا طلسم حق کے عقدے اب کہیں ہم پر کھلے اب ہوا ہے ماسوا کا پردہ فاش معرفت کے اب کہیں دفتر کھلے فیض سے تیرے ہی اے قید فرنگ بال و پر نکلے قفس کے در کھلے جیتے جی تو کچھ نہ دکھلایا مگر مر کے جوہرؔ آپ کے جوہر کھلے

tishna-lab huun muddaton se dekhiye

غزل · Ghazal

سوز دروں سے جل بجھو لیکن دھواں نہ ہو ہے درد دل کی شرط کہ لب پر فغاں نہ ہو پھر ہو رہا ہے شور صلائے نبرد عشق ہاں اے دہان زخم جواب الاماں نہ ہو بازار جاں فروش میں سودا نہ ہو یہ کیا گاہک ملے تو جنس تو یہ بھی گراں نہ ہو اس درد لا جواب کی کیونکر کروں دوا وہ حال دل نشیں بھی تو مجھ سے بیاں نہ ہو کیا فائدہ گر اس نے چھپایا بھی درد دل یہ کام جب بنے کہ مژہ خونچکاں نہ ہو کیا کیجے چن کے مائدۂ دل کو لخت لخت تیرا ہی تیر سینے میں جب مہماں نہ ہو خوف رقیب کا تو یہ عالم اور اس پہ عشق سب چاہتے ہیں چاہ کا ان پر گماں نہ ہو ہے وصل یار کی بھی تمنا کا حوصلہ ڈر یہ بھی ہے کہ طبع عدو پر گراں نہ ہو پہلو سے دل کو لے کے وہ کہتے ہیں ناز سے کیا آئیں گھر میں آپ ہی جب میزباں نہ ہو سنتے ہی جس کے خلق سے کہرام مچ گیا جوہرؔ وہ تیری ہی تو کہیں داستاں نہ ہو

soz-e-darun se jal-bujho lekin dhuaan na ho

غزل · Ghazal

خوگر جور پہ تھوڑی سی جفا اور سہی اس قدر ظلم پہ موقوف ہے کیا اور سہی خوف غماز عدالت کا خطر دار کا ڈر ہیں جہاں اتنے وہاں خوف خدا اور سہی عہد اول کو بھی اچھا ہے جو پورا کر دو تم وفادار ہو تھوڑی سی وفا اور سہی جس نے ہنگامہ عدالت کا تری دیکھا ہے اس گنہ گار کو اک روز جزا اور سہی کشور کفر میں کعبہ کو بھی شامل کر لو سیر ظلمات کو تھوڑی سی فضا اور سہی بندگی میں تری سہتے ہی ہیں لو کی لپٹیں چند دن کے لیے دوزخ کی ہوا اور سہی دین و دل جا ہی چکا جان بھی جاتی ہے تو جائے ترکش کفر میں اک تیر قضا اور سہی رب عزت کے لیے بھی کوئی رہنے دو خطاب تم خداوند ہی کہلاؤ خدا اور سہی حکم حاکم نہ سہی مرگ مفاجات سے کم مالک الملک پہ ایماں کی سزا اور سہی ہم وفا کیشوں کا ایماں بھی ہے پروانہ صفت شمع محفل جو وہ کافر نہ رہا اور سہی

khugar-e-jaur pe thoDi si jafaa aur sahi

Similar Poets