SHAWORDS
Meer Ahmad Naved

Meer Ahmad Naved

Meer Ahmad Naved

Meer Ahmad Naved

poet
13Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

13 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

سادہ ہے گرچہ لوح بصارت بحال رکھ شور قلم بہت ہے سماعت بحال رکھ زخم تلاش میں ہے نہاں مرہم دلیل تو اپنا دل نہ ہار محبت بحال رکھ نظارہ بے نظارہ ہوا ہے تو کیا ہوا حیرت کی تاب دید کی حسرت بحال رکھ بس میں تو خیر کچھ بھی نہیں ہے ترے مگر بچنا ہے یاسیت سے تو وحشت بحال رکھ مستی و ہوش و جذب و جلال و جنون و عشق اے میرے یار کوئی تو شدت بحال رکھ

saada hai garche lauh-e-basaarat bahaal rakh

غزل · Ghazal

یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے تھوڑی گزار لیں گے تھوڑا گزر گئی ہے یا موند لیں ہیں آنکھیں یا مند گئیں ہیں آنکھیں تجھ پر پس تماشا کیا کیا گزر گئی ہے ممکن نہیں ہے شاید دونوں کا ساتھ رہنا تیری خبر جب آئی اپنی خبر گئی ہے شور خزاں ہے گھر میں دیوار و بام و در میں در پر سواری کل آ کر ٹھہر گئی ہے معلوم ہی نہیں ہے کچھ فرق ہی نہیں ہے یہ دن گزر گیا ہے یا شب گزر گئی ہے ہر گل بدن کو تکنا آنکھوں سے چوم رکھنا دیوانگی ہماری حد سے گزر گئی ہے

ye umr-e-sad-balaa jo apne hi sar gai hai

غزل · Ghazal

خود سے گزرے تو قیامت سے گزر جائیں گے ہم یعنی ہر حال کی حالت سے گزر جائیں گے ہم عالم وسعت امکاں نظر آئے گا ہمیں یعنی ہر دوری و قربت سے گزر جائیں گے ہم ختم ہو جائے گی سب کشمکش حرف و عدد یعنی ہر منفی و مثبت سے گزر جائیں گے ہم نہ مکاں ہوگا وجود اور نہ زماں ہوگا عدم یعنی ہر تنگی و وسعت سے گزر جائیں گے ہم عالم ہو دل بینا کو نظر آئے گا حسرت و وحشت و حیرت سے گزر جائیں گے ہم

khud se guzre to qayaamat se guzar jaaeinge ham

غزل · Ghazal

آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا کیا بار بار ایک ہی صورت کو دیکھنا حاصل یہ ہے کہ ایک ہی ہے صفر کا حساب منفی کو دیکھنا کبھی مثبت کو دیکھنا اے وقت تو کہیں بھی کسی کا ہوا ہے کیا کیا تجھ کو دیکھنا تری ساعت کو دیکھنا دانشوران وقت ہوں جب محو گفتگو چپ رہ کے درمیاں مری وحشت کو دیکھنا پہلے تو کام دیکھنا میرا ورائے وقت پھر کام میں دبی ہوئی فرصت کو دیکھنا

aaine par jami hui hairat ko dekhnaa

غزل · Ghazal

اپنی زد پر تھے کھڑے ہم کو تو بچنا کیا تھا جو ہوا ٹھیک ہوا اور تو ہونا کیا تھا مرتے مرتے ہی مرے درد کی لذت کے حریص بے مداوا جو نہ مرتے تو مداوا کیا تھا اف وہ اطراف میں پھیلی ہوئی اشیا کا ہجوم ہائے اس شور میں اک دل کا دھڑکنا کیا تھا بے دلی ہائے نظارہ کہ مجھے یاد نہیں سرسری دیکھا تھا کیا اور نہ دیکھا کیا تھا رات اس بزم میں تصویر کے مانند تھے ہم ہم سے پوچھے تو کوئی شمع کا جلنا کیا تھا

apni zad par the khaDe ham ko to bachnaa kyaa thaa

غزل · Ghazal

کیوں سا رہتا ہے کیا سا رہتا ہے دل جو کھویا ہوا سا رہتا ہے ایک سناہٹے کا سینے میں بھاگنا دوڑنا سا رہتا ہے میں کہیں آؤں میں کہیں جاؤں وقت جیسے رکا سا رہتا ہے صبح کا دل کہیں نہیں لگتا شام کا دم گھٹا سا رہتا ہے دل کے آنے کا دل کے جانے کا ایک دھڑکا لگا سا رہتا ہے اے خلش بول کیا یہی ہے خدا یہ جو دل میں خلا سا رہتا ہے کن ہے درکار اس کے ہونے کو کام وہ جو ذرا سا رہتا ہے

kyuun saa rahtaa hai kyaa saa rahtaa hai

Similar Poets