SHAWORDS
Mohammad Ali Sahil

Mohammad Ali Sahil

Mohammad Ali Sahil

Mohammad Ali Sahil

poet
11Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

11 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

یہ درد کا ہے مسلسل جو سلسلہ کیوں ہے ٹھہر ٹھہر کے کوئی دل میں جھانکتا کیوں ہے نہیں ہے کوئی تعلق اگر مرا تجھ سے تو پھر یہ چہرا ترا زرد زرد سا کیوں ہے فریب کھا کے بھی وعدے پہ اعتبار کیا ثبوت پھر بھی وفا کا وہ مانگتا کیوں ہے اگر ہے جیتنا مقصد تو پھر بتائے کوئی وہ جان بوجھ کے بازی کو ہارتا کیوں ہے عجیب لوگ ہیں اس پر سوال کرتے ہیں کبھی تو سوچیں کہ آخر وہ غم زدہ کیوں ہے اگر ہے دور ترقی تو دور حاضر میں بتاؤ مجھ کو کہ ہر سمت کربلا کیوں ہے ہے خون ایک ہی جیسا رگوں میں جب ساحلؔ تو پھر یہ سوچ سبھی کی جدا جدا کیوں ہے

ye dard kaa hai musalsal jo silsila kyuun hai

1 views

غزل · Ghazal

راہ حق میں تجھے ہستی کو مٹانا ہوگا دیکھنا پھر تری ٹھوکر میں زمانہ ہوگا رونے والے تجھے ہنستے ہوئے پھولوں کی طرح ساری دنیا کو ہنر اپنا دکھانا ہوگا بے وفا ہو کے بھی تو اتنی مقدس کیوں ہے زندگی آج تجھے راز بتانا ہوگا وقت رخصت یہی کہتی تھیں برستی آنکھیں پاس میرے تجھے پھر لوٹ کے آنا ہوگا ایک چنگاری تعصب کی نظر آئی ہے دیکھنا یہ ہے کہاں اس کا نشانہ ہوگا اپنے ماضی کے ہر اک غم کو بھلا دے ورنہ چوٹ پھر ابھرے گی پھر درد پرانا ہوگا خامشی تیری مری جان لیے لیتی ہے اپنی تصویر سے باہر تجھے آنا ہوگا زندگی میں تجھے چلنا ہے سنبھل کر ساحلؔ راستے میں ترے کم ظرف زمانہ ہوگا

raah-e-haq mein tujhe hasti ko miTaanaa hogaa

1 views

غزل · Ghazal

مذاق غم اڑانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا کسی کا مسکرانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا کبھی نیندیں چرانا جن کی مجھ کو اچھا لگتا تھا نظر ان کا چرانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا جنہیں مجھ پر یقیں ہے میری چاہت پر بھروسہ ہے بھرم ان کا مٹانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا نشیمن میرے دل کا جب سے تنکا تنکا بکھرا ہے کوئی بھی آشیانہ اب مجھے اچھا نہیں لگتا محبت کرنے والوں نے جو چھوڑے ہیں زمانے میں نشاں ان کے مٹانا اب مجھے اچھا نہیں لگتا تری دنیا سے شاید بھر چکا ہے میرا دل ساحلؔ یہاں کا آب و دانہ اب مجھے اچھا نہیں لگتا

mazaaq-e-gham uDaanaa ab mujhe achchhaa nahin lagtaa

1 views

غزل · Ghazal

بزدلی تو وہ کر نہیں سکتا جو ہے سچا وہ ڈر نہیں سکتا جسم دنیا بھلے ہی دفنا دے پیار زندہ ہے مر نہیں سکتا بھوک میں صرف چاہیے روٹی پیٹ باتوں سے بھر نہیں سکتا جھوٹ چاہے بلند ہو کتنا سچ کے آگے ٹھہر نہیں سکتا آپ دیکھیں تو اس کا حسن بڑھے آئنہ خود سنور نہیں سکتا جو بھی ساحل کا ہے تماشائی پار دریا وہ کر نہیں سکتا

buz-dili to vo kar nahin saktaa

1 views

غزل · Ghazal

ایسا نہیں سلام کیا اور گزر گئے جب بھی ملے کسی سے تو دل میں اتر گئے ظلم و ستم کے آگے کبھی جو جھکے نہیں ان کے نصیب ان کے مقدر سنور گئے کردار بیچ دینے کا انجام یہ ہوا دل میں اترنے والے نظر سے اتر گئے کچھ کیفیت عجیب رہی اپنی دوستو کی دوستی کسی سے تو حد سے گزر گئے بچوں کی بھوک ماں کی دوا اور ہاتھ تنگ یہ مرحلے بھی ہم کو گنہ گار کر گئے کچھ زندگی تو مجھ سے مسائل نے چھین لی جو بچ گئی تھی حادثے برباد کر گئے ساحلؔ جب ان کو کوئی ٹھکانہ نہیں ملا غم ان کے سارے میرے ہی دل میں ٹھہر گئے

aisaa nahin salaam kiyaa aur guzar gae

غزل · Ghazal

تو اگر با اصول ہو جائے رحمتوں کا نزول ہو جائے پیار اتنا کرو کہ پتھر بھی ایسے پگھلے کہ پھول ہو جائے ان سے ملنے میں ڈر یہ لگتا ہے کوئی ہم سے نہ بھول ہو جائے آئنہ آئنہ ہی رہتا ہے چاہے جتنی بھی دھول ہو جائے غم نہ ہو زندگی اگر تجھ میں تیرا ہونا فضول ہو جائے دل سے توبہ کرے اگر ساحلؔ تیری توبہ قبول ہو جائے

tu agar baa-usul ho jaae

Similar Poets