mujh ko miTTi ke piyaale mein pilaa taaza sharaab
jism hone lagaa be-kaar koi masti ho

Nadeem Bhabha
Nadeem Bhabha
Nadeem Bhabha
Popular Shayari
45 totalkhudaa ki tarah koi aadmi bhi hai shaayad
nazar jo aataa nahin aas-paas ho kar bhi
mohabbat, hijr, nafrat mil chuki hai
main taqriban mukammal ho chukaa huun
ham ghulaami ko muqaddar ki tarah jaante hain
ham tiri jiit tiri maat se nikle hue hain
kuchh is liye bhi akelaa saa ho gayaa huun 'nadim'
sabhi ko dost banaayaa hai dushmani nahin ki
aur koi pahchaan miri banti hi nahin
jaante hain sab log ki bas teraa huun main
mohabbat ne akelaa kar diyaa hai
main apni zaat mein ik qaafila thaa
saare savaal aasaan hain mushkil ek javaab
ham bhi ek javaab hain koi savaal kare
bad-nasibi ki ishq kar ke bhi
koi dhoka nahin huaa mire saath
dil mubtalaa-e-hijr rifaaqat mein rah gayaa
lagtaa hai koi farq mohabbat mein rah gayaa
dil se ik yaad bhulaa di gai hai
kisi ghaflat ki sazaa di gai hai
ek rumaal aansuon se bharaa
aur ik khat jalaa huaa mire paas
Ghazalغزل
دل سے اک یاد بھلا دی گئی ہے کسی غفلت کی سزا دی گئی ہے میں نے منزل کی دعا مانگی تھی میری رفتار بڑھا دی گئی ہے عیب دیوار کے ہوں گے ظاہر میری تصویر ہٹا دی گئی ہے میں نے اک دل پہ حکومت کیا کی مجھے تلوار تھما دی گئی ہے اب محبت کا سبب ہے وحشت ورنہ حسرت تو مٹا دی گئی ہے اب یہاں سے نہیں جا سکتا کوئی اب یہاں شمع جلا دی گئی ہے مجھ میں اب پھول نہیں نہیں کھل سکتے میری اب خاک اڑا دی گئی ہے اس لئے جم کے یہاں بیٹھا ہوں مجھ کو میری ہی جگہ دی گئی ہے
dil se ik yaad bhulaa di gai hai
کہنے لگے درخت سہارا کوئی تو ہو وہ دھوپ پڑ رہی ہے کہ سایہ کوئی تو ہو سوچا تھا کٹ ہی جائے گی تنہا تمام عمر لیکن تمام عمر خدارا کوئی تو ہو اک عمر تجھ سے مل نہ سکے اور ایک عمر یہ سوچتے کٹی کہ بہانہ کوئی تو ہو تنہائی اس قدر ہے کہ عادت سی ہو گئی ہر وقت کہتے رہنا ہمارا کوئی تو ہو کچھ اس لیے بھی مجھ کو محبت ہے تم سے دوست میرا کوئی نہیں ہے تمہارا کوئی تو ہو کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی نہیں کمرے میں آج میرے علاوہ کوئی تو ہو
kahne lage darakht sahaaraa koi to ho
حالت حال میں آداب نہیں بھولتا میں خود کو بھولوں بھی تو احباب نہیں بھولتا میں میں ابھی عشق نہیں حالت ایمان میں ہوں جنگ کرتے ہوئے اسباب نہیں بھولتا میں جذب کرتی ہوئی خلقت سے محبت ہے مجھے چاند کو چھوڑیئے تالاب نہیں بھولتا میں اے مجھے خواب دکھاتے ہوئے لوگو سن لو میرا دکھ یہ ہے کوئی خواب نہیں بھولتا میں پارسائی نہیں تنہائی میسر تھی وہاں سو ترے منبر و محراب نہیں بھولتا میں
haalat-e-haal mein aadaab nahin bhultaa main
رابطہ مجھ سے مرا جوڑ دیا کرتا تھا وہ جو اک شخص مجھے چھوڑ دیا کرتا تھا مجھے دریا، کبھی صحرا کے حوالے کر کے وہ کہانی کو نیا موڑ دیا کرتا تھا اس سے آگے تو محبت سے گلہ ہے مجھ کو تو تو بس ہات مرا چھوڑ دیا کرتا تھا بات پیڑوں کی نہیں، غم ہے پرندوں کا ندیمؔ گھونسلے جن کے کوئی توڑ دیا کرتا تھا
raabta mujh se miraa joD diyaa kartaa thaa
بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا وہ رشتہ ہم میں شاید جھوٹ کا تھا محبت نے اکیلا کر دیا ہے میں اپنی ذات میں اک قافلہ تھا مری آنکھوں میں بارش کی گھٹن تھی تمہارے پاؤں بادل چومتا تھا تمہاری ہی گلی کا واقعہ ہے میں پہلی بار جب تنہا ہوا تھا کھجوروں کے درختوں سے بھی اونچا مرے دل میں تمہارا مرتبہ تھا محبت اس لئے بھی کی گئی تھی ہمارا شعر کہنا مسئلہ تھا مجھے اک پھول نے سمجھائی دنیا جو تیرے سبز باغوں میں کھلا تھا ظہور آدم و حوا سے پہلے ہمارے واسطے سب کچھ نیا تھا زمیں پر جب زمینی مسئلے تھے تو بارش بھی مکمل واقعہ تھا قدم اٹھنے میں کتنی برکتیں تھیں اور ان ہاتھوں میں کیسا ذائقہ تھا پھر اس کے بعد رستے مر گئے تھے میں بس اک سانس لینے کو رکا تھا
bahut shiddat se jo qaaem huaa thaa
دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیا لگتا ہے کوئی فرق محبت میں رہ گیا اس گھر کے دو مکین تھے اک پیڑ اور میں یہ ہجر تو کسی کی شرارت میں رہ گیا اک بار منع کرتی ہوئی شام سے تو پوچھ جو بھی جدا ہوا وہ حقیقت میں رہ گیا ممکن تھا تجھ کو چھین ہی لیتا جہان سے لیکن میں کیا کروں میں محبت میں رہ گیا اب تو ہی میری خالی ہتھیلی کی لاج رکھ مجھ سے تو کوئی فرق عبادت میں رہ گیا تجھ پر ہے کوئی زعم نہ خود پر یقیں ندیمؔ کچھ دن کا ہم میں پیار تو عادت میں رہ گیا
dil mubtalaa-e-hijr rifaaqat mein rah gayaa





