SHAWORDS
Nusrat Gwaliari

Nusrat Gwaliari

Nusrat Gwaliari

Nusrat Gwaliari

poet
22Sher
22Shayari
8Ghazal

Sherشعر

See all 22

Popular Sher & Shayari

44 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

jhiil ke paar dhanak-rang samaan hai kaisaa

جھیل کے پار دھنک رنگ سماں ہے کیسا جھلملاتا ہوا وہ عکس وہاں ہے کیسا جلتے بجھتے ہوئے فانوس ہیں منظر منظر نقش در نقش وہ مٹ کر بھی عیاں ہے کیسا کتنے الفاظ و معانی کے ورق کھلتے ہیں میرے اندر یہ کتابوں کا جہاں ہے کیسا مجھ میں اب میری جگہ اور کوئی ہے شاید کچھ سمجھ میں نہیں آتا یہ گماں ہے کیسا شہر سے لوٹ کے گھر قرض چکانا ہے مجھے کیسے لکھوں کہ مرا حال یہاں ہے کیسا کس نے ڈالی ہے فضاؤں پہ یہ میلی چادر شب کے ماتھے پہ لہو رنگ نشاں ہے کیسا مٹھیاں بھیج کے ہم لوگ رہے ہیں کب سے دور تک آگ کا جنگل ہے سماں ہے کیسا میرے اجداد کے تو خواب یہاں دفن نہیں یہ حویلی یہ پر اسرار دھواں ہے کیسا قبریں بھی اس میں نہیں تاج محل کی صورت کوئی آباد نہیں ہے یہ مکاں ہے کیسا

غزل · Ghazal

naqsh-e-paa us ke raasta us kaa

نقش پا اس کے راستہ اس کا مڑ کے دیکھا تو کچھ نہ تھا اس کا مبتلا کر گیا عذابوں میں ایک کمزور فیصلہ اس کا اختیارات کم نہ تھے میرے میں نے چاہا نہیں برا اس کا کام تو اور ہی کسی کا تھا نام بد نام ہو گیا اس کا لوگ جس زہر سے ہلاک ہوئے کتنا میٹھا تھا ذائقہ اس کا جو مری ہار پر بہت خوش تھا اب ہے خود سے مقابلہ اس کا راہ کی ظلمتوں سے منزل تک اک اجالا ہے حوصلہ اس کا کون جانے وہ کیوں بھٹکتا رہا اس کو تو یاد تھا پتا اس کا اس کے قاتل بڑی عقیدت سے پوجتے ہیں مجسمہ اس کا توڑ کر مجھ سے رشتۂ امید کتنا نقصان ہو گیا اس کا غلطی ہو گئی سمجھنے میں چاہتا تھا میں فائدہ اس کا

غزل · Ghazal

mire ghubaar-e-safar kaa maaal raushan hai

مرے غبار سفر کا مآل روشن ہے شفق شفق ابھی نقش زوال روشن ہے صدائے گنبد تعبیر سن رہا ہوں میں فضائے خواب میں کرنوں کا جال روشن ہے وہ ایک فکریہ لمحہ اسی طرح ہے ابھی ترے جواب سے میرا سوال روشن ہے پرند کیوں نہ اڑائیں ہنسی اندھیروں کی مرے شجر کی ابھی ڈال ڈال روشن ہے سرور تیری رفاقت کا کم نہیں ہوتا تصورات میں رنگ وصال روشن ہے نہ کوئی بات ہے کہنے کی اور نہ سننے کی تمہارا مجھ پہ مرا تم پہ حال روشن ہے سوال راہ بدلنے کا ہے تو تم بدلو مری دلیل ہے واضح مثال روشن ہے جسے میں وقت کے صحرا میں پھینک آیا ہوں اسی چٹان پہ صدیوں کا حال روشن ہے دیے جلاتا ہوا بڑھ رہا ہے دست ہوا فضا مہیب ہے لیکن خیال روشن ہے شکاری اپنی جگہ مطمئن ہیں چپ سادھے پرندے دیکھ رہے ہیں کہ جال روشن ہے کسی اندھیرے کو خاطر میں تم نہیں لانا مرا چراغ بہ حد کمال روشن ہے یہ احتیاط سفر کا مقام ہے نصرتؔ یہاں سے وحشت پائے غزال روشن ہے

غزل · Ghazal

palak palak sail-e-gham 'ayaan hai na koi aahaT na koi halchal

پلک پلک سیل غم عیاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل کسک یہ کیسی درون جاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل ہماری بستی میں ہر طرف انقلاب نو کا عمل تھا جاری نہ جانے یہ کون سا جہاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل لہو اچھلنے کا شور جیسے فضا میں گونجا کبھی نہیں تھا یہ حکم شہر ستمگراں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل ہو صبح روشن کہ شام رنگیں کسی میں کوئی کشش نہیں ہے ہر ایک خواہش دھواں دھواں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل نئے زمانے کی میں بشارت کا منتظر ہوں مگر ابھی تک حیات ایسے رواں دواں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل ہجوم صوت و صدا سڑک پر جلوس بن کر نکل پڑا ہے سماعتوں کا یہ امتحاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل میں اپنے اندر جہاں چھپا ہوں کوئی نہ پہنچا وہاں ابھی تک سکوت ہر سمت بے کراں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل فضا کی رونق زمیں کی سج دھج قلم کی جنبش پہ منحصر ہے عجیب پابندیٔ زباں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل مرے تصور کی نیلگوں جھیل میں ایک تارا جہاں گرا تھا وہاں خموشی بلائے جاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل بڑھوں تو آگے دھوئیں کے بادل ہٹوں تو پیچھے بلاؤں کے دل یہ کیسا منظر یہاں وہاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل سکوت سینے میں ایسا کب تھا گماں بھی گزرے نہ دھڑکنوں کا خدا ہی جانے کہ دل کہاں ہے نہ کوئی آہٹ نہ کوئی ہلچل

غزل · Ghazal

kuchh aise phuul naagahaan havaa uDaa ke le gai

کچھ ایسے پھول ناگہاں ہوا اڑا کے لے گئی لگا کہ سارا گلستاں ہوا اڑا کے لے گئی مسافروں کے حوصلے بلند تھے بہت مگر تمام میل کے نشاں ہوا اڑا کے لے گئی بندھی ہوئی تھیں رسیوں سے ساحلوں پہ کشتیاں انہیں بھنور کے درمیاں ہوا اڑا کے لے گئی وہ پتا اپنی شاخ سے ذرا جدا ہوا ہی تھا نہ جانے پھر کہاں کہاں ہوا اڑا کے لے گئی یہ مانا نصرتؔ اس گلی میں آپ خود گئے نہیں تو کیا نصیب دشمناں ہوا اڑا کے لے گئی

غزل · Ghazal

lahu uchhaalte lamhon kaa silsila niklaa

لہو اچھالتے لمحوں کا سلسلہ نکلا مجھے پہنچنا کہاں تھا کہاں میں آ نکلا جہاں سفید گلابوں کا خواب تھا روشن وہاں سیاہ پہاڑوں کا سلسلہ نکلا بہاؤ تیز تھا دریا کا چند لمحوں میں مری نگاہ کی حد سے وہ دور جا نکلا طلسم ٹوٹا جب اس کے حسین لہجے کا مری امید کے برعکس فیصلہ نکلا نہ جانے کب سے میں اس کے قریب تھا لیکن بغور دیکھا تو صدیوں کا فاصلہ نکلا جو لمحہ لمحہ جدا کر رہا تھا خود سے مجھے مرے وجود کے اندر ہی وہ چھپا نکلا سمجھ رہے تھے جسے ہم برات کا منظر قریب جا کے جو دیکھا تو حادثہ نکلا

Similar Poets