SHAWORDS
Priyamvada Ilhan

Priyamvada Ilhan

Priyamvada Ilhan

Priyamvada Ilhan

poet
19Sher
19Shayari
13Ghazal

Sherشعر

See all 19

Popular Sher & Shayari

38 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

rahguzar ke saath ik hamraah bhi to chaahiye

رہ گزر کے ساتھ اک ہم راہ بھی تو چاہیے اور آغاز سفر کو چاہ بھی تو چاہیے ناز و انداز و ادا یہ عشق کے رہبر ہیں سب ہم کو اس طوفاں کی لیکن تھاہ بھی تو چاہیے آہ و گریہ سوگ ماتم شاعری میں کر کے نظم اپنی عیاری پہ اب کچھ واہ بھی تو چاہیے مصلحت اللہ کی کچھ ہوگی درد عشق میں ہے سکوں کی بات پر اللہ بھی تو چاہیے جیت ان کی ہے کہ جو کرتے نہیں اظہار درد ظلم کو سر چاہیے پر آہ بھی تو چاہیے کب تک آخر کرتے جائیں ہم یہ کار انتظار سال میں دو سال میں تنخواہ بھی تو چاہیے خودکشی اک آخری کوشش ہے زندہ رہنے کی خودکشی کرنے کو اک پرواہ بھی تو چاہیے

غزل · Ghazal

shahr mein kyaa udaas kartaa hai

شہر میں کیا اداس کرتا ہے شہر سارا اداس کرتا ہے یاد کرنے کے دکھ نہ تھے اتنے بھول جانا اداس کرتا ہے اس کی آنکھوں میں دیکھ لوں تو مجھے ایک دریا اداس کرتا ہے کچھ بھی کہنا نہ کہنے جیسا ہے کچھ بھی کہنا اداس کرتا ہے تو سمایا وجود میں ایسے تیرا ہونا اداس کرتا ہے

غزل · Ghazal

roz khud ko hi khafaa karte hain

روز خود کو ہی خفا کرتے ہیں خود پہ رہ رہ کے ہنسا کرتے ہیں ہم شکایت بھی کیا کرتے نہیں کون کہتا ہے وفا کرتے ہیں کون رہتا ہے ذرا سے دل میں لوگ ہستی میں رہا کرتے ہیں جان دینا بھی ہمارا فن ہے اور تو خود کو رہا کرتے ہیں کچھ رقیبوں سے گلہ یوں بھی نہیں ہم جو کہتے ہیں کیا کرتے ہیں

غزل · Ghazal

ek shai ko hazaar kaun kare

ایک شے کو ہزار کون کرے میں کو ہم میں شمار کون کرے اس جہاں کی گرانیاں توبہ سر پہ ان کو سوار کون کرے پھر بہاراں ہے پھر گل امید دل کو پھر بے قرار کون کرے زندہ رہنا یہاں غنیمت ہے اس خرابے میں پیار کون کرے گردش وقت لے گیا وہ ساتھ پھر یہاں انتظار کون کرے

غزل · Ghazal

ik sahaare pe jo sab baiThaa ho haare jaise

اک سہارے پہ جو سب بیٹھا ہو ہارے جیسے یار لگتے ہو بشر تم بھی ہمارے جیسے نہ کریں گے کوئی شکوہ نہ تقاضا تم سے ہوتے ہوتے ہوئے لو ہم بھی تمہارے جیسے تو نے دی ہے یہ مجھے کیسی حسیں بے رنگی سانجھ کے بال کوئی رات سنوارے جیسے زندگی کیا ہے نہیں تجھ کو ذرا بھی یہ خبر زندگی دریا ہے اور سب ہیں کنارے جیسے فکر ہوتی ہے بھرے دل سے جو دیکھوں تجھ کو کوئی سوتے ہوئے بچہ کو نہارے جیسے تو جو ہے ہی نہیں کیوں تجھ کو بناؤں ویسا منتظر شب کا تکے دن میں ستارے جیسے

غزل · Ghazal

dil lagaane ham chale the dil ke sau TukDe hue

دل لگانے ہم چلے تھے دل کے سو ٹکڑے ہوئے کیا کہیں اک عشق میں کار جنوں کتنے ہوئے ہم کو لگتا تھا نکل آئے ہیں سائے سے ترے لوگ لیکن پوچھتے ہیں کیا تھے تم کیسے ہوئے اب نہ کوئی آرزو ہے اور نہ وحشت ہی رہی اک گھڑی ہے اس کے کانٹوں سے ہیں بس لٹکے ہوئے ہم کو جو سننا تھا وہ بولا انہوں نے کس گھڑی ہوش ان کو بھی نہ تھا جب ہم بھی تھے بہکے ہوئے بیچ رستے میں کہا جب ہم سفر نے الوداع لوٹ کر ہم بھی چلے نقش قدم گنتے ہوئے

Similar Poets