tum to sirf ik diid ki hasrat pe barham ho gae
kam se kam puuri to sunte daastaan-e-aarzu

Qamar Jalalvi
Qamar Jalalvi
Qamar Jalalvi
Popular Shayari
45 totaldabaa ke qabr mein sab chal diye duaa na salaam
zaraa si der mein kyaa ho gayaa zamaane ko
kabhi kahaa na kisi se tire fasaane ko
na jaane kaise khabar ho gai zamaane ko
puchho na araq rukhsaaron se rangini-e-husn ko baDhne do
sunte hain ki shabnam ke qatre phulon ko nikhaaraa karte hain
vo chaar chaand falak ko lagaa chalaa huun 'qamar'
ki mere baa'd sitaare kaheinge afsaane
rusvaa karegi dekh ke duniyaa mujhe 'qamar'
is chaandni mein un ko bulaane ko jaae kaun
shaam ko aaoge tum achchhaa abhi hoti hai shaam
gesuon ko khol do suraj chhupaane ke liye
surme kaa til banaa ke rukh-e-laa-javaab mein
nuqta baDhaa rahe ho khudaa ki kitaab mein
roeinge dekh kar sab bistar ki har shikan ko
vo haal likh chalaa huun karvaT badal badal kar
'qamar' zaraa bhi nahin tum ko khauf-e-rusvaai
chale ho chaandni shab mein unhein bulaane ko
ab aage is mein tumhaaraa bhi naam aaegaa
jo hukm ho to yahin chhoD duun fasaane ko
agar aa jaae pahlu mein 'qamar' vo maah-e-kaamil bhi
do aalam jagmagaa uTTheinge dohri chaandni hogi
Ghazalغزل
آہ کو سمجھے ہو کیا دل سے اگر ہو جائے گی وہ تو وہ ان کے فرشتوں کو خبر ہو جائے گی پوری کیا موسیٰ تمنا طور پر ہو جائے گی تم اگر اوپر گئے نیچی نظر ہو جائے گی کیا ان آہوں سے شب غم مختصر ہو جائے گی یہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی آ تو جائیں گے وہ میری آہ پر تاثیر سے محفل دشمن میں رسوائی مگر ہو جائے گی کس سے پوچھیں گے وہ میرے رات کے مرنے کا حال تو بھی اب خاموش اے شمع سحر ہو جائے گی یہ بہت اچھا ہوا آئیں گے وہ پچھلے پہر چاندنی بھی ختم جب تک اے قمرؔ ہو جائے گی
aah ko samjhe ho kyaa dil se agar ho jaaegi
یوں تمہارے ناتوان شوق منزل بھر چلے کھائی ٹھوکر گر پڑے گر کر اٹھے اٹھ کر چلے چھوڑ کر بیمار کو یہ کیا قیامت کر چلے دم نکلنے بھی نہ پایا آپ اپنے گھر چلے ہو گیا صیاد برہم اے اسیران قفس بند اب یہ نالہ و فریاد ورنہ پر چلے کس طرح طے کی ہے منزل عشق کی ہم نے نہ پوچھ تھک گئے جب پاؤں تیرا نام لے لے کر چلے آ رہے ہیں اشک آنکھوں میں اب اے ساقی نہ چھیڑ بس چھلکنے کی کسر باقی ہے ساغر بھر چلے جب بھی خالی ہاتھ تھے اور اب بھی خالی ہاتھ ہیں لے کے ہم دنیا میں کیا آئے تھے کیا لے کر چلے حسن کو غمگین دیکھے عشق یہ ممکن نہیں روک لے اے شمع آنسو اب پتنگے مر چلے اس طرف بھی اک نظر ہم بھی کھڑے ہیں دیر سے مانگنے والے تمہارے در سے جھولی بھر چلے اے قمرؔ شب ختم ہونے کو ہے چھوڑو انتظار ساحل شب سے ستارے بھی کنارہ کر چلے
yuun tumhaare naa-tavaan-e-shauq manzil bhar chale
کرتے بھی کیا حضور نہ جب اپنے گھر ملے دشمن سے ہم کبھی نہ ملے تھے مگر ملے بلبل پہ ایسی برق گری آندھیوں کے ساتھ گھر کا پتہ چلا نہ کہیں بال و پر ملے ان سے ہمیں نگاہ کرم کی امید کیا آنکھیں نکال لیں جو نظر سے نظر ملے وعدہ غلط پتے بھی بتائے ہوئے غلط تم اپنے گھر ملے نہ رقیبوں کے گھر ملے افسوس ہے یہی مجھے فصل بہار میں میرا چمن ہو اور مجھی کو نہ گھر ملے چاروں طرف ہے شمع محبت کی روشنی پروانے ڈھونڈ ڈھونڈ کے لائی جدھر ملے
karte bhi kyaa huzur na jab apne ghar mile
اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہو گیا اے بت خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہو گیا اب تو چپ ہو باغ میں نالوں سے محشر ہو گیا یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہو گیا التماس قتل پر کہتے ہو فرصت ہی نہیں اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہو گیا محفل دشمن میں جو گزری وہ میرے دل سے پوچھ ہر اشارہ جنبش ابرو کا خنجر ہو گیا آشیانے کا بتائیں کیا پتہ خانہ بدوش چار تنکے رکھ لئے جس شاخ پر گھر ہو گیا حرص تو دیکھو فلک بھی مجھ پہ کرتا ہے ستم کوئی پوچھے تو بھی کیا ان کے برابر ہو گیا سوختہ دل میں نہ ملتا تیر کو خوں اے قمرؔ یہ بھی کچھ مہماں کی قسمت سے میسر ہو گیا
ab to munh se bol mujh ko dekh din bhar ho gayaa
حکم صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار ساری دنیا کہے بلبل نہ کہے ہائے بہار صبح گلگشت کو جاتے ہو کہ شرمائے بہار کیا یہ مطلب ہے گلستاں سے نکل جائے بہار منہ سے کچھ بھی دم رخصت نہ کہا بلبل نے صرف صیاد نے اتنا تو سنا ہائے بہار یہ بھی کچھ بات ہوئی گل ہنسے تم روٹھ گئے اس پہ یہ ضد کہ ابھی خاک میں مل جائے بہار تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھول صدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہار
hukm-e-sayyaad hai taa-khatm-e-tamaashaa-e-bahaar
دیکھتے ہیں رقص میں دن رات پیمانے کو ہم ساقیا راس آ گئے ہیں تیرے مے خانے کو ہم لے کے اپنے ساتھ اک خاموش دیوانے کو ہم جا رہے ہیں حضرت ناصح کو سمجھانے کو ہم یاد رکھیں گے تمہاری بزم میں آنے کو ہم بیٹھنے کے واسطے اغیار اٹھ جانے کو ہم حسن مجبور ستم ہے عشق مجبور وفا شمع کو سمجھائیں یا سمجھائیں پروانے کو ہم رکھ کے تنکے ڈر رہے ہیں کیا کہے گا باغباں دیکھتے ہیں آشیاں کی شاخ جھک جانے کو ہم الجھنیں طول شب فرقت کی آگے آ گئیں جب کبھی بیٹھے کسی کی زلف سلجھانے کو ہم راستے میں رات کو مڈبھیڑ ساقی کچھ نہ پوچھ مڑ رہے تھے شیخ جی مسجد کو بت خانے کو ہم شیخ جی ہوتا ہے اپنا کام اپنے ہاتھ سے اپنی مسجد کو سنبھالیں آپ بت خانے کو ہم دو گھڑی کے واسطے تکلیف غیروں کو نہ دے خود ہی بیٹھے ہیں تری محفل سے اٹھ جانے کو ہم آپ قاتل سے مسیحا بن گئے اچھا ہوا ورنہ اپنی زندگی سمجھے تھے مر جانے کو ہم سن کے شکوہ حشر میں کہتے ہو شرماتے نہیں تم ستم کرتے پھرو دنیا پہ شرمانے کو ہم اے قمرؔ ڈر تو یہ ہے اغیار دیکھیں گے انہیں چاندنی شب میں بلا لائیں بلا لانے کو ہم
dekhte hain raqs mein din raat paimaane ko ham





