ye havaaein uD na jaaein le ke kaaghaz kaa badan
dosto mujh par koi patthar zaraa bhaari rakho

Rahat Indori
Rahat Indori
Rahat Indori
Popular Shayari
46 totalmain aa kar dushmanon mein bas gayaa huun
yahaan hamdard hain do-chaar mere
botalein khol kar to pi barson
aaj dil khol kar bhi pi jaae
us ki yaad aai hai saanso zaraa aahista chalo
dhaDkanon se bhi ibaadat mein khalal paDtaa hai
shaakhon se TuuT jaaein vo patte nahin hain ham
aandhi se koi kah de ki auqaat mein rahe
dosti jab kisi se ki jaae
dushmanon ki bhi raae li jaae
ham se pahle bhi musaafir kai guzre honge
kam se kam raah ke patthar to haTaate jaate
nae kirdaar aate jaa rahe hain
magar naaTak puraanaa chal rahaa hai
bahut ghurur hai dariyaa ko apne hone par
jo meri pyaas se uljhe to dhajjiyaan uD jaaein
roz taaron ko numaaish mein khalal paDtaa hai
chaand paagal hai andhere mein nikal paDtaa hai
vo chaahtaa thaa ki kaasa kharid le meraa
main us ke taaj ki qimat lagaa ke lauT aayaa
main mar jaaun to meri ek alag pahchaan likh denaa
lahu se meri peshaani pe hindustaan likh denaa
Ghazalغزل
گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو اس مسافر کو تو رستے میں ٹھہر جانا ہے موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار میں یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جانا ہے نشہ ایسا تھا کہ مے خانے کو دنیا سمجھا ہوش آیا تو خیال آیا کہ گھر جانا ہے مرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر میرے جذبے کو مرے ساتھ ہی مر جانا ہے
ghar se ye soch ke niklaa huun ki mar jaanaa hai
بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے اللہ برکتوں سے نوازے گا عشق میں ہے جتنی پونجی پاس لگا دینی چاہیے دل بھی کسی فقیر کے حجرے سے کم نہیں دنیا یہیں پہ لا کے چھپا دینی چاہیے میں خود بھی کرنا چاہتا ہوں اپنا سامنا تجھ کو بھی اب نقاب اٹھا دینی چاہیے میں پھول ہوں تو پھول کو گلدان ہو نصیب میں آگ ہوں تو آگ بجھا دینی چاہیے میں تاج ہوں تو تاج کو سر پر سجائیں لوگ میں خاک ہوں تو خاک اڑا دینی چاہیے میں جبر ہوں تو جبر کی تائید بند ہو میں صبر ہوں تو مجھ کو دعا دینی چاہیے میں خواب ہوں تو خواب سے چونکایئے مجھے میں نیند ہوں تو نیند اڑا دینی چاہیے سچ بات کون ہے جو سر عام کہہ سکے میں کہہ رہا ہوں مجھ کو سزا دینی چاہیے
bimaar ko maraz ki davaa deni chaahiye
اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے راہ میں تیرگی ہوگی مرے آنسو رکھ لے تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے وہ کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں ہاں اگر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے تجھ کو ان دیکھی بلندی میں سفر کرنا ہے احتیاطاً مری ہمت مرے بازو رکھ لے مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے
ise saamaan-e-safar jaan ye jugnu rakh le
نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا تمام پھول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں وہ جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا خموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا تو ہم پہ موت کا احسان بھی نہیں ہوتا
nae safar kaa jo elaan bhi nahin hotaa
اپنے دیوار و در سے پوچھتے ہیں گھر کے حالات گھر سے پوچھتے ہیں کیوں اکیلے ہیں قافلے والے ایک اک ہم سفر سے پوچھتے ہیں کیا کبھی زندگی بھی دیکھیں گے بس یہی عمر بھر سے پوچھتے ہیں جرم ہے خواب دیکھنا بھی کیا رات بھر چشم تر سے پوچھتے ہیں یہ ملاقات آخری تو نہیں ہم جدائی کے ڈر سے پوچھتے ہیں زخم کا نام پھول کیسے پڑا تیرے دست ہنر سے پوچھتے ہیں کتنے جنگل ہیں ان مکانوں میں بس یہی شہر بھر سے پوچھتے ہیں یہ جو دیوار ہے یہ کس کی ہے ہم ادھر وہ ادھر سے پوچھتے ہیں ہیں کنیزیں بھی اس محل میں کیا شاہ زادوں کے ڈر سے پوچھتے ہیں کیا کہیں قتل ہو گیا سورج رات سے رات بھر سے پوچھتے ہیں کون وارث ہے چھاؤں کا آخر دھوپ میں ہم سفر سے پوچھتے ہیں یہ کنارے بھی کتنے سادہ ہیں کشتیوں کو بھنور سے پوچھتے ہیں وہ گزرتا تو ہوگا اب تنہا ایک اک رہ گزر سے پوچھتے ہیں
apne divaar-o-dar se puchhte hain
کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں اور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیں آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں دیکھیے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کی آج کل شہر کے بیمار مطب کرتے ہیں خود کو پتھر سا بنا رکھا ہے کچھ لوگوں نے بول سکتے ہیں مگر بات ہی کب کرتے ہیں ایک اک پل کو کتابوں کی طرح پڑھنے لگے عمر بھر جو نہ کیا ہم نے وہ اب کرتے ہیں
kaam sab ghair-zaruri hain jo sab karte hain





