SHAWORDS
Rahat Indori

Rahat Indori

Rahat Indori

Rahat Indori

poet
46Shayari
28Ghazal

Popular Shayari

46 total

Ghazalغزل

See all 28
غزل · Ghazal

گھر سے یہ سوچ کے نکلا ہوں کہ مر جانا ہے اب کوئی راہ دکھا دے کہ کدھر جانا ہے جسم سے ساتھ نبھانے کی مت امید رکھو اس مسافر کو تو رستے میں ٹھہر جانا ہے موت لمحے کی صدا زندگی عمروں کی پکار میں یہی سوچ کے زندہ ہوں کہ مر جانا ہے نشہ ایسا تھا کہ مے خانے کو دنیا سمجھا ہوش آیا تو خیال آیا کہ گھر جانا ہے مرے جذبے کی بڑی قدر ہے لوگوں میں مگر میرے جذبے کو مرے ساتھ ہی مر جانا ہے

ghar se ye soch ke niklaa huun ki mar jaanaa hai

غزل · Ghazal

بیمار کو مرض کی دوا دینی چاہیے میں پینا چاہتا ہوں پلا دینی چاہیے اللہ برکتوں سے نوازے گا عشق میں ہے جتنی پونجی پاس لگا دینی چاہیے دل بھی کسی فقیر کے حجرے سے کم نہیں دنیا یہیں پہ لا کے چھپا دینی چاہیے میں خود بھی کرنا چاہتا ہوں اپنا سامنا تجھ کو بھی اب نقاب اٹھا دینی چاہیے میں پھول ہوں تو پھول کو گلدان ہو نصیب میں آگ ہوں تو آگ بجھا دینی چاہیے میں تاج ہوں تو تاج کو سر پر سجائیں لوگ میں خاک ہوں تو خاک اڑا دینی چاہیے میں جبر ہوں تو جبر کی تائید بند ہو میں صبر ہوں تو مجھ کو دعا دینی چاہیے میں خواب ہوں تو خواب سے چونکایئے مجھے میں نیند ہوں تو نیند اڑا دینی چاہیے سچ بات کون ہے جو سر عام کہہ سکے میں کہہ رہا ہوں مجھ کو سزا دینی چاہیے

bimaar ko maraz ki davaa deni chaahiye

غزل · Ghazal

اسے سامان سفر جان یہ جگنو رکھ لے راہ میں تیرگی ہوگی مرے آنسو رکھ لے تو جو چاہے تو ترا جھوٹ بھی بک سکتا ہے شرط اتنی ہے کہ سونے کی ترازو رکھ لے وہ کوئی جسم نہیں ہے کہ اسے چھو بھی سکیں ہاں اگر نام ہی رکھنا ہے تو خوشبو رکھ لے تجھ کو ان دیکھی بلندی میں سفر کرنا ہے احتیاطاً مری ہمت مرے بازو رکھ لے مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھے مرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے

ise saamaan-e-safar jaan ye jugnu rakh le

غزل · Ghazal

نئے سفر کا جو اعلان بھی نہیں ہوتا تو زندہ رہنے کا ارمان بھی نہیں ہوتا تمام پھول وہی لوگ توڑ لیتے ہیں وہ جن کے کمروں میں گلدان بھی نہیں ہوتا خموشی اوڑھ کے سوئی ہیں مسجدیں ساری کسی کی موت کا اعلان بھی نہیں ہوتا وبا نے کاش ہمیں بھی بلا لیا ہوتا تو ہم پہ موت کا احسان بھی نہیں ہوتا

nae safar kaa jo elaan bhi nahin hotaa

غزل · Ghazal

اپنے دیوار و در سے پوچھتے ہیں گھر کے حالات گھر سے پوچھتے ہیں کیوں اکیلے ہیں قافلے والے ایک اک ہم سفر سے پوچھتے ہیں کیا کبھی زندگی بھی دیکھیں گے بس یہی عمر بھر سے پوچھتے ہیں جرم ہے خواب دیکھنا بھی کیا رات بھر چشم تر سے پوچھتے ہیں یہ ملاقات آخری تو نہیں ہم جدائی کے ڈر سے پوچھتے ہیں زخم کا نام پھول کیسے پڑا تیرے دست ہنر سے پوچھتے ہیں کتنے جنگل ہیں ان مکانوں میں بس یہی شہر بھر سے پوچھتے ہیں یہ جو دیوار ہے یہ کس کی ہے ہم ادھر وہ ادھر سے پوچھتے ہیں ہیں کنیزیں بھی اس محل میں کیا شاہ زادوں کے ڈر سے پوچھتے ہیں کیا کہیں قتل ہو گیا سورج رات سے رات بھر سے پوچھتے ہیں کون وارث ہے چھاؤں کا آخر دھوپ میں ہم سفر سے پوچھتے ہیں یہ کنارے بھی کتنے سادہ ہیں کشتیوں کو بھنور سے پوچھتے ہیں وہ گزرتا تو ہوگا اب تنہا ایک اک رہ گزر سے پوچھتے ہیں

apne divaar-o-dar se puchhte hain

غزل · Ghazal

کام سب غیر ضروری ہیں جو سب کرتے ہیں اور ہم کچھ نہیں کرتے ہیں غضب کرتے ہیں آپ کی نظروں میں سورج کی ہے جتنی عظمت ہم چراغوں کا بھی اتنا ہی ادب کرتے ہیں ہم پہ حاکم کا کوئی حکم نہیں چلتا ہے ہم قلندر ہیں شہنشاہ لقب کرتے ہیں دیکھیے جس کو اسے دھن ہے مسیحائی کی آج کل شہر کے بیمار مطب کرتے ہیں خود کو پتھر سا بنا رکھا ہے کچھ لوگوں نے بول سکتے ہیں مگر بات ہی کب کرتے ہیں ایک اک پل کو کتابوں کی طرح پڑھنے لگے عمر بھر جو نہ کیا ہم نے وہ اب کرتے ہیں

kaam sab ghair-zaruri hain jo sab karte hain

Similar Poets