SHAWORDS
Saghar Siddiqui

Saghar Siddiqui

Saghar Siddiqui

Saghar Siddiqui

poet
44Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

44 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

جھوم کر گاؤ میں شرابی ہوں رقص فرماؤ میں شرابی ہوں ایک سجدہ بنام مے خانہ دوستو آؤ میں شرابی ہوں لوگ کہتے ہیں رات بیت چکی مجھ کو سمجھاؤ میں شرابی ہوں آج ان ریشمی گھٹاؤں کو یوں نہ بکھراؤ میں شرابی ہوں حادثے روز ہوتے رہتے ہیں بھول بھی جاؤ میں شرابی ہوں مجھ پہ ظاہر ہے آپ کا باطن منہ نہ کھلواؤ میں شرابی ہوں

jhuum kar gaao main sharaabi huun

غزل · Ghazal

تاروں سے میرا جام بھرو میں نشے میں ہوں اے ساکنان خلد سنو میں نشے میں ہوں کچھ پھول کھل رہے ہیں سر شاخ مے کدہ تم ہی ذرا یہ پھول چنو میں نشے میں ہوں ٹھہرو ابھی تو صبح کا مارا ہے ضو فشاں دیکھو مجھے فریب نہ دو میں نشے میں ہوں نشہ تو موت ہے غم ہستی کی دھوپ میں بکھرا کے زلف ساتھ چلو میں نشے میں ہوں میلہ یوں ہی رہے یہ سر رہ گزار زیست اب جام سامنے ہی رکھو میں نشے میں ہوں پائل چھنک رہی ہے نگار خیال کی کچھ اہتمام رقص کرو میں نشے میں ہوں میں ڈگمگا رہا ہوں بیابان ہوش میں میرے ابھی قریب رہو میں نشے میں ہوں ہے صرف اک تبسم رنگیں بہت مجھے ساغرؔ بہ دوش لالہ رخو میں نشے میں ہوں

taaron se meraa jaam bharo main nashe mein huun

غزل · Ghazal

چاندنی کو رسول کہتا ہوں بات کو با اصول کہتا ہوں جگمگاتے ہوئے ستاروں کو تیرے پاؤں کی دھول کہتا ہوں جو چمن کی حیات کو ڈس لے اس کلی کو ببول کہتا ہوں اتفاقاً تمہارے ملنے کو زندگی کا حصول کہتا ہوں آپ کی سانولی سی مورت کو ذوق یزداں کی بھول کہتا ہوں جب میسر ہوں ساغر و مینا برق پاروں کو پھول کہتا ہوں

chaandni ko rasul kahtaa huun

غزل · Ghazal

ہر شے ہے پر ملال بڑی تیز دھوپ ہے ہر لب پہ ہے سوال بڑی تیز دھوپ ہے چکرا کے گر نہ جاؤں میں اس تیز دھوپ میں مجھ کو ذرا سنبھال بڑی تیز دھوپ ہے دے حکم بادلوں کو خیاباں نشین ہوں جام و سبو اچھال بڑی تیز دھوپ ہے ممکن ہے ابر رحمت یزداں برس پڑے زلفوں کی چھاؤں ڈال بڑی تیز دھوپ ہے اب شہر آرزو میں وہ رعنائیاں کہاں ہیں گل کدے نڈھال بڑی تیز دھوپ ہے سمجھی ہے جس کو سایۂ امید عقل خام ساغرؔ کا ہے خیال بڑی تیز دھوپ ہے

har shai hai pur-malaal baDi tez dhuup hai

غزل · Ghazal

ایک نغمہ ایک تارا ایک غنچہ ایک جام اے غم دوراں غم دوراں تجھے میرا سلام زلف آوارہ گریباں چاک گھبرائی نظر ان دنوں یہ ہے جہاں میں زندگانی کا نظام چند تارے ٹوٹ کر دامن میں میرے آ گرے میں نے پوچھا تھا ستاروں سے ترے غم کا مقام کہہ رہے ہیں چند بچھڑے رہروؤں کے نقش پا ہم کریں گے انقلاب جستجو کا اہتمام پڑ گئیں پیراہن صبح چمن پر سلوٹیں یاد آ کر رہ گئی ہے بے خودی کی ایک شام تیری عصمت ہو کہ ہو میرے ہنر کی چاندنی وقت کے بازار میں ہر چیز کے لگتے ہیں دام ہم بنائیں گے یہاں ساغرؔ نئی تصویر شوق ہم تخیل کے مجدد ہم تصور کے امام

ek naghma ek taaraa ek ghuncha ek jaam

غزل · Ghazal

ساقی کی اک نگاہ کے افسانے بن گئے کچھ پھول ٹوٹ کر مرے پیمانے بن گئے کاٹی جہاں تصور جاناں میں ایک شب کہتے ہیں لوگ اس جگہ بت خانے بن گئے جن پر نہ سائے زلف غزالاں کے پڑ سکے احساس کی نگاہ میں ویرانے بن گئے جو پی سکے نہ سرخ لبوں کی تجلیاں دنیا کے تجربات سے انجانے بن گئے ساغرؔ وہی مقام ہے اک منزل فراز اپنے بھی جس مقام پہ بیگانے بن گئے

saaqi ki ik nigaah ke afsaane ban gae

Similar Poets