SHAWORDS
Shad Azimabadi

Shad Azimabadi

Shad Azimabadi

Shad Azimabadi

poet
43Shayari
39Ghazal

Popular Shayari

43 total

Ghazalغزل

See all 39
غزل · Ghazal

کس پہ قابو جو تجھی پہ نہیں قابو اپنا کس سے امید ہمیں جب نہ ہوا تو اپنا جام مے دیکھ کے جاتا رہا قابو اپنا لڑکھڑاتا ہوں پکڑ لے کوئی بازو اپنا نکہت گل بہت اتراتی ہوئی پھرتی ہے وہ کہیں کھول بھی دیں طرۂ گیسو اپنا اس نے پھر کر بھی نہ دیکھا کہ یہ ہے کون بلا ہم کو تھا زعم کہ چل جائے گا جادو اپنا جس کو سمجھے ہو وہی چیز نہیں مدت سے ہم دکھا دیں گے کبھی چیر کے پہلو اپنا پر پرواز نکلنے دے قفس میں صیاد کام دے گا یہی ٹوٹا ہوا بازو اپنا مل گئے خاک میں در پر ترے اتنا بیٹھے اس ریاضت پہ بھی اب تک نہ ہوا تو اپنا غم نہیں جام طلاکار اٹھا رکھ ساقی کیا غرض ہم کو سلامت رہے چلو اپنا چوکڑی بھول کے منہ تکتے ہیں مجھ وحشی کے آکے اس پاؤں پہ سر رکھتے ہیں آہو اپنا کون اے طول شب غم ترا جھگڑا رکھے آج قصہ ہی کیے دیتے ہیں یکسو اپنا نکہت خلد بریں پھیل گئی کوسوں تک وہ نہا کر جو سکھانے لگے گیسو اپنا للہ الحمد کدورت نہیں رہنے پاتی منہ دھلا دیتا ہے ہر صبح کو آنسو اپنا شادی و غم کے رہیں گے یہی رگڑے جھگڑے قصہ جس وقت تلک ہوگا نہ یکسو اپنا غم میں پروانۂ مرحوم کے تھمتے نہیں اشک شمع اے شمع ذرا دیکھ تو منہ تو اپنا بے ادب مصحف رخسار پہ جھک پڑتے ہیں رکھئے شانوں پہ ذرا گھیر کے گیسو اپنا سینۂ تنگ سے گھبرا کے گیا دل تو گیا منہ دکھائے نہ مجھے اب یہ سیہ رو اپنا پھنسنے والا تھا پھنسا آ کے تری زلفوں میں دل بہ خدا اس میں نہیں جرم سر مو اپنا شام سے جیب میں اک تلخ دوا رکھی ہے آج قصہ ہی کیے دیتے ہیں یکسو اپنا وہم و ادراک و خیالات و دل و خواہش دل سب تو اپنے ہیں مگر کیوں نہیں قابو اپنا شادؔ سمجھاتے ہیں کیوں غیر لیا کیا ان کا چشم تر اپنی ہے جان اپنی ہے آنسو اپنا

kis pe qaabu jo tujhi pe nahin qaabu apnaa

غزل · Ghazal

کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا جو یہ کہتے ہیں ٹٹولے کوئی ایماں ان کا جستجو کے لیے نکلے گا جو خواہاں ان کا گھر بتا دے گا کوئی مرد مسلماں ان کا تو نے دیدار کا جن جن سے کیا ہے وعدہ ہائے رے ان کی خوشی ہائے رے ارماں ان کا اپنے مٹنے کا سبب میں بھی بتا دوں اے شوق کاش چھو جائے مری خاک سے داماں ان کا چھوڑ کر آئے ہیں جو صبح وطن سی شے کو مرتبہ کچھ تو سمجھ شام غریباں ان کا جن کی آغوش تصور میں ہے وہ حور جمال کہیں سچ ہو نہ یہی خواب پریشاں ان کا جو اس الجھاؤ کے خود ہیں متمنی دل سے کیا بگاڑے گی تری زلف پریشاں ان کا سر میں سودائے خرد پاؤں میں زنجیر شکوک بھید پائے گا نہ اس شکل سے انساں ان کا ہم دعا دیں تجھے دل کھول کے اے پہلوئے تنگ ٹوٹ کر سینہ میں رہ جائے جو پیکاں ان کا چاک کرنے کا ہے الزام مرے سر ناحق ہاتھ ان کے ہیں ہم ان کے ہیں گریباں ان کا وہ مٹا کیوں نہیں دیتے مجھے حیرت تو یہ ہے ان کے کہنے میں ہے دل دل میں ہے ارماں ان کا ان شہیدان محبت میں تو میں صاف کہوں کوئی اتنا نہیں پکڑے جو گریباں ان کا وہی ایسے ہیں کہ خاموش ہیں سب کی سن کر سب کو دعوا ہے کہ ہوں بندۂ فرماں ان کا پہلے ہم نیت خالص سے وضو تو کر لیں ٹھہر اے خاک ٹھہر پاک ہے داماں ان کا چاہیں دوزخ میں اتاریں کہ جگہ خلد میں دیں دخل کیا غیر کو گھر ان کے ہیں مہماں ان کا کہیں پیوند کی کوشش کہیں تدبیر رفو جامۂ تن سے بہت تنگ ہے عریاں ان کا کیجیے شانہ و آئینہ کی حالت پہ نگاہ سینہ صدچاک کوئی ہے کوئی حیراں ان کا مان لو پاؤں سے زنجیر بھی اتری لیکن بھاگ کر جائے کہاں قیدئ زنداں ان کا جن شہیدوں نے بہ صد درد تڑپ کر دی جان چھن گیا ہاتھ سے جیتا ہوا میداں ان کا ہم تو کیا چیز ہیں جبریل تو جا لیں ان تک روک لیتا ہے فرشتوں کو بھی درباں ان کا مست جاتے ہیں خرابات سے مسجد کی طرف راہ پر شور ہے اللہ نگہباں ان کا ہم شب ہجر کے جاگے نہ قیامت میں اٹھیں جب تلک خواب سے چونکائے نہ ارماں ان کا وہم تو ہی خلل انداز ہوا ہے ورنہ کون جویا نہیں اے رہزن ایماں ان کا دن قیامت کا ڈھلا سب نے مرادیں پائیں رہ گیا دیکھ کے منہ تابع فرماں ان کا مرنے والوں کا اگر ساتھ دیا پورا کر لے جنازہ بھی اٹھا حسرت و ارماں ان کا حق جتاتے ہیں شہیدان محبت بے کار کیا یہ مرنا تھا بڑا کار نمایاں ان کا شادؔ گھبرا گیا اک عمر سے جیتے جیتے وہ بلا لیں مجھے اس وقت تو احساں ان کا

kaaba o dair mein jalva nahin yaksaan un kaa

غزل · Ghazal

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا چشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا داغ ہو یا سوز ہو یا درد و غم لے لیا خوش ہو کے جس نے جو دیا اشک ریزی کے دھڑلے نے غبار جب ذرا بھی دل پہ دیکھا دھو دیا دل کی پروا تک نہیں اے بے خودی کیا کیا پھینکا کہاں کس کو دیا کچھ نہ کچھ اس انجمن میں حسب حال تو نے قسام ازل سب کو دیا کشت دنیا کیا خبر کیا پھل ملے تخم غم ہم نے تو آ کر بو دیا یہ بھی نشہ مے کشو کچھ کم نہیں دے نہ دے ساقی پہ تم سمجھو دیا شادؔ کے آگے بھلا کیا ذکر یار نام ادھر آیا کہ اس نے رو دیا زمرۂ اہل قلم میں لکھ کے نام خود کو ناحق شادؔ تو نے کھو دیا

jab kisi ne haal puchhaa ro diyaa

غزل · Ghazal

تیری زلفیں غیر اگر سلجھائے گا آنکھ والوں سے نہ دیکھا جائے گا سب طرح کی سختیاں سہہ جائے گا کیوں دلا تو بھی کبھی کام آئے گا ایک دن ایسا بھی ناصح آئے گا غم کو میں اور غم مجھے کھا جائے گا اے فلک ایسا بھی اک دن آئے گا جب کیے پر اپنے تو پچھتائے گا وصل میں دھڑکا ہے ناحق ہجر کا وہ دن آئیں گے تجھے سمجھائے گا آ چکے احباب اٹھانے میری لاش ناز اس کو دیکھیے کب لائے گا چوٹ کھائے دل کا ماتم دار ہے میرا نالہ بھی تڑپتا جائے گا چھوڑ دے ہم وحشیوں کو اے غبار پیچھے پیچھے تو کہاں تک آئے گا منتظر ہے جان بر لب آمدہ دیکھیے کب پھر کے قاصد آئے گا ہجر میں نالے غنیمت جان لے پھر تو خود اے ضعف تو پچھتائے گا نیم کشتہ ہیں تو ہیں پھر کیا کریں کچھ اگر بولیں تو وہ شرمائے گا جوش وحشت تجھ پہ صدقے اپنی جان کون تلوے اس طرح سہلائے گا اور بھی تڑپا دیا غم خوار نے خود ہے وحشی کیا مجھے بہلائے گا راہرو تجھ سا کہاں اے خضر شوق کون تیری خاک پا کو پائے گا باغ میں کیا جائیں آتی ہے خزاں گل کا اترا منہ نہ دیکھا جائے گا میری جاں میں کیا کروں گا کچھ بتا جب تصور رات بھر تڑپائے گا کیوں نہ میں مشتاق ناصح کا رہوں نام تیرا اس کے لب پر آئے گا دل کے ہاتھوں روح اگر گھبرا گئی کون اس وحشی کو پھر بہلائے گا کھو گئے ہیں دونوں جانب کے سرے کون دل کی گتھیاں سلجھائے گا میں کہاں واعظ کہاں توبہ کرو جو نہ سمجھا خود وہ کیا سمجھائے گا تھک کے آخر بیٹھ جائے گا غبار کارواں منہ دیکھ کر رہ جائے گا دل کے ہاتھوں سے جو گھبراؤگے شادؔ کون اس وحشی کو پھر سمجھائے گا کم نہ سمجھو شوق کو اے شادؔ تم اک نہ اک بڑھ کے یہ آفت لائے گا ہے خزاں گل گشت کو جاؤ نہ شادؔ گریۂ شبنم نہ دیکھا جائے گا کچھ نہ کہنا شادؔ سے حال خزاں اس خبر کو سنتے ہی مر جائے گا

teri zulfein ghair agar suljhaaegaa

غزل · Ghazal

یہ رات بھیانک ہجر کی ہے کاٹیں گے بڑے آلام سے ہم ٹلنے کی نہیں یہ کالی بلا سمجھے ہوئے تھے شام سے ہم جب قیس پہاڑ اس سر سے ٹلے عید آئی تب آئی جان میں جان تا دیر عجب عالم میں رہے ہونٹوں کو ملائے جام سے ہم تھا موت کا کھٹکا جاں فرسا صد شکر کہ نکلا وہ کانٹا گر ہو نہ قیامت کا دھڑکا اب تو ہیں بڑے آرام سے ہم تامنزل جاناں ساتھ رہا کم بخت تصور غیروں کا شوق اپنے قدم کھینچا ہی کیا پلٹا ہی کیے ہر گام سے ہم الفت نے انہیں کی حق کی طرف پھیرا مرے دل کو شکر خدا تعمیر کریں مسجد کوئی کیونکر نہ بتوں کے نام سے ہم اے ہم نفسو دم لینے دو بھولے ہوئے نغمے یاد آ لیں آئے ہیں چمن میں اڑ کے ابھی چھوٹے ہیں اسی دم دام سے ہم باتوں میں گزرتے ہجر کے دن اے کاش کہ دونوں مل جاتے ہم سے ہے دل ناکام خفا آزردہ دل ناکام سے ہم یوں ان کے ادب یا خاطر سے ہر بات کو لے لیں اپنے سر جب دل ہے انہیں کے قابو میں پھر پاک ہیں ہر الزام سے ہم وہ سمجھے کہ ہم نے مار لیا ہم سمجھے ملیں گے آخر وہ ملتے ہی نگہ کے دونوں خوش آغاز سے وہ انجام سے ہم دنیا میں تخلص کوئی نہ تھا کیا نیل کا ٹیکا شادؔ ہی تھا تم وجہ نہ پوچھو کچھ اس کی چڑھ جاتے ہیں کیوں اس نام سے ہم

ye raat bhayaanak hijr ki hai kaaTeinge baDe aalaam se ham

غزل · Ghazal

فقط شور دل پر آرزو تھا نہ اپنے جسم میں ہم تھے نہ تو تھا ہر اک کے پاؤں پر جھکتے کٹی عمر نہ سمجھے ہم کہ کس قالب میں تو تھا جہاں پہنچے اسی کا نور پایا جدھر دیکھا وہی خورشید رو تھا جگہ دامن میں اپنے کیوں نہ دیتے کہ طفل اشک اپنا ہی لہو تھا کہوں کیا دل کی میں نازک مزاجی خدا بخشے نہایت تند خو تھا میں کیفیت کہوں کیا بزم مے کی کہ مینا ہاتھ میں آنکھوں میں تو تھا غش آیا اس نے تولی تیغ جب جب عجب ہلکا ہمارا بھی لہو تھا بہت ڈھونڈا کہیں پایا نہ ہم نے بتا دے یہ کہ کس گوشے میں تو تھا بچا قاتل کا دامن للہ الحمد بہت کھولا ہوا اپنا لہو تھا عدو تھے ساقیا سب مے کدے میں یہی اک آس تھی پلے پہ تو تھا لباس کہنہ جب تھا اپنا صدچاک تو پھر بے کار پیوند و رفو تھا غضب میں آ کے تجھ کو توڑتا شیخ نتیجہ بحث کا کیا اے سبو تھا تری تصویر تھے ہم بھی کسی وقت یہی نقشا ہمارا ہو بہو تھا نظر میں ہیچ تھا کونین ساقی لبالب جام تھا ہم تھے سبو تھا سزا لغزش کی پاتے بزم میں ہم خدا کو خیر کرنا تھا کہ تو تھا ہم اپنے ہوش میں باقی تھے ہر طرح مگر جب تو ہمارے روبرو تھا تجھی سے منہ پھلا لیتے عجب کیا صبا غنچوں کا بھی آخر نمو تھا چلے ہم باغ سے اے شادؔ کس وقت بہار آنے کو تھی گل کا نمو تھا

faqat shor-e-dil-e-pur-aarzu thaa

Similar Poets