dilaa us ki kaakul se rakh jama khaatir
pareshaan se haasil kab ik daam hogaa

Shah Naseer
Shah Naseer
Shah Naseer
Popular Shayari
95 totalai khaal-e-rukh-e-yaar tujhe Thiik banaataa
jaa chhoD diyaa haafiz-e-quraan samajh kar
ghurur-e-husn na kar jazba-e-zulekhaa dekh
kiyaa hai ishq ne yusuf ghulaam aashiq kaa
mullaa ki dauD jaise hai masjid talak 'nasir'
hai mast ki bhi khaana-e-khummaar tak pahunch
ishq hi donon taraf jalva-e-dildaar huaa
varna is hiir kaa raanjhe ko rijhaanaa kyaa thaa
shaikh-saahib ki namaaz-e-sahari ko hai salaam
husn-e-niyyat se musalle pe vazu TuuT gayaa
basaan-e-aaina ham ne to chashm vaa kar li
jidhar nigaah ki saaf us ko barmalaa dekhaa
vasl ki raat ham-nashin kyunki kaTi na puchh kuchh
barsar-e-sulh mein rahaa us pe bhi vo laDaa kiyaa
bisaan-e-chob-o-naqqaaraa hain khaar o aabla-paai
ba-vaadi-e-junun-angez naubat-khaana rakhte hain
kam nahin hai afsar-shaahi se kuchh taaj-e-gadaa
gar nahin baavar tujhe munim to donon tol taaj
kaabe se gharaz us ko na but-khaane se matlab
aashiq jo tiraa hai na idhar kaa na udhar kaa
dud-e-aah-e-jigari kaam na aayaa yaaro
varna ru-e-shab-e-hijr aur bhi kaalaa kartaa
Ghazalغزل
گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہے شکل سایہ کے مجھے ساتھ لگا لیتا ہے گو ملاقات نہیں عالم بیداری میں خواب میں پر وہ ہمیں ساتھ سلا لیتا ہے اشک کو ٹک بن مژگاں میں ٹھہرنے دے دلا یہ ترا دیکھ تو ہاں دیکھ تو کیا لیتا ہے راہیٔ ملک عدم سے نہ کر اتنی کاوش دم مسافر یہ تہ نخل ذرا لیتا ہے شیشۂ دل میں مرے تیرے خیال خط سے آ گیا بال ہے تو مول اسے کیا لیتا ہے یہ مثل اے بت مے نوش سنی ہے کہ نہیں لے ہے برتن جو کوئی اس کو بجا لیتا ہے تو وہ ہے نام خدا اے بت کافر کہ ترے زاہد گوشہ نشیں بھی قدم آ لیتا ہے دل پہ تلوار سی کچھ لگتی ہے جب غیر کو تو پاس ابرو کے اشارے سے بلا لیتا ہے کیوں نہ پھولے دل صد چاک ہمارا یارو گل سمجھ کر وہ اسے سر پہ چڑھا لیتا ہے موج دریا تو کب اٹکھیلی سے یوں چلتی ہے پر تری کبک دری چال اڑا لیتا ہے زلف مشکیں کو نہ چھیڑ اس کی دلا مان کہا اپنے کیوں سر پہ بلا اہل خطا لیتا ہے ہوک سی اٹھتی ہے کچھ دل میں مرے آہ نصیرؔ جب وہ پہلو میں رقیبوں کو بٹھا لیتا ہے
go siyah-bakht huun par yaar lubhaa letaa hai
غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہ بحر حسن کے ہیں یہ بھنور دو کان کا بالا زلف کا حلقہ ہالۂ مہ پہنچے ہے نہ اس کو نے خط ساغر اس کو لگے ہے آئینہ تم لے کر دیکھو کان کا بالا زلف کا حلقہ آہوئے دل اور طائر جاں کے حق میں یہ دونوں پھندے ہیں ہم کو دکھا کر تم نہ چھپاؤ کان کا بالا زلف کا حلقہ آج سوائے شانے کے یاں کس کا منہ ہے کون ہے ایسا چھوڑے تمہارے چہرے پر جو کان کا بالا زلف کا حلقہ دونوں تیرے عارض پر دن رات ملے یہ رہتے ہیں عینک مہر و ماہ نہ کیوں ہو کان کا بالا زلف کا حلقہ طیش زنی میں یہ عقرب ہے کالا ہے وہ کنڈلی مارے حضرت دل باز آؤ نہ چھیڑو کان کا بالا زلف کا حلقہ کس کو حصار حسن کہوں میں کس کو خط پرکار کہے دل منہ سے الٹ برقع کو دکھا دو کان کا بالا زلف کا حلقہ یہ ترے رخ کے بوسے لیں اور ترسیں مری آنکھیں اے وائے دیکھ کے کیوں رشک آئے نہ مجھ کو کان کا بالا زلف کا حلقہ آج زلیخا گر یہاں ہوتی دام کمند و چاہ میں پھنستی دیکھ مرے یوسف کا عزیزو کان کا بالا زلف کا حلقہ کیونکہ نصیرؔ ارباب سخن تحسیں نہ کریں سن کر یہ غزل جبکہ تم اس صورت سے باندھو کان کا بالا زلف کا حلقہ
gharq na kar dikhlaa kar dil ko kaan kaa baalaa zulf kaa halqa
دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیا دے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا کیوں سگ یار سے خجل مجھ کو پس از فنا کیا کھا گیا استخواں مرے تو نے یہ کیا ہما کیا زخم جگر سے دم بدم کب نہیں خوں بہا کیا تو بھی نہ قاتل اپنے سے دعویٔ خوں بہا کیا اس بت رشک گل نے جب بند قبا کو وا کیا اپنی نظر یہ غنچہ دو ہاتھ سے پھر ملا کیا کون سے دن نہ یار نے چشم کو سرمہ سا کیا کب نہ دل سیاہ بخت خاک میں تو ملا کیا دل بر شعلہ خو نے جب زلف کو رخ پہ وا کیا دل پہ میں سورۂ دخاں کرنے کو دم پڑھا کیا بادہ کشی کو ساقیا کس کی مجھے بتا حباب زور بھنور کے چاک پر ساغر مے بنا کیا وصل کی رات ہم نشیں کیونکہ کٹی نہ پوچھ کچھ برسر صلح میں رہا تس پہ بھی وہ لڑا کیا پائے نگار سے لپٹ چور بنی تو آپ کو ہی ہاتھ نہ کیوں ترے بندھیں کام یہ کیا حنا کیا دل کی جدائی کا کہوں کس سے میں ماجرائے غم سیل سرشک چشم تر شام و سحر بہا کیا شکل عصائے موسوی تھا تو وہ گیسوئے دراز پر اسے دست شانہ نے دے کے خم اور دوتا کیا زیب سر شہاں کبھی تو نے نہ دیکھا تیرہ بخت بال مگس نے کب دلا کار پر ہما کیا تار نفس الجھ گیا میرے گلو میں آ کے جب ناخن تیغ یار کو میں نے گرہ کشا کیا بوسۂ لب سے ایک دن اس کے ہوا نہ کامیاب دلبر بد زباں کی میں گالیاں ہی سنا کیا آ کے سلاسل اے جنوں کیوں نہ قدم لے بعد قیس اس کا بھی ہم نے سلسلہ از سر نو بپا کیا منہ تو نہ تھا یہ غیر کا اس کو کھلائے برگ پاں پر نہ مرا جو بس چلا خون جگر پیا کیا اس کی شکستگی کا غم کیوں نہ ہو مجھ کو ساقیا میری بغل میں آہ یاں شیشۂ دل رہا کیا تار نفس جدا کیا بربط تن سے میرے آہ کودک مطرب اور کیا تجھ کو کہوں بجا کیا کوہ کو کھینچتا جو تو کاہ ربا تو جانتے اک پر کاہ کو اٹھا ناز کیا تو کیا کیا کیوں ہو خضر رہ رواں خاک نشینی پہ مری جس نے بشکل نقش پا مجھ کو ہے رہ نما کیا شعلہ رخوں کے عشق نے کنج مزار میں بھی آہ سونے دیا نہ چین سے میں تو سدا جلا کیا مجھ کو ہے ہجر و وصل ایک اس کی خوشی نہ اس کا غم کیسی مصیبتوں کے دن بار خدا بھرا کیا وصل ہوا تو یہ ہوا مار سیاہ جان کر رات بھر اپنی زلف کے سائے سے وہ ڈرا کیا اور میں مدعا طلب عیش سے ناامید ہو شعلۂ شمع کی طرح سر کو پڑا دھنا کیا مدرکۂ بشر ہے کیا پائے جو اس کی کنہ کو چاہا جو اس نے سو کیا کون کہے کہ کیا کیا یعنی بنا کے چشم کو صورت شیشۂ حباب صاحب ظرف تھا جو دل جام جہاں نما کیا اپنی شرارتوں سے وہ باز نہ آیا اے نصیرؔ مجھ کو رلا کے ابر ساں برق نمط ہنسا کیا
dekh tu yaar-e-baada-kash! main ne bhi kaam kyaa kiyaa
تو ضد سے شب وصل نہ آیا تو ہوا کیا ہم مر نہ گئے دل کو کڑھایا تو ہوا کیا تصویر نہالی سے ہم آغوش رہے ہم گر آ کے نہ ساتھ اپنے سلایا تو ہوا کیا دیکھا ہی کیے تیرے تصور میں قمر کو گر تا سحر اے یار! جگایا تو ہوا کیا پھولوں کی رہی سیج جو خالی تو بلا سے انگاروں پہ گر ہم کو لٹایا تو ہوا کیا منہ لال ہوا غنچہ صفت خون جگر سے ہاتھوں سے ترے پان نہ کھایا تو ہوا کیا بہتر یہ ہوا نامہ و پیغام سے چھوٹے گر آپ نہ آیا نہ بلایا تو ہوا کیا دشمن کا اڑانے کو دھواں یہ بھی بہت ہیں غیروں کے سکھانے سے جلایا تو ہوا کیا مر جانے سے تو ہم رہے جوں پنجۂ مرجاں ہاتھ اپنا جو مہندی سے بندھایا تو ہوا کیا تو آپ ہی دیکھ انگلیوں کی فندقیں اودی جامن کے جو پودوں کو لگایا تو ہوا کیا دیکھا ہے بہت بھان متی کا یہ تماشا سرسوں کو ہتھیلی پہ جمایا تو ہوا کیا ہم سرو چمن دل کی ہر اک آہ کو سمجھے اپنا قد موزوں نہ دکھایا تو ہوا کیا ہم نے بھی محبت کو تری طاق پہ رکھا ابرو جو سوئے غیر ہلایا تو ہوا کیا یہ یاد رہے ہم بھی نہیں یاد کریں گے گر تو نے ہمیں دل سے بھلایا تو ہوا کیا مینا بہ بغل آبلۂ دل سے رہے ہم جام مے گل گوں نہ پلایا تو ہوا کیا دم اور ہی اک دوستی کا یار بھریں گے منہ جوں نئے قلیاں نہ لگایا تو ہوا کیا مت کہہ کہ تصور میں خط سبز کے میرے گر شاہؔ نصیرؔ اشک بہایا تو ہوا کیا ہے دلنے کو چھاتی پہ تری مونگ خط سبز گر زہر غم ہجر کھلایا تو ہوا کیا
tu zid se shab-e-vasl na aayaa to huaa kyaa
ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کا اور کہاں سے عاشق مفلس لائے یہ گہنہ پھولوں کا دیکھے ہے وہ صحن چمن میں جا کے تماشا پھولوں کا داغوں سے بن جائے یہ سینہ کاش کہ تختہ پھولوں کا کاش دل صد چاک یہ بن کر بیچنے والا پھولوں کا کوئے بتاں میں جا کے پکارے لو کوئی گجرا پھولوں کا حرف نہیں ہے دیدۂ تر ٹکڑوں سے جگر کے لائق پر سیل اشک کو دریا سمجھو اس کو نواڑا پھولوں کا صبح نہیں بے وجہ جلائے لالے نے گلشن میں چراغ دیکھ رخ گلنار صنم نکلا ہے وہ لالہ پھولوں کا مجھ کو نہ لے چل باد بہاری رنگ چمن ہے وحشت خیز جیب سے لے کر دامن تک سو ٹکڑے کرتا پھولوں کا تو نے لٹایا انگاروں پر صبح تلک اے وعدہ خلاف تیری خاطر ہم نے کیا تھا شب کو بچھونا پھولوں کا سلک سرشک سرخ زمیں تک تجھ کو دکھاوے مژگاں سے پھلجھڑی ایسی چھوڑ کوئی ہوں میں بھی لچھا پھولوں کا کان سے تیرے جھک جھک کر یہ لیتا ہے بوسے عارض کے یا تو ہمارے ٹکڑے کر یا توڑ یہ بالا پھولوں کا دھوپ میں اس کا ہائے قفس صیاد ستم ایجاد رکھے رہتا تھا جس مرغ چمن کے سر پر سایا پھولوں کا جھل کھائے اغیار نہ کیوں کر کل چلون سے ہات نکال مارا تھا اس پردہ نشیں نے مجھ کو پنکھا پھولوں کا عشق میں تیرے گل کھا کر جاں اپنی دی ہے نصیرؔ نے آہ اس کے سر مرقد پر گل رو لا کوئی دونا پھولوں کا
haar banaa in paaraa-e-dil kaa maang na gajraa phulon kaa
دل عشق خوش قداں میں جو خواہان نالہ تھا دیوانہ وار سلسلہ جنبان نالہ تھا نالے سے میرے کیا ہے ہوائی کو ہم سری تیر شہاب رات کو قربان نالہ تھا ڈھونڈوں نہ کیونکہ دل کو میں اے آہوان دشت سینے میں وہ تو شیر نیستان نالہ تھا کرتا تھا جن دنوں یہ فلک ہم سے سرکشی ناوک زنی کا آہ سے پیمان نالہ تھا عشق بتاں تھا دل سے جو دم ساز مثل نے ہر دم اثر میں تابع فرمان نالہ تھا صیاد کے جگر میں کرے تھا سناں کا کام مرغ قفس کے سر پہ یہ احسان نالہ تھا گاڑے فلک پہ کیا یہ دل ناتواں علم وہ دن گئے جو اوج فراوان نالہ تھا کل شب کو ذکر تھا جو کسی نیزہ باز کا عاشق کا تیرے چرخ ثنا خوان نالہ تھا یاروں کے قافلے کی مجھے جب کہ یاد تھی سینے میں جوں جرس مرے سامان نالہ تھا مت پوچھ واردات شب ہجر اے نصیرؔ میں کیا کہوں جو کار نمایان نالہ تھا لینے کو اختران فلک سے خراج و باج ہر آن شعلہ و شرر افشان نالہ تھا
dil ishq-e-khush-qadaan mein jo khvaahaan-e-naala thaa





